کیا نیتن یاہو ماضی میں پیدا ہونے والی دراڑوں کو دور کرنے گئے تھے یا مستقبل میں پیش آنے والے ممکنہ حالات کے حوالے سے ہم آہنگی پیدا کرنے؟
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے نجی طیارے کے ذریعے ابو ظہبی کا مختصر دورہ کیا ہے، جہاں انھوں نے میڈیا کی نظروں سے دور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید سے ملاقات کی اور پھر کوئی سرکاری بیان جاری کیے بغیر اسرائیل واپس روانہ ہو گئے۔
لیکن نیتن یاہو کے اس دورے کے پس منظر میں ایک بڑی کہانی چھپی ہوئی ہے: سات اکتوبر 2023 کے حملوں سے متعلق حالیہ لیکس، دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں سرد مہری کی اطلاعات اور انھیں بہتر بنانے کی کوششیں، اسرائیل میں قریب آتے انتخابات اور ایران کا دوبارہ علاقائی سیاست کا مرکز بن جانا۔
اگرچہ ملاقات کے مندرجات اور زیرِ بحث آنے والے موضوعات کو خفیہ رکھا گیا، تاہم بعد میں اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر نے کہا کہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ کا یہ دورہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید کی دعوت پر ہوا تھا اور اس میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے کو درپیش چیلنجز پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
بیان کے مطابق نیتن یاہو کے ہمراہ قومی سلامتی کونسل کے سربراہ، موساد کے سربراہ، فوجی سیکریٹری اور خارجہ پالیسی کے مشیر بھی موجود تھے۔ تاہم اس ملاقات کا وقت خاص طور پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، کیونکہ یہ ایسے موقع پر ہوئی ہے جب اسرائیلی کنیسا (پارلیمان) کے انتخابات میں صرف ایک ماہ باقی رہ گیا ہے۔
سات اکتوبر حملوں سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان فون پر گفتگو ہوئی یا نہیں؟
چند ہفتے قبل اسرائیلی اخبار ہاریٹز نے ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سات اکتوبر 2023 کے حملے سے تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا تھا۔
اخبار کے مطابق اماراتی صدر نے نیتن یاہو کو ایسی معلومات سے آگاہ کیا تھا، جن سے اشارہ ملتا تھا کہ اس وقت غزہ میں حماس کے رہنما یحییٰ سنوار ایک بڑے اقدام کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جو ’خونریزی کا باعث بن سکتا ہے اور پورے خطے کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔‘
نیتن یاہو نے اس رابطے کی خبر کو قطعی طور پر مسترد کر دیا تھا۔ ان کے دفتر نے کہا تھا کہ متعلقہ مدت کے دوران بنیامین نیتن یاہو نے محمد بن زاید سے کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی انہیں ایسی کوئی وارننگ موصول ہوئی تھی۔
نیتن یاہو نے اس خبر کو شائع کرنے والے اخبار کے خلاف قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی، تاہم معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔
بعد ازاں اسرائیلی چینل 12 نے تین اماراتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا، جنھیں اس معاملے سے براہِ راست آگاہ کیا گیا تھا، کہ اماراتی انٹیلی جنس اداروں نے اسرائیلی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت کو ایسی معلومات فراہم کی تھیں جن میں حماس کی جانب سے کسی پرتشدد کارروائی کے امکان کا ذکر کیا گیا تھا۔
چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق محمد بن زاید کی جانب سے نیتن یاہو کو کی گئی فون کال کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ متعلقہ انٹیلی جنس معلومات اسرائیلی وزیرِاعظم تک پہنچ چکی ہیں۔

اس معاملے پر پہلی بار ردِعمل دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ وہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت سے متعلق رپورٹس یا قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرتی۔
تاہم وزارت نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اماراتی اور اسرائیلی حکومتی اداروں کے درمیان براہِ راست اور کھلے رابطوں کے ذرائع موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی کیا جاتا ہے۔
بعد ازاں اسرائیلی میڈیا نے ایک اماراتی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ سلامتی اور انٹیلی جنس سے متعلق معاملات متعلقہ اداروں کے درمیان زیرِ بحث آتے ہیں، نہ کہ سربراہانِ مملکت کی سطح پر۔
عہدیدار نے اس خبر کو مسترد کیا کہ مذکورہ انتباہ شیخ محمد بن زاید اور بنیامین نیتن یاہو کے درمیان کسی براہِ راست گفتگو کے ذریعے پہنچایا گیا تھا۔
اس مؤقف کے بعد یہ معاملہ صرف اس بحث تک محدود نہیں رہا کہ اسرائیل کو سات اکتوبر 2023 کے حملوں سے پہلے کیا معلومات حاصل تھیں، بلکہ یہ بنیامین نیتن یاہو اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید کے تعلقات سے بھی جڑ گیا ہے۔
اماراتی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان ملاقات کیوں؟
ماضی میں اسرائیل کے سابق وزیر اعظم اسحاق رابن کے مشیر کے طور پر کام کرنے والے ریٹائرڈ کرنل ڈاکٹر جیک نریا کے مطابق اس ملاقات کے پس منظر کو سمجھے بغیر اس دورے کی اہمیت کو پوری طرح سمجھنا ممکن نہیں۔
نریا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں بنیامین نیتن یاہو کا بنیادی مقصد شیخ محمد بن زاید کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا تھا، جو مبینہ فون کال سے متعلق تنازع کے بعد کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے۔
نریا کے مطابق نیتن یاہو کی جانب سے اس واقعے کی عوامی سطح پر تردید نے دونوں فریقوں کے تعلقات کو ایک نازک مرحلے میں پہنچا دیا، خصوصاً اس تناظر میں کہ اماراتی ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو حماس کی ممکنہ کارروائی کے بارے میں پیشگی انتباہ فراہم کیا تھا۔
ریٹائرڈ کرنل ڈاکٹر جیک نریا کے مطابق یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کے لیے اس حساس معاملے پر براہِ راست تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کرتی تھی تاکہ پیدا ہونے والی غلط فہمیوں اور ممکنہ منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔
یہ تجزیہ اس رپورٹ سے بھی مطابقت رکھتا ہے جو ہاریٹز نے ملاقات کے بعد شائع کی تھی۔ اخبار کے مطابق نیتن یاہو نے ملاقات کے دوران شیخ محمد بن زاید سے درخواست کی کہ وہ اس بیانیے کی تردید کریں جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 7 اکتوبر سے قبل اسرائیلی قیادت کو ایک انتباہ دیا گیا تھا۔ ایسی اطلاعات دیگر ذرائع ابلاغ میں بھی سامنے آ چکی ہیں۔
خفیہ ملاقات لیک کیوں ہوئیں؟
یہاں کہانی کا ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے: یہ دورہ میڈیا کی نظروں سے دور ترتیب دیا گیا تھا اور اسرائیلی رپورٹس کے مطابق اس کا اعلان وفد کی اسرائیل واپسی کے بعد کیا جانا تھا، جبکہ دونوں فریق اس بارے میں ایک مشترکہ اور مربوط بیان بھی جاری کرنے والے تھے۔
تاہم نیتن یاہو کی واپسی سے قبل ہی اس دورے کی خبر منظرِ عام پر آ گئی۔
تجزیہ کار نیریا کے مطابق اس صورتحال نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ آیا اس دورے کی خبر سامنے آنا سیاسی طور پر وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے مفاد میں تھا۔
انھوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں یقین نہیں کہ اتنی حساس نوعیت کے دورے کی تفصیلات نیتن یاہو یا ان کے قریبی ساتھیوں کی معلومات کے بغیر لیک ہو سکتی تھیں۔
نیریا کے خیال میں اس دورے کو منظرِ عام پر آنے دینے سے نیتن یاہو کو یہ تاثر دینے کا موقع ملا کہ حالیہ اختلافات اور تنازعات کے باوجود متحدہ عرب امارات اور شیخ محمد بن زاید کے ساتھ ان کے تعلقات بدستور برقرار ہیں اور دونوں فریقوں کے درمیان رابطے اور سفارتی روابط ختم نہیں ہوئے۔
تاہم یہ نیریا کا تجزیہ ہے اور اس بات کا کوئی عوامی ثبوت موجود نہیں کہ نیتن یاہو نے خود اس دورے کی تفصیلات لیک کرانے کی ہدایت دی تھی۔ اس کے باوجود اس خبر کے منظرِ عام پر آنے کا سیاسی وقت قابلِ توجہ ہے۔
اسرائیل میں انتخابات 27 اکتوبر کو ہونے والے ہیں اور نیتن یاہو ایسے وقت میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں جب 7 اکتوبر 2023 کے حملوں سے متعلق سیاسی اور سکیورٹی ذمہ داریوں پر ملک کے اندر مسلسل بحث جاری ہے۔
نیریا کے اس تجزیے کے مطابق ایک ایسے وزیرِاعظم کی تصویر جو خطے کے اہم ترین عرب رہنماؤں میں سے ایک شیخ محمد بن زاید کے ساتھ براہِ راست تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے، اسرائیلی داخلی سیاست میں بھی ان کے لیے اہم سیاسی فائدہ رکھ سکتی ہے۔
موضوع ایران؟
تاہم 7 اکتوبر کا معاملہ ہی واحد موضوع نہیں تھا جسے نیتن یاہو اپنے ساتھ ابو ظہبی لے گئے تھے۔
اسرائیلی ذرائع نے چینل 13 نیوز کو بتایا کہ ملاقات میں بنیادی طور پر ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بات چیت ہوئی۔
یہی وہ پہلو ہے جس کی جانب نیریا نے بھی بی بی سی سے گفتگو میں اشارہ دیا۔
ان کے تجزیے کے مطابق آنے والے عرصے میں ایران کے ساتھ ممکنہ نئی کشیدگی کے بارے میں بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کے باعث اسرائیل کے لیے متحدہ عرب امارات کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
نیریا کا خیال ہے کہ خلیجی ممالک، جن میں سعودی عرب، قطر اور عمان شامل ہیں، مختلف درجوں میں تہران کے ساتھ رابطے کے ذرائع برقرار رکھنے اور خطے میں کسی نئی محاذ آرائی سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ایران کے معاملے میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات اسرائیل کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
تاہم ایران کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے تعلقات محض اسرائیل کے ساتھ ہم آہنگی تک محدود نہیں ہیں۔ ابو ظہبی خود بھی تہران کے ساتھ سفارتی رابطے اور مواصلاتی چینلز برقرار رکھتا ہے، اس کے ایران کے ساتھ براہِ راست معاشی اور سلامتی سے متعلق مفادات وابستہ ہیں اور حالیہ برسوں میں اس نے خلیج میں کشیدگی کم کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔
اسی لیے ایران کے حوالے سے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان رابطے اور مشاورت کا یہ مطلب ضروری نہیں کہ دونوں ممالک کے مؤقف یا ایران سے نمٹنے کی حکمتِ عملی ایک جیسی ہو۔
عوامی بیانات پر اختلافات
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ نیتن یاہو اور شیخ محمد بن زاید کی ملاقات سے متعلق اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے بیانات میں اختلاف سامنے آیا ہو۔
رواں سال کے آغاز میں بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران ان کی اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے العین شہر میں خفیہ ملاقات ہوئی تھی۔
تاہم اس وقت متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی بیان کی عوامی طور پر تردید کی تھی۔ اماراتی حکام نے زور دے کر کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات ابراہیم معاہدوں کے بعد ایک اعلانیہ اور واضح فریم ورک کے تحت قائم ہیں اور یہ کسی خفیہ انتظام یا پس پردہ رابطوں پر مبنی نہیں ہیں۔
اسی پس منظر میں نیتن یاہو کا حالیہ دورہ ایک ایسے ماحول میں ہوا ہے جہاں دونوں ممالک کے درمیان رابطوں سے متعلق خبروں کی اشاعت، ان کے اعلان کے طریقۂ کار، اور یہ سوال کہ ایسی ملاقاتوں کی اطلاع کس جانب سے اور کس انداز میں دی جائے، ایک حساس معاملہ بن چکا ہے۔
دورے کا مقصد
ابوظہبی میں ہونے والی ملاقات میں بند کمرے کے اندر کیا گفتگو ہوئی، اس کے بارے میں درست معلومات حاصل کرنا مشکل ہے، لیکن اب تک سامنے آنے والی معلومات تین متوازی پہلوؤں کی نشاندہی کرتی ہیں۔
پہلا پہلو: ذاتی اور سیاسی تعلقات
یہ پہلو بنیامین نیتن یاہو اور شیخ محمد بن زاید کے درمیان تعلقات سے متعلق ہے، خاص طور پر اس تنازع کے بعد جو 7 اکتوبر سے قبل مبینہ انتباہی فون کال کی خبروں کے باعث پیدا ہوا۔ بعض اسرائیلی اور اماراتی ذرائع کے مطابق اس معاملے نے دونوں رہنماؤں کے تعلقات کو ایک حساس مرحلے میں پہنچا دیا تھا اور ملاقات کو اس تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
دوسرا پہلو: اسرائیل کی داخلی سیاست
یہ معاملہ اسرائیل کی داخلی سیاسی صورتحال سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اسرائیلی انتخابات میں تقریباً ایک ماہ باقی ہے اور نیتن یاہو کے لیے یہ اہم ہے کہ وہ ووٹروں کو یہ تاثر دے سکیں کہ جنگ کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی اور سکیورٹی بحرانوں کے باوجود ان کے علاقائی تعلقات مضبوط اور فعال ہیں۔

متحدہ عرب امارات جیسے اہم علاقائی شراکت دار کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقات نیتن یاہو کو یہ پیغام دینے کا موقع فراہم کرتی ہے کہ اسرائیل خطے میں سفارتی طور پر تنہا نہیں ہوا اور اس کے عرب ممالک کے ساتھ روابط بدستور برقرار ہیں۔
اس تناظر میں، ابوظہبی کا یہ دورہ صرف ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ داخلی سیاسی اہمیت بھی رکھتا ہے، کیونکہ یہ نیتن یاہو کی علاقائی ساکھ اور خارجہ پالیسی کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
تیسرا پہلو: تزویراتی نوعیت
ایران، اس کے ساتھ ممکنہ آئندہ محاذ آرائی کا مستقبل اور کسی نئی کشیدگی کی صورت میں خلیجی ممالک کا کردار اور مؤقف۔
ان تینوں معاملات میں شاید اس دورے کا سب سے اہم پہلو اس سوال میں پوشیدہ ہے، جس کا جواب ابھی تک سرکاری بیانات میں واضح طور پر نہیں دیا گیا: کیا بنیامین نیتن یاہو ماضی میں پیدا ہونے والی دراڑوں کو بھرنے کے لیے ابوظہبی گئے تھے یا مستقبل میں پیش آنے والے ممکنہ حالات کے حوالے سے ہم آہنگی پیدا کرنے؟
ممکن ہے اس سوال کا جواب دونوں ہی صورتوں میں ہو۔