شاداب خان پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی کپتانی کے مضبوط ترین امیدوار بن گئے

image

پاکستان کے تجربہ کار آل راؤنڈر شاداب خان سلمان علی آغا کی جگہ قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت سنبھالنے کے لیے مضبوط ترین امیدوار بن کر سامنے آئے ہیں۔ سلمان علی آغا کو ٹیسٹ اسکواڈ سے ڈراپ کیے جانے کے بعد اب کھیل کے مختصر ترین فارمیٹ میں بھی کپتانی سے ہٹائے جانے کا امکان ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے باخبر ذرائع کے مطابق 9 اکتوبر سے سری لنکا کے خلاف شروع ہونے والی ہوم ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے قومی اسکواڈ میں اہم تبدیلیوں کی تیاری کی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شاداب خان کو ٹی ٹوئنٹی کپتان مقرر کرنے کی دوڑ میں سب سے آگے رکھا گیا ہے، جبکہ صاحبزادہ فرحان دوسرے نمبر پر ہیں اور شاداب کو ذمہ داری ملنے کی صورت میں فرحان نائب کپتان ہوں گے۔

شاداب خان ماضی میں بھی قائم مقام کپتان کے طور پر قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں۔ دوسری جانب صاحبزادہ فرحان اس وقت جاپان میں موجود ہیں، جہاں وہ ایشین گیمز میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں جو بنگلہ دیش کے خلاف اپنا سیمی فائنل کھیلے گی۔

124 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل، 73 ون ڈے اور 6 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے 27 سالہ شاداب خان کو ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

مائیک ہیسن کی خواہش ہے کہ شاداب 2028 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی ٹیم کی قیادت کریں۔ ہیسن نے کپتانی کے لیے شاداب اور فرحان کے نام شارٹ لسٹ کیے ہیں، جس کے بعد اب سلمان علی آغا کا یہ عہدہ برقرار رہنا ممکن نہیں دکھائی دے رہا۔

سلمان علی آغا مارچ 2025 سے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں پاکستان کی قیادت کر رہے ہیں، تاہم حالیہ خراب فارم اور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے وہ ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ سے باہر ہو سکتے ہیں، لیکن وہ ون ڈے سیٹ اپ میں شامل رہیں گے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بابر اعظم کو ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں خود کو دوبارہ ثابت کرنے کا موقع دیا جائے گا اور وہ مائیک ہیسن کے دور میں ٹیسٹ و ون ڈے اسکواڈز میں اہم رکن کے طور پر شامل رہیں گے۔

اس کے علاوہ وائٹ بال اسکواڈز میں سینئرز کی جگہ نوجوان کھلاڑیوں کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ فاسٹ بولرز شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف سری لنکا کے خلاف سیریز کے لیے زیر غور نہیں ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US