ٹینیسی میں 200 سال بعد پہلی خاتون کو سزائے موت دیے جانے کی توقع: کرسٹا بچپن میں خود ’جنسی تشدد کا شکار رہیں‘

پائیک کی عمر اب 50 سال ہے تاہم جب وہ 18 برس کی تھیں تب انھوں نے اپنے اُس وقت کے بوائے فرینڈ ٹیڈرل شپ کے ساتھ مل کر 19 سالہ کولین سلمر کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا۔
Tennesse Department of Corrections inmate photo of Christa Pike, Tennessee's only woman on death row.
Tennesse Department of Corrections
کرسٹا پائیک کے وکلا نے 30 ستمبر کو سزائے موتسے قبل رحم کی اپیل دائر کی ہے

ایشلی سیلرز نے اس ہفتے اپنی دوست کرسٹا پائیک سے آخری بار اُس وقت بات کی جب پائیک نے سزائے موت کے قیدیوں کے سیل سے انھیں پیغام بھیجا۔

پائیک کو امریکی ریاست ٹینیسی میں انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی۔

پائیک نے سیلرز کو بتایا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے اہلِ خانہ یا قریبی لوگ بدھ کو ان کی سزائے موت کے وقت موجود ہوں۔ ایشلی سیلرز کہتی ہیں کہ ’وہ نہیں چاہتی کہ ہم یہ سب دیکھیں۔‘

سیلرز کے لیے اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ وہ عورت، جسے وہ ہمیشہ ایک مہربان اور دوسروں کا خیال رکھنے والی شخصیت کے طور پر جانتی رہی ہیں، 31 سال پہلے ایک سنگین جرم میں ملوث ہو سکتی ہیں۔

پائیک کی عمر اب 50 سال ہے تاہم جب وہ 18 برس کی تھیں تب انھوں نے اپنے اُس وقت کے بوائے فرینڈ ٹیڈرل شپ کے ساتھ مل کر 19 سالہ کولین سلمر کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا تھا۔

دونوں کی ملاقات مسائل کا سامنا کرنے والے نوجوانوں کے لیے قائم ایک تربیتی کیمپ میں ہوئی تھی۔

1995 میں امریکی ریاست ٹینیسی کے شہر ناکس وِل میں جب کولین کی لاش ملی تو ان کے سینے پر پانچ کونوں والا ستارہ (پینٹاگرام) تھا جو شیطانی رسومات کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے اور یوں یہ قتل میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔

پائیک نے کولین پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اس کی توہین کرتی تھیں اور ان کے بوائے فرینڈ کو ان سے چھیننے کی کوشش کر رہی تھیں۔

بعد میں کیمپ کے دو دیگر رہائشیوں نے گواہی دی کہ پائیک نے قتل سے پہلے اور بعد میں اس جرم پر فخر کا اظہار کیا تھا اور انھیں کولین کی کھوپڑی کا ایک ٹکڑا بھی دکھایا تھا۔

ایک سال بعد پائیک کو سزائے موت سنائی گئی، جبکہ اُس وقت 17 سالہ شپ کو عمر قید کی سزا دی گئی، جس کے تحت انھیں مستقبل میں پیرول پر رہائی بھی مل سکتی ہے۔

اس سزا کے خلاف برسوں تک اپیلیں دائر کی جاتی رہیں۔ تاہم تمام ناکام رہیں اور یوں بلآخر پائیک کی سزائے موت کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔

اگر اس سزا پر عملدرآمد ہو جاتا ہے تو وہ 200 سال سے زیادہ عرصے میں ٹینیسی میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون ہوں گی۔

1970 کی دہائی کے بعد سے امریکہ میں صرف 18 خواتین کو سزائے موت دی گئی ہے، جبکہ مردوں کی تعداد 1,663 ہے۔

کولین کی والدہ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ پائیک کو دی گئی سزائے موت پر ہر صورت عمل درآمد ہو تاکہ ان کی بیٹی بھی سکون پا سکے۔

A portrait of Colleen Slemmer, taken in what looks like a photography studio with a backdrop. She is wearing a striped orange and white sweatshirt, gold drop earrings and is smiling at the camera. She has auburn hair and a fringe.
Family handout
1995 میں طالبہ کولین سلمر کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا

پائیک کے وکلا نے معافی کی درخواست پر مشتمل 226 صفحات کی ایک تفصیلی درخواست جمع کروائی ہے اور اب بھی آخری وقت میں سزا رک جانے کی امید لگائے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق پائیک کو بچپن میں جنسی استحصال، والدین کی جانب سے چھوڑ دیے جانے اور بے توجہی کا سامنا رہا۔

ان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ اگر آج انھیں اسی جرم میں ایک کم عمر فرد کے طور پر قصوروار ٹھہرایا جاتا تو غالب امکان ہے کہ انھیں سزائے موت نہ دی جاتی۔

سزا سنائے جانے کے بعد گزرنے والے برسوں میں ان کی قانونی ٹیم نے ان کے بچپن سے متعلق ایسی تفصیلات سامنے لانے کا دعویٰ کیا ہے جن پر، ان کے بقول، جیوری کو کبھی غور کرنے کا موقع نہیں ملا۔

پائیک کے دفاع پر کام کرنے والی اور کارنیل لا سکول میں صنف اور سزائے موت کے موضوع کی ماہر سینڈرا بابکاک کہتی ہیں کہ ’یہ بات حیران کن ہے کہ ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور جنسی تشدد کی تاریخ عدالت میں پیش نہیں کی گئی، حالانکہ اس بارے میں معلومات موجود تھیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ مقدمہ کئی حوالوں سے غیرمعمولی ہے، صرف اس لیے نہیں کہ انھیں جنسی تشدد کے انتہائی سنگین تجربات کا سامنا رہا، بلکہ اس لیے بھی کہ یہ سب ان کی کم عمری اور ذہنی بیماری کے پس منظر کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔‘

Christa Pike as a toddler. She has brown, short curly hair and is wearing a red jumper. The background appears to show part of a white vehicle
Christa Pike
کرسٹا پائیک کو بچپن میں والدین کی عدم توجہی اور بدسلوکی کا سامنا رہا

1995 میں پائیک کے وکلا نے فرانزک ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ڈیانا میک کوئے کی خدمات حاصل کی تھیں۔

اپنی رپورٹ میں انھوں نے کہا کہ پائیک کو بچپن میں اپنے دونوں والدین کی جانب سے شدید عدم توجہی کا سامنا رہا۔

رپورٹ کے مطابق پائیک اپنی والدہ کے متعدد شوہروں اور بوائے فرینڈز کے ہاتھوں جسمانی اور جنسی استحصال کا نشانہ بنیں۔ ان کے ساتھ11 سال کی عمر سے 17 سال کی عمر تک متعدد بار ریپ کیا گیا۔

بعد میں یہ بھی سامنے آیا کہ بچپن کے ابتدائی برسوں میں ان کی دادی کے بوائے فرینڈ نے بھی بارہا ان کا ریپ کیا۔ میک کوئے کے مطابق پائیک کی والدہ نے ان الزامات پر یقین نہیں کیا تھا۔

تاہم پائیک کے مقدمے کے وکیل نے نہ تو ڈاکٹر میک کوئے کو بطور گواہ پیش کیا اور نہ ہی ان متعدد گواہوں کو عدالت میں بلایا جن کی سفارش انھوں نے کی تھی۔

یہ تفصیلات ایک دہائی سے زیادہ عرصے بعد مقدمے کے جائزے کے دوران ہونے والی عدالتی سماعت میں سامنے آئیں، جب نئے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ پائیک کو مؤثر قانونی نمائندگی نہیں ملی تھی۔ تاہم جج نے یہ دعویٰ مسترد کر دیا۔

2021 کے دوران جیل میں پائیک میں بائی پولر ڈس آرڈر کی تشخیص ہوئی، جس کے بعد سے وہ علاج اور ادویات لے رہی ہیں۔

بعد ازاں پائیک کے دفاع کے لیے کام کرنے والی ایک اور فرانزک ماہرِ نفسیات ڈاکٹر بیتھنی برانڈ نے 2023 میں ان کے مقدمے کا جائزہ لیا اور کہا کہ یہ ایک غیرمعمولی کیس ہے کیونکہ پائیک کو ان بہت سے لوگوں کی جانب سے زیادتی کا سامنا کرنا پڑا جن کی ذمہ داری ان کی حفاظت کرنا تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’ان کا بچپن جسمانی، جنسی اور ذہنی تشدد سے بھرا ہوا تھا۔ سکول جانے کی عمر سے پہلے ہی کئی مردوں نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔‘

ڈاکٹر بیتھنی برانڈ کے مطابق بائی پولر ڈس آرڈر کے باعث پائیک کو جذباتی کیفیت کے شدید دورے پڑتے تھے جن کا علاج نہیں ہوا جبکہ وہ پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) کا بھی علاج نہیں کرا سکیں۔

انھوں نے موقف اپناتے ہوئے کہا کہ ’ان دونوں عوامل نے اس بات پر گہرا اثر ڈالا کہ وہ اس لڑکی سے خود کو کس حد تک خطرے میں محسوس کرتی تھیں، جسے بعد میں انھوں نے قتل کیا، اور اس صورتحال میں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔‘

سینڈرا بابکاک کہتی ہیں کہ ’اگر انھیں سزائے موت دے دی جاتی ہے تو اس سے یہ پیغام ملے گا کہ اس ملک میں سزائے موت کا نظام اپنے مقصد پر پورا نہیں اترتا۔ یہ بدترین جرائم کرنے والوں کے لیے نہیں بلکہ ان لوگوں کے لیے ہے جنھیں کمزور قانونی نمائندگی ملی اور جو سب سے زیادہ متاثر اور کمزور حالات کا شکار رہے ہیں۔‘

Christa Pike pictured as a teenager. She has curly brown hair and is wearing a pink top and jeans. She is looking down at something in her hands - the room is dark.
Christa Pike
عدالتی دستاویزات کے مطابق پائیک نے جنوری 1995 میں کولین سلمر کو قتل کیا تھا۔ اس سے قبل انھوں نے ایک دوست سے کہا تھا کہ اس دن میرا دل بس کسی پر ظلم کرنے کو چاہ رہا تھا

’اس کو جان لینے کی قیمت چکانا ہو گی‘

گزشتہ سال ٹینیسی کی سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں حکم دیا تھاکہ پائیک ایسے کوئی غیر معمولی حالات ثابت نہیں کر سکیں جو ان کی سزا کو کم کرنے کا جواز بن سکتے۔

اس فیصلے کے بعد ان کی تمام اپیلیں ختم ہو گئیں اور سزائے موت پر عملدرآمد کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔

اس سے قبل ایک وفاقی اپیل عدالت بھی قرار دے چکی تھی کہ مقدمے کی سماعت کے دوران جیوری نے پائیک کے مشکل بچپن کے بارے میں ان کی والدہ، والد اور خالہ کی گواہی لے لی تھی۔

عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ بائی پولر ڈس آرڈر، پی ٹی ایس ڈی اور دماغی نقصان سے متعلق نئے شواہد بڑی حد تک پہلے سے موجود معلومات کا ہی اعادہ تھے اور ان سے فیصلے میں تبدیلی کا امکان نہیں تھا۔

یہ تنازع بعض حوالوں سے لیزا مونٹگمری کے معروف مقدمے سے مشابہت رکھتا ہے، جس میں ان کے وکلا نے بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ ذہنی بیماری کا شکار تھیں اور بدسلوکی کا سامنا کرنے والی ایک متاثرہ خاتون ہونے کے باعث رحم کی مستحق تھیں۔

تاہم مونٹگمری کیتمام قانونی کوششیں ان کی سزا تبدیل کرانے میں کامیاب نہ ہو سکیں اور انھیں 2021 میں ریاست انڈیانا میں مہلک انجکشن کے ذریعے سزائے موت دے دی گئی۔

اگر ٹینیسی کے گورنر بل لی نےپائیک کو معافی نہ دی تو انھیں 30 ستمبر کو سزائے موت دے دی جائے گی۔ اس بارے میں فیصلہ غالباً آخری وقت میں ہی متوقع ہے، جبکہ گورنر لی نے ماضی میں کبھی کسی سزائے موت کے مقدمے میں معافی نہیں دی۔

اس ہفتے ٹینیسی کی سپریم کورٹ نے بھی پائیک کی سزا پر عملدرآمد روکنے کی درخواست مسترد کر دی۔ ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ قانونی اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

پائیک نے اپنی سزائے موت کے دن صرف خواتین اہلکاروں پر مشتمل ٹیم کی درخواست کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مرد اہلکاروں کے ایک گروہ کی جانب سے قابو میں رکھے جانے سے ان کے ماضی کے ذہنی صدمے مزید بڑھ سکتے ہیں۔

ٹینیسی کی حکومت نے کہا ہے کہ کوشش کی جائے گی کہ خواتین اہلکار ہی پائیک کو اس جیل تک منتقل کریں جہاں سزا پر عملدرآمد ہونا ہے، تاہم اس کی ضمانت نہیں دی گئی۔

کولین کی والدہ مے مارٹینیز، کرسٹا پائیک کو سزائے موت دیے جانے کی حمایت کرتی ہیں۔

انھوں نے 2021 میں ناکس وِل کے ٹی وی چینل ڈبلیو بی آئی آر سے گفتگو میں کہا تھا کہ ’اس نے جرم کیا ہے۔ میرے خیال میں اسے جان سے مارنے کی قیمت چکانا ہو گی۔‘

اس ہفتے انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ آج بھی اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں۔

مارٹینیز نے ڈبلیو بی آئی آر سے یہ بھی کہا تھا کہ پائیک کو مرنے سے پہلے تکلیف کا سامنا کرنا چاہیے۔ ان کے بقول ’مجھے بہت بہتر لگے گاکہ اگر اسے بھی وہی درد محسوس ہو جو کولین نے برداشت کیا تھا۔‘

May Martinez sits with retired Knoxville Police department detective Randy York outside of a Knox County Court Room for a post conviction relief hearing for the killer of Martinez daughter Colleen Slemmer. February 27, 2006
J. Miles Carey/USA TODAY/Imagn Images via Reuters
کولین سلمر کی والدہ مے مارٹینیز، 2006 میں عدالتی سماعت کے موقع پر

انھوں نے مزید کہا کہ’میرا دل ہر روز ٹوٹتا ہے کیونکہ میں اس واقعے کو بار بار یاد کرتی ہوں، بار بار اس سے گزرتی ہوں، اور اب میں مزید ایسا نہیں کر سکتی۔ میں چاہتی ہوں کہ میری موت سے پہلے یہ ہو جائے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب میں کولین یا ان کی موت کے بارے میں نہ سوچتی ہوں، یا یہ نہ سوچتی ہوں کہ ان پر کیا بیتی ہو گی۔ میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ کرسٹا کا معاملہ ختم ہو جائے تاکہ میں اس باب کو بند کر سکوں اور میری بیٹی کو سکون مل سکے، تاکہ وہ آخرکار آرام کر سکے۔‘

متاثرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم جسٹس کولیشن نے مارٹینیز کو پھانسی دیکھنے کے لیے ٹینیسی جانے میں مدد دینے کی غرض سے فنڈ جمع کیے ہیں۔

تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رابرٹ بریسویل نے کہا کہ یہ سزا پائیک کے ہم عمروں پر مشتمل جیوری نے مقرر کی تھی اور یہی کولین کے خاندان کی خواہش بھی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم خاندان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں کہ 30 ستمبر کو ان کی پھانسی پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔‘

ایشلی سیلرز دو بظاہر متضاد خیالات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ ’ایک یہ کہ کولین کی والدہ کو یہ محسوس کرنے کا حق ہے کہ انصاف ہو چکا ہے اور دوسرا یہ کہ ہر شخص، بشمول ان کی دوست کرسٹا، اصلاح اور نئی شروعات کا ایک موقع پانے کا حق رکھتا ہے۔‘

سیلرز کہتی ہیں کہ ’جب میں ٹی وی پر نظر آنے والی شخصیت یا کولین کے ساتھ پیش آنے والے ہولناک واقعے کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں تو میرے لیے اس کی واحد توجیہ ذہنی صحت، صدمے اور اس بات میں نظر آتی ہے کہ لوگ ایسے لمحات میں معاملات کو کیسے سمجھتے اور ان پر ردعمل دیتے ہیں جب ان کے پاس درکار سہولتیں یا مدد موجود نہ ہو۔‘

ان کے مطابق ’جوانی میں ایسے ہولناک واقعات پیش آتے ہیں، پھر وہ صدمے آپ کے ساتھ رہتے ہیں، ہماری کمیونٹی میں منتقل ہوتے ہیں، اور یوں آپ کسی اور کو نقصان پہنچا بیٹھتے ہیں۔‘

سیلرز کی ملاقات پائیک سے جیل میں ہوئی تھی، جب وہ ڈکیتی کے دوران ہونے والے ایک قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں 25 سال کی سزا کاٹ رہی تھیں۔

سخت سکیورٹی والے یونٹ میں وہ اپنے سیلوں کے دروازوں میں کھانے کی ٹرے دینے کے لیے بنے شگاف کے ذریعے ایک دوسرے سے بات کرتی تھیں۔

اب سیلرز انصاف کے نظام میں اصلاحات اور جرائم سے متاثرہ افراد کے حقوق کے لیے وکالت کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہر زندگی اہم ہے، ہے نا؟ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کولین کی زندگی اہم تھی۔ میرے خیال میں اس وقت کرسٹا اپنی زندگی بچانے سے زیادہ اس بات کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں کہ ان کی زندگی کی اہمیت کو تسلیم کیا جائے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US