امریکہ میں سزائے موت کی کوریج کرنے والے صحافی مائیکل گراچک کا کہنا ہے کہ تقریباً 500 سزاؤں پر عمل درآمد دیکھنے کے باوجود انھوں نے کرسٹا پائیک جیسا واقعہ کبھی نہیں دیکھا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے رپورٹر مائیکل گراچک نے ٹیکساس میں سزائے موت کے تقریباً 500 واقعات کی کوریج کی ہے، اور 2018 میں ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ یہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انھیں دو ایسے واقعات یاد ہیں جب مہلک انجیکشن لگانے کے دوران سوئی نکل گئی تھی اور دوبارہ لگا کر وہ عمل مکمل کیا گیا تھا، تاہم انھوں نے ایسا کوئی واقعہ نہیں دیکھا جس میں قیدی زندہ بچ گیا ہو۔
مگر اس ہفتے ٹینیسی میں ایسا ہی ہوا، جب پینٹوباربیٹل کی دو الگ الگ خوراکیں دے جانے کے باوجود 50 سالہ قیدی کرسٹا پائیک زندہ رہیں اور ان کی سانسیں چلتی رہیں، حتیٰ کہ ان کے خراٹوں کی آواز بھی سنائی دیتی رہی۔ پینٹوباربیٹل وہ دوا ہے جو ریاست مہلک انجیکشن میں استعمال کرتی ہے۔
76 سالہ گراچک کہتے ہیں کہ وہ اس غیر معمولی واقعے پر مکمل طور پر حیران نہیں ہوئے اور اپنے طویل صحافتی کیریئر کے دوران وہ اس امکان کے بارے میں سوچتے بھی رہے تھے۔
انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا: ’میرے خیال میں یہ صرف وقت کی بات تھی۔‘
ٹینیسی کے طریقۂ کار کے مطابق اگر پہلی خوراک کے بعد بھی قیدی کی موت واقع نہ ہو تو پینٹوباربیٹل سے بھری سرنجوں کا دوسرا سیٹ دستیاب رکھا جاتا ہے۔ تاہم اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اگر دوسری خوراک کے بعد بھی قیدی زندہ رہے تو کیا کیا جائے گا۔
بدھ کی رات پیش آنے والے اس واقعے کے بعد گورنر بل لی نے ریاست میں سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا اور طریقۂ کار کا آزادانہ جائزہ لینے کا حکم دیا۔
گذشتہ ایک دہائی کے دوران سزائے موت کے ناکام واقعات پر خاصی توجہ دی گئی ہے، خاص طور پر اُس وقت سے جب قلت کے باعث بعض ریاستوں نے ادویات تبدیل کیں یا انھیں متبادل مشکوک ذرائع سے حاصل کیا۔
بعض ریاستوں نے تو متبادل طریقے کے طور پر فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت بھی دوبارہ متعارف کروا دی۔
کرسٹا پائیک کے وکیل کے مطابق وہ اس وقت ہسپتال میں ہیں جہاں انھیں ’جان بچانے والا علاج‘ فراہم کیا جا رہا ہے۔
امریکہ کی 27 ریاستوں میں سزائے موت کے لیے مہلک انجیکشن لگایا جاتا ہے۔ اگر یہ طریقہ ناکام ہو جائے تو یہ بات غیر معمولی نہیں۔
ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق ایسے واقعے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’غیر متوقع خرابی یا تاخیر کے باعث قیدی کو غیر ضروری تکلیف پہنچی یا سزا پر عمل درآمد کرنے والوں کی سنگین نااہلی عیاں ہوئی۔‘
ادارے کے مطابق 1982 سے اب تک سزائے موت ناکام رہنے کے 64 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 51 واقعات میں موت کی سزا مہلک انجیکشن کے ذریعے دی جانی تھی۔ ان میں کم از کم سات واقعات ایسے تھے جب انجیکشن لگانے کے لیے مطلوبہ رگ نہ ملی۔
تاہم گراچک کا کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا جس میں دوا دیے جانے کے باوجود پھانسی ناکام ہو گئی ہو۔
انھوں نے کہا: ’ٹیکساس میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔‘
گراچک نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے لیے 46 سال کام کیا اور مختلف موضوعات کی رپورٹنگ کی، لیکن وہ سزائے موت کی کارروائیوں میں اپنی موجودگی کو صحافت کا ایک اہم حصہ سمجھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’ریاست یا وفاقی حکومت کے پاس ہماری زندگی چھین لینے سے بڑا اختیار کوئی نہیں۔‘
ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق 1976 سے اب تک امریکہ میں 1683 سزاؤں پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔ اسی برس امریکی سپریم کورٹ نے سزائے موت کو دوبارہ بحال کیا تھا۔ ان میں سب سے زیادہ 602 سزائیں صرف ٹیکساس میں دی گئی ہیں۔ 1982 میں یہی پہلی ریاست تھی جس نے مہلک انجیکشن کا طریقہ متعارف کروایا۔
گراچک کے مطابق یہ ضروری ہے کہ کوئی غیر جانب دار شخص وہاں موجود ہو جو قانون کے نفاذ کا مشاہدہ کرے اور دوسروں کو بتا سکے کہ اس نے اپنی آنکھوں سے کیا دیکھا۔
ان کے بقول: ’کوئی تو ہونا چاہیے جو یہ دیکھے اور دوسروں کو بتائے کہ میں نے کیا دیکھا اور وہاں کیا ہوا۔‘
اگرچہ وہ باضابطہ طور پر ریٹائر ہو چکے ہیں، لیکن اب بھی ایسوسی ایٹڈ پریس کے لیے فری لانس بنیادوں پر پھانسیوں کی کوریج کرتے ہیں۔
کرسٹا پائیک کو سزائے موت دینے کے لیے مہلک دوا کی دو خوراکیں استعمال کی گئیں، تاہم وہ زندہ رہیںان کا کہنا ہے کہ اپنی رپورٹنگ میں وہ متاثرین کو یاد رکھنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں، اور جب کسی پھانسی کی خبر زیادہ توجہ حاصل نہیں کرتی تو انھیں افسوس ہوتا ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’مجھے متاثرین کے لیے برا لگتا ہے۔ انھیں ہمیشہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔‘
ان کے بقول: ’آج تمام توجہ ٹینیسی میں موجود قیدی پر ہے۔ متاثرہ شخص کے لیے، سوائے اس کے قریبی خاندان کے، کوئی آنسو نہیں بہا رہا۔ میں سمجھتا ہوں کہ میڈیا کا طریقۂ کار یہی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ درست بھی ہے۔‘
کرسٹا پائیک نے 18 سال کی عمر میں اپنے اُس وقت کے بوائے فرینڈ ٹیڈرل شپ کے ساتھ مل کر 19 سالہ کولین سلیمر کو قتل کیا تھا۔
کولین کا تعلق فلوریڈا سے تھا، دوستوں اور اہلِ خانہ کے مطابق وہ رولر سکیٹنگ کی شوقین، خوش مزاج اور دوسروں کی مدد کرنے والی لڑکی تھیں۔
سلیمر کی والدہ مے مارٹینز بھی بدھ کے روز ٹینیسی میں پھانسی کی کوشش کے وقت موجود تھیں۔ بعد ازاں انھوں نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ ’یہ سب ایک بدنظمی تھی۔‘
گراچک کے مطابق ٹیکساس کے قانون کے مطابق مشاہدہ کرنے والوں کو اس وقت پھانسی کے کمرے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی جب قیدی کو انجیکشن لگانے کی تیاری کی جا رہی ہو۔
ان کے مطابق عام طور پر انجیکشن بازو کی کہنی کے قریب لگایا جاتا ہے، لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ہاتھ، ٹانگ، گردن یا جسم کے کسی اور حصے میں لگایا جا سکتا ہے۔
گراچک کے مطابق جب انجیکشن لگا دیا جاتا ہے تو قیدی چند سیکنڈ کے اندر بے ہوش ہو جاتا ہے اور عام طور پر دوا دیے جانے کے 20 سے 40 منٹ کے اندر موت کی تصدیق کر دی جاتی ہے۔
گراچک کو 1998 میں جوناتھن نوبلز کی پھانسی آج بھی یاد ہے۔ نوبلز کو 1986 میں دو خواتین کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔
پھانسی سے قبل نوبلز نے ’سائلنٹ نائٹ‘ گیت گانا شروع کیا۔
گراچک نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ’راؤنڈ یان ورجن‘ تک پہنچے اور پھر خاموش ہو گئے۔
’دوا کے اثر کرنے اور ان کے بے ہوش ہونے میں بس اتنا ہی وقت لگا تھا۔‘
تقریباً 30 برس گزرنے کے باوجود وہ منظر ان کے ذہن میں تازہ ہے۔
وہ کہتے ہیں: ’آج بھی جب کرسمس کے موقع پر چرچ میں ’سائلنٹ نائٹ‘ گایا جاتا ہے تو سب لوگ تہوار کی خوشی میں شریک ہوتے ہیں، لیکن میرے ذہن میں اس وقت وہ پھانسی تازہ ہو جاتی ہے۔ شاید وہاں میں اکیلا شخص ہوتا ہوں جو یہ منظر یاد کر رہا ہوتا ہے۔‘
گراچک کے مطابق جب لوگ ان کے کریئر کے بارے میں سنتے ہیں تو اکثر تجسس کا اظہار کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں: ’زیادہ تر لوگ کسی انسان کو مرتے ہوئے نہیں دیکھتے۔‘
تاہم جب لوگ ان سے پوچھتے ہیں کہ انھوں نے کیا دیکھا ہے تو وہ جواب دیتے ہیں: ’یہ واحد کام نہیں جو میں نے کیا ہے یا کرتا رہا ہوں۔‘