پاکستان کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے اپنا موبائل فون فوری واپس کرنے اور اپنے خلاف کی جانے والی تحقیقات و الزامات کی تحریری تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کر دی ہے۔
28 ستمبر کی تاریخ کے اس خط میں، جو منگل کو ذرائع ابلاغ میں سامنے آیا، محمد رضوان نے ایجنسی سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے رابطے کے لیے غیر سرکاری ذرائع کے بجائے باضابطہ اور سرکاری طریقے استعمال کرے۔ یہ خط ان میڈیا رپورٹس کے اگلے ہی دن سامنے آیا ہے جن میں ایجنسی کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ رضوان انکوائری میں تعاون نہیں کر رہے ہیں۔
سابق کپتان نے خط میں موقف اختیار کیا کہ ان کا موبائل فون 31 اگست کو تحویل میں لیا گیا تھا اور ابتداء میں 3 گھنٹے میں واپس کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، جسے بعد میں ڈیجیٹل فارنسک معائنہ مکمل ہونے تک ملتوی کر دیا گیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اب کافی وقت گزر چکا ہے، لہٰذا فون بغیر کسی مزید تاخیر کے واپس کیا جائے۔
محمد رضوان نے عدم تعاون کے تاثر کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے بتایا کہ فون تحویل میں دیتے وقت انہوں نے پاس ورڈ فراہم کر دیا تھا اور حکام نے ان کی موجودگی میں ڈیٹا کی جانچ کی۔ اس کے علاوہ جب وہ 10 ستمبر کو این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہوئے، تب بھی حکام کو ان کے ان لاک فون تک مکمل رسائی حاصل تھی اور ان کے سامنے ہی میسجز اور دیگر مواد کا جائزہ لیا گیا تھا۔
انہوں نے ایجنسی سے درخواست کی ہے کہ ان کے خلاف شروع کی گئی انکوائری، مخصوص واقعات اور الزامات کی تحریری تفصیلات فراہم کی جائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں ان کی پیشی درکار ہو تو تاریخ اور وقت سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے اور تمام تر خط و کتابت ان کے رہائشی پتے پر کی جائے۔
واضح رہے کہ انگلینڈ میں دوسرے ٹیسٹ میں شکست کے بعد وطن واپس بھیجے جانے والے محمد رضوان اور امام الحق کے موبائل فونز ٹیم کے سیکیورٹی اہلکاروں نے تحویل میں لیے تھے، جس کے بعد دونوں کھلاڑی اس ماہ کے شروع میں لاہور میں این سی سی آئی اے کے سامنے پیش بھی ہوئے تھے۔