ایرانی گلوکارہ کی وہ یوٹیوب ویڈیو جسے ’غیراخلاقی‘ قرار دیتے ہوئے 74 کوڑوں کی سزا سنائی گئی

ایران کی اپیل کورٹ نے گلوکارہ پرستو احمدی کو سنائی گئی 74 کوڑوں کی سزا برقرار رکھی ہے۔ معروف موسیقار حسین علیزادہ نے کہا کہ وہ ’پرستو احمدی کی جگہ کوڑوں کی سزا قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

ایرانی گلوکارہ پرستو احمدی کے وکلا کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مُلک کی ایک عدالت نے پرستو کو سنائی گئی 74 کوڑوں کی سزا برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا ہے۔

29 سالہ ایرانی گلوکارہ پرستو احمدی نے دسمبر سنہ 2024 میں اپنے یوٹیوب چینل پر براہِ راست نشر کیے گئے ایک کنسرٹ میں بغیر آستینوں والے لباس میں پرفارم کیا تھا۔

ایرانی قوانین کے مطابق خواتین کے عوامی موسیقی پروگراموں میں شرکت پر پابندی ہے، جبکہ ان کے لیے سر پر سکارف اور باحیا لباس پہننا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ویڈیو کے وائرل ہونے اور لاکھوں مرتبہ دیکھے جانے کے بعد ایرانی عدلیہ نے گلوکارہ کے خلاف کارروائی شروع کی۔ حکام کا کہنا تھا کہ یہ پرفارمنس ’ملک کے قانونی اور ثقافتی ضوابط کی خلاف ورزی‘ کے مترادف ہے۔

رپورٹس کے مطابق جون میں قم کی ایک فوجداری عدالت نے پرستو احمدی اور ان کے بینڈ اور پروڈکشن ٹیم کے آٹھ دیگر ارکان کو مجرم قرار دیا تھا۔ ان پر ’غیراخلاقی اور نامناسب مواد‘ شائع کرنے کے ذریعے ’عوامی عفت و اخلاق کو مجروح کرنے‘ سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے تھے۔

عدالت نے گلوکارہ کو 74 کوڑوں کی سزا سنانے کے علاوہ انھیں اور دیگر ملزمان کو دو سال کے لیے آڈیو ویژول سرگرمیوں میں حصہ لینے اور ملک سے باہر سفر کرنے سے بھی روک دیا تھا۔

کاروانسرا کنسرٹ 11 دسمبر 2024 کو پرستو احمدی نے ایران کے تاریخی دیرگچین کاروانسرا میں ریکارڈ کیا تھا۔ اس میں کوئی حاضرین موجود نہیں تھے اور اسے بعد میں یوٹیوب پر جاری کیا گیا تھا۔ احمدی نے اس میں حجاب کے بغیر تنہا گلوکاری کی اور مختلف ایرانی گیت گائے تھے۔

ملزمان کے وکلا کے مطابق جمعے کے روز ایک اعلیٰ عدالت نے بغیر سماعت کے ان کی اپیل مسترد کر دی اور ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا۔

گلوکارہ کے ایک وکیل نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’ہمارے خیال میں اس کنسرٹ کا انعقاد سرے سے کوئی جرم ہی نہیں تھا۔ ٹرائل کورٹ نے ان الزامات کے تحت سزاؤں میں سے ایک سخت ترین سزا سنائی، حالانکہ جرمانے اور نسبتاً نرم سزاؤں کے متبادل بھی موجود تھے۔‘

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ ’اپیل کورٹ کے پاس سماعت کرنے کا اختیار موجود تھا، لیکن اس نے سماعت کیے بغیر ہی فیصلے کو برقرار رکھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔‘

پرستو احمدی کو سنائی گئی ابتدائی سزا کی خبر سامنے آنے کے بعد ایرانی سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔

جلاوطنی کی زندگی گزارنے والی معروف ایرانی گلوکارہ گوگوش نے اس وقت انسٹاگرام پر لکھا کہ ’دعا ہے کہ یہ تاریک دن ختم ہوں، خواتین کو اپنی زندگی اور لباس کے انتخاب کی آزادی دوبارہ ملے اور ہمارے پیارے وطن میں فن اور تخلیقی اظہار ایک بار پھر پروان چڑھے۔‘

دوسری جانب معروف موسیقار حسین علیزادہ نے کہا کہ وہ ’پرستو احمدی کی جگہ 70 کوڑوں کی سزا قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی اس فیصلے کی مذمت کی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’کوڑوں کی سزا ظالمانہ، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک کے زمرے میں آتی ہے اور یہ تشدد اور بدسلوکی کی ہر قسم پر عائد مکمل پابندی کی خلاف ورزی ہے۔‘

جنوری 2024 میں کرد نژاد ایرانی سماجی کارکن رویا حشمتی کو بھی سوشل میڈیا پر بغیر حجاب تصویر شیئر کرنے کے جرم میں ’عوامی اخلاقیات کی خلاف ورزی‘ کا مرتکب قرار دے کر 74 کوڑوں کی سزا دی گئی تھی۔

کرد حقوق کی تنظیم ہنگاو کے مطابق رویا حشمتی نے بتایا تھا کہ تہران میں پراسیکیوٹر کے دفتر میں ایک خاتون اہلکار نے زبردستی ان کے سر پر سکارف پہنایا، جس کے بعد ایک مرد اہلکار نے ان کے کندھوں، کمر، کولہوں اور ٹانگوں پر کوڑے مارے۔

ایرانی قانون، جو شریعت کی ملکی تشریح پر مبنی ہے، کے تحت بلوغت کی عمر کو پہنچنے والی تمام خواتین اور لڑکیوں کے لیے حجاب کرنا اور ایسا ڈھیلا ڈھالا، لمبا لباس پہننا لازم ہے جس سے جسمانی خدوخال نمایاں نہ ہوں۔

سنہ 2022 میں مہسا امینی کی حراست میں ہلاکت کے بعد ایران بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ 22 سالہ کرد نژاد خاتون مہسا امینی کو اسی سال ستمبر میں تہران میں اخلاقی پولیس نے مبینہ طور پر ’نامناسب انداز میں حجاب پہننے‘ کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔ ان کی موت نے ملک گیر احتجاجی تحریک کو جنم دیا، جس نے خواتین کے حقوق اور لازمی حجاب کے قوانین پر عالمی توجہ مرکوز کر دی تھی۔

ملک گیر مظاہروں کے دوران متعدد خواتین نے احتجاجاً اپنے سر سے حجاب اتار کر نذرِ آتش کیے یا انھیں فضا میں لہرا کر مذہبی قیادت کے زیرِ اقتدار نظام کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ ان مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ان واقعات کے بعد ایران میں بہت سی خواتین اور لڑکیوں نے لازمی لباس کے ضابطے کی کھلی مخالفت کرتے ہوئے عوامی مقامات پر سر ڈھانپنا مکمل طور پر ترک کر دیا۔ اس کے جواب میں حکام نے وقتاً فوقتاً گرفتاریاں، انتباہی کارروائیاں، کاروباری مراکز کی بندش اور دیگر پابندیاں عائد کیں۔

اسی ماہ حجاب سے متعلق قوانین کے نفاذ پر گفتگو کرتے ہوئے قدامت پسند سیاست دان اور مجمع تشخیص مصلحت نظام کے رکن غلام علی حداد عادل نے کہا کہ ’امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگی صورتِ حال کے باعث حکام ’فی الحال اس محاذ پر اتنی توجہ نہیں دے سکتے جتنی دینی چاہیے۔‘

غلام علی حداد عادل ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے سسر بھی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ جنگ فروری کے آخر میں شروع ہوئی، جس سے چند ہفتے قبل ایرانی سکیورٹی فورسز نے ملک کے معاشی بحران کے خلاف ابھرنے والی ایک اور احتجاجی لہر کو طاقت کے ذریعے کچل دیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کارروائی میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US