پاکستان کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے فون کے فرانزک معائنے کے لیے 2 اکتوبر کو لاہور میں طلب کرلیا ہے۔
محمد رضوان کے قریبی ذرائع کے مطابق انہیں لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر این سی سی آئی اے کا تحریری نوٹس موصول ہوگیا ہے، جس میں انہیں 2 اکتوبر کو ایجنسی کے دفتر میں موجود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ تفتیش کار ان کے سامنے ان کے فون کا فرانزک معائنہ کرسکیں۔
رضوان کا موبائل فون گزشتہ ماہ انگلینڈ میں لارڈز ٹیسٹ کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سیکیورٹی اہلکار نے تحویل میں لیا تھا، جس کے بعد سے وہ ایجنسی کے پاس موجود ہے۔ ٹیسٹ اسکواڈ سے ڈراپ ہونے کے بعد وطن واپس بھیجے جانے پر رضوان اس سے قبل بھی ایک مرتبہ این سی سی آئی اے کی سماعت میں پیش ہوچکے ہیں۔
تازہ ترین نوٹس میں بھی این سی سی آئی اے کی جانب سے تفتیش کی باقاعدہ وجوہات یا تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں، تاہم توقع ہے کہ وہ 2 اکتوبر کو اپنے وکیل کے ہمراہ پیش ہوں گے۔
میڈیا میں عدم تعاون اور آن لائن بیٹنگ یا جوئے سے متعلق جاری تحقیقات کی خبریں سامنے آنے کے بعد محمد رضوان نے 28 ستمبر کو این سی سی آئی اے کو ایک خط لکھا تھا جس میں اپنے خلاف عائد الزامات کی تحریری تفصیلات مانگی تھیں اور مستقبل میں سرکاری ذرائع سے رابطے کی استدعا کی تھی۔
اپنے خط میں رضوان نے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کا فون 31 اگست کو لیا گیا تھا اور 3 گھنٹے میں واپسی کا یقین دلایا گیا تھا، تاہم بعد میں فرانزک معائنے کا کہہ کر فون روک لیا گیا۔ انہوں نے تفتیش میں عدم تعاون کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے ڈیوائس کی بلا تاخیر واپسی کا مطالبہ بھی کیا۔