’یہ پہلا ڈرون ہے، اس کے بعد حملہ ہوتا ہے‘: بی بی سی نے یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فوج کے درمیان جنگ کے محاذِ پر کیا دیکھا؟

تعز شہر کے جنوب مغرب میں واقع پہاڑوں میں یہ بتانا مشکل ہے کہ محاذِ جنگ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ ہم تعز سے مختلف چوکیوں سے گزرتے ہوئے اس مقام تک گئے تاکہ لڑائی کو قریب سے دیکھا جا سکے۔
یمن
BBC

’یہ پہلا ڈرون ہے۔‘ جنوب مغربی یمن میں ہمارے ساتھ موجود ایک فوجی نے کہا۔ ’اس کے بعد عموماً حملہ ہوتا ہے۔‘

ہمارے اوپر آواز تیز ہوتی گئی اور ہم جھاڑیوں کے نیچے پناہ لینے پر مجبور ہو گئے، پھر دوبارہ گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے روانہ ہو گئے۔

تقریباً 10 منٹ کے اندر دھماکوں کی بلند آوازیں سنائی دینے لگیں، ایک کے بعد ایک، اگرچہ یہ واضح نہیں تھا کہ وہ کہاں گرے۔

تعز شہر کے جنوب مغرب میں واقع پہاڑوں میں یہ بتانا مشکل ہے کہ محاذِ جنگ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔

سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت نواز افواج حوثی جنگجوؤں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہیں، جنھوں نے اس ماہ کے آغاز میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے میں پیش قدمی کرتے ہوئے ایک اہم بحری گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کر لیا جس کے بعد یمن کی خانہ جنگی میں مزید شدت آئی۔

ہم تعز سے سرکاری افواج کے ساتھ مختلف چوکیوں سے گزرتے ہوئے اس مقام تک گئے جہاں ان کا کنٹرول ختم ہوتا ہے تاکہ لڑائی کو قریب سے دیکھا جا سکے۔

پہاڑی ڈھلوانوں پر مکانات میں سے بہت سے گھر خالی پڑے ہیں کیونکہ کئی خاندان لڑائی سے بچنے کے لیے وہاں سے فرار ہو چکے ہیں۔

یہاں ایک غیر معمولی خاموشی ہے، شہر میں مسلسل دوڑتی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی کوئی آواز سنائی نہیں دیتی۔

صرف مویشیوں کی آوازیں اور فائرنگ کی گونج سنائی دیتی ہے۔

’دو مارٹر گولے میری زمین پر گرے تھے‘ علی نے کہا، جو محاذِ جنگ سے تقریباً ایک کلومیٹر دور اپنے گھر کے باہر بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ بیٹھے تھے۔

علی مارٹر حملوں کے باوجود اپنی بکریوں کی دیکھ بھال کے لیے گھر میں مقیم ہیں۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کو بے گھر افراد کے لیے قائم ایک کیمپ بھجوا چکے ہیں کیونکہ وہ مزید گولہ باری اور فائرنگ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔

وہ اپنی بیوی اور بہنوں کے ساتھ جانوروں کی دیکھ بھال کے لیے وہیں رکے ہوئے ہیں۔

’میں خوف زدہ ہوں‘ انھوں نے کہا۔ ’لیکن میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں۔ اگر ہمارے جانور نہ رہے تو ہم سب بھوکے رہ جائیں گے اور ویسے بھی مر جائیں گے۔‘

انھوں نے صرف اپنا پہلا نام بتایا کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں حوثیوں نے اس علاقے پر قبضہ کر لیا تو نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔

حوثیوں کے ذرائع نے بتایا ہے کہ وہ ایک بڑے حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔

جب ہم نے سرکاری افواج سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ وہ اس سے آگاہ ہیں اور اپنی تیاری کر رہے ہیں۔

تعز
BBC
تعز یمن کا تیسرا بڑا شہر اور اس کا ثقافتی مرکز ہے، جہاں تقریباً دس لاکھ افراد رہتے ہیں۔ یہ شمالی یمن کے حوثی کنٹرول والے علاقوں اور جنوبی یمن کے سرکاری کنٹرول والے علاقوں کے درمیان ایک اہم سنگم پر واقع ہے۔

محاذِ جنگ سے قریب ترین چوکی پر ہماری ملاقات چند جنگجوؤں سے ہوئی جو ابھی ابھی پہاڑ کی بلندیوں پر موجود اپنی پوزیشنوں سے واپس آئے تھے، جہاں سے پیش قدمی کرتے ہوئے حوثی صرف چند سو میٹر کے فاصلے پر تھے۔

ان میں سے ایک نے بتایا کہ 18 سرکاری فوجیوں کی لاشیں ایسے علاقے میں پڑی ہیں جس پر ان کا یونٹ فائر تو کر سکتا ہے لیکن وہاں پہنچ نہیں سکتا۔

انھوں نے کہا ’ہم ان پر فائر کرتے ہیں، لیکن ہم انھیں نکال نہیں سکتے۔‘

10 ستمبر کو حوثیوں نے تعز سے 85 کلومیٹر مغرب میں واقع بحیرہ احمر کی اہم بندرگاہ مخا پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد تعز کے اطراف کی لڑائی میں شدت آ گئی۔ یہ قبضہ اس جنگ بندی کے ٹوٹنے کے بعد ہوا جو تقریباً چار برس تک بڑی حد تک برقرار رہی تھی۔

حوثی گروہ نے باب المندب آبنائے کے قریب وسیع علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا، جو یورپ اور ایشیا کو ملانے والی ایک نہایت اہم بحری گزرگاہ ہے۔

اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا کیونکہ خطے سے سپلائی میں مزید رکاوٹوں کے خدشات بڑھ گئے۔

تعز یمن کا تیسرا بڑا شہر اور اس کا ثقافتی مرکز ہے، جہاں تقریباً دس لاکھ افراد رہتے ہیں۔

یہ شمالی یمن کے حوثی کنٹرول والے علاقوں اور جنوبی یمن کے سرکاری کنٹرول والے علاقوں کے درمیان ایک اہم سنگم پر واقع ہے۔

سرکاری افواج تعز کے مرکزی حصے پر قابض ہیں جبکہ حوثیوں کی پوزیشنیں شہر کے شمال اور مشرق میں واقع ہیں۔

حالیہ شدید ترین لڑائی مغربی اطراف میں ہوئی ہے، جہاں دونوں فریق شہر کے جنوبی راستے پر نظر رکھنے والی بلند چوٹیوں کے لیے برسرپیکار ہیں۔

اگر حوثی ان علاقوں پر قبضہ مستحکم کر لیتے ہیں تو سرکاری افواج کے لیے مخا کو دوبارہ حاصل کرنا بہت زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

ہم جنوب میں واقع عدن سے تعز پہنچے، جہاں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ صدارتی قیادت کونسل اور حکومت قائم ہیں۔

راستے میں تقریباً 30 چوکیوں نے مختلف کمانڈروں کے زیر کنٹرول علاقوں کی نشاندہی کی، جو سرکاری جانب سے لڑنے والی افواج کے منتشر ڈھانچے کی واضح علامت تھیں۔

جوں جوں ہم شہر کے قریب پہنچے، ایمبولینسیں ہمارے پاس سے گزرنے لگیں۔

ہم نے صرف آدھے گھنٹے میں کم از کم پانچ ایمبولینسیں تعز کے مرکزی اسپتال کی جانب جاتے ہوئے دیکھیں۔

واضح تھا کہ ہم ایک ایسے شہر میں داخل ہو رہے ہیں جو ایک خونریز جنگ کے مرکز میں ہے۔

ہم اندھیرا ہونے کے بعد پہنچے۔ دکانوں میں روشنیاں تھیں، ریستوران بھرے ہوئے تھے اور بچے گلیوں میں کھیل رہے تھے۔

لیکن وقفے وقفے سے دیگر آوازیں بھی سنائی دیتی تھیں، شہر کے اطراف پہاڑوں سے آنے والی گولہ باری کی دھمک اور فائرنگ کی گونج۔

سعودی عرب کی قیادت میں قائم ایک بین الاقوامی اتحاد یمنی حکومت کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔

تعز ملک کی تباہ کن خانہ جنگی کا ایک بڑا محاذ رہا ہے۔

2015 میں صنعا سے حکومت کو بے دخل کرنے کے بعد حوثیوں نے تعز پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم مقامی ملیشیا نے انھیں شہر کے بیشتر حصوں سے نکال دیا تھا۔

اب اپنی تازہ کارروائی میں حوثی دیگر ہتھیاروں کے ساتھ وسیع پیمانے پر ڈرون بھی استعمال کر رہے ہیں۔

سعودی عرب، مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق ان کا بنیادی بیرونی معاون ایران ہے، جس نے اس گروہ کو اسلحہ، مالی مدد اور فوجی مشاورت فراہم کی ہے۔

تاہم ایران ماضی میں حوثیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کی تردید کرتا رہا ہے اور کہتا ہے کہ وہ ان کی صرف سیاسی حمایت کرتا ہے۔

کئی برسوں سے یہ اطلاعات مسلسل سامنے آتی رہی ہیں کہ حوثی کم عمر بچوں کو جنگجو کے طور پر بھرتی کرتے ہیں، اور ایک سرکاری فوجی نے ہمیں بتایا کہ اس کا سامنا محاذ پر ایسے بچوں سے ہوا ہے۔

انھوں نے کہا ’کسی یمنی بچے کو دیکھ کر اس پر گولی چلانا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن پھر وہ آپ کی طرف بندوق تانے ہوتا ہے اور آپ کو اپنا دفاع کرنا پڑتا ہے۔‘

2022 میں حوثیوں نے اقوام متحدہ کے ساتھ ایک ’ایکشن پلان‘ پر دستخط کیے تھے جس میں اس عمل کے خاتمے کا عہد کیا گیا تھا۔

بی بی سی نے سرکاری افواج کے ساتھ خدمات انجام دینے والے نوعمر لڑکوں سے بھی بات کی ہے۔

ادھر سعودی عرب کی قیادت میں ایک اتحاد یمنی حکومت کی حمایت کر رہا ہے اور اسے اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔

سعودی فوج نے بحیرہ احمر کے ساحل پر حوثیوں کی پوزیشنوں پر سینکڑوں فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ حوثیوں نے جنوب مغربی سعودی عرب کے شہروں اور بنیادی ڈھانچے پر ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔

12 سالہ غنا بکریاں چراتے ہوئے مارٹر حملے میں شدید زخمی ہو گئی تھیں۔

شام کے وقت تعز کے الثورہ اسپتال میں زخمیوں کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں لایا جا رہا تھا، جہاں ہماری نظر میں آنے والا ہر بستر بھرا ہوا تھا۔ کچھ مریض جنگجو تھے جبکہ بعض عام شہری۔

12 سالہ غنا نبیل بکریاں چرا رہی تھیں جب ان کے خاندان کا کہنا تھا کہ قریب ہی حوثیوں کا ایک مارٹر گولا گرا تھا۔

وہ بے ہوش حالت میں لیٹی ہوئی تھی، اس کے سر پر پٹیاں بندھی تھیں جبکہ چہرہ سوجا ہوا اور زخموں سے بھرا تھا۔

اس کا خاندان اس کے بستر کے پاس انتظار کر رہا تھا تاکہ معلوم ہو سکے کہ اگر وہ ہوش میں آئی تو اس کی زندگی کیسی ہو گی۔

ایک ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ اس چوٹ سے اس کا دماغ متاثر ہوا ہے۔ انھوں نے کہا ’وہ کبھی پہلے جیسی نہیں ہو سکے گی۔‘

اقوام متحدہ کے مطابق اس ماہ اب تک یمن میں لڑائی کے باعث 130,000 افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

تعز سے تقریباً 20 کلومیٹر جنوب میں واقع ایک کیمپ میں مخا اور جنگ سے متاثرہ دیہات سے فرار ہونے والے خاندان پہنچ رہے تھے۔ ہمیں بتایا گیا کہ گزشتہ 10 دنوں میں 200 خاندان وہاں آئے ہیں۔

مریم صالح، جو ان کا اصل نام نہیں، ایک ہفتہ قبل اپنے شوہر اور پانچ بچوں کے ساتھ مخا سے آئی تھیں۔

مریم دن بھر کے کھانے کے لیے پیسے حاصل کرنے کی خاطر ایک ٹوپی بن رہی تھیں۔

انھوں نے مجھے بتایا ’ہم ننگے پاؤں چلتے رہے اور اپنے ساتھ کچھ نہیں لائے، صرف اپنے بچوں کو لے کر آئے۔‘

ان کے بقول فرار کے دوران ان کا بھانجا مارٹر کے ایک گولے کے ٹکڑوں سے ہلاک ہو گیا۔

انھوں نے کہا کہ وہ ان کے پیچھے چل رہا تھا۔

انھوں نے جھڑپوں اور سنائپر فائرنگ کا ذکر کیا اور کہا کہ انھوں نے پہاڑ پر مسلح افراد کو دیکھا۔

انھوں نے کہا ’ہمیں لگا کہ اب ہمارا خاتمہ ہو گیا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ بچے چیخ رہے تھے اور رو رہے تھے، لیکن خاندان چلتا رہا۔

فاطمہ محمد صالح، جو چل نہیں سکتیں، کہتی ہیں کہ ایک موٹر سائیکل سوار سے مدد ملنے سے پہلے وہ دو دن تک رینگتی رہیں۔

فاطمہ محمد صالح ایک دوسرے خاندان کے خیمے کے باہر بوری پر لیٹی ہوئی تھیں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ ان کے پاس سونے کے لیے اپنی کوئی جگہ نہیں۔

’میرے پاس کچھ نہیں ہے، نہ پناہ، نہ بستر، نہ خاندان۔ کچھ بھی نہیں۔‘

فاطمہ نے بتایا کہ جب لڑائی ان کے گاؤں تک پہنچی تو وہ اپنے دو بیٹوں اور ان کے بچوں کے ساتھ تھیں۔

لیکن ان کے بقول وہ ان کی رفتار کم کر رہی تھیں، اس لیے انھوں نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ بچوں کو لے کر بھاگ جائیں۔

انھوں نے بتایا کہ اگلے دو دن انھوں نے ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل رینگتے ہوئے گزارے۔

’میں رینگ رہی تھی اور گولیاں ادھر سے آ رہی تھیں اور گولے اُدھر گر رہے تھے۔ اور گولیاں یہاں تھیں، اور گولے یہاں تھے۔ اور میرے اوپر ایسا لگ رہا تھا جیسے گرج چمک ہو رہی ہو۔ میں خدا سے دعا کر رہی تھی۔‘

ان کے مطابق پھر ایک موٹر سائیکل سوار نے انھیں دیکھا اور کیمپ تک پہنچا دیا۔ انھوں نے اب تک اپنے خاندان کو نہیں دیکھا۔

22 ستمبر کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے کہا کہ اس ماہ اب تک یمن بھر میں 130,000 سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ خانہ جنگی کے باعث پہلے ہی 5.2 ملین افراد بے گھر ہیں۔

ادارے نے خبردار کیا کہ آئندہ تین ماہ کے دوران مزید 100,000 افراد، فاطمہ کی طرح، اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

اضافی رپورٹنگ: جیسمین ڈائر


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US