ہتھوڑوں سے حملہ اور حاملہ بیوی کو قتل کرنے کی دھمکی: لاکھوں پاؤنڈ کی کرپٹو کرنسی کیسے لوٹی گئی؟

ایک کاروباری شخص کو نقاب پوش افراد نے ہتھوڑوں سے تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر میں گھس کر دھمکی دی کہ اگر انھوں نے کرپٹو کرنسی کی شکل میں لاکھوں پاؤنڈ منتقل نہ کیے تو وہ ان کیحاملہ بیوی کو قتل کر دیں گے۔
Two people running into a home front door as seen by home security CCTV. The men are entirely covered in black and blue outfits, hoods, gloves and masks.
BBC
سولی ہل میں ایک جوڑے پر ان کے گھر میں تین نقاب پوش افراد نے حملہ کیا

اس تحریر میں موجود تفصیلات قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں۔

ایک کاروباری شخص کو نقاب پوش افراد نے ہتھوڑوں سے تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر میں گھس کر دھمکی دی کہ اگر انھوں نے کرپٹو کرنسی کی شکل میں لاکھوں پاؤنڈ منتقل نہ کیے تو وہ ان کیحاملہ بیوی کو قتل کر دیں گے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے، اس جوڑے، جو اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتا، نے اس حملے کو ’ہولناک‘ قرار دیا اور کہا کہ انھیں اپنے پیدا ہونے والے بچے کی جان کے بارے میں خوف تھا۔

متاثرہ شخص نے اپنی کرپٹو کرنسی کی سیونگز ان افراد کو منقتل کی جس کے بعد وہ ایک گاڑی میں فرار ہوئے، جس میں ایک ڈرائیور پہلے سے تیار بیٹھا ہوا تھا۔

کرائم سٹاپرز نے اس حملے کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 10,000 پاؤنڈ کا انعام مقرر کیا ہے۔ یہ حملہ گھر کے سکیورٹی کیمروں میں ریکارڈ ہوا تھا اور پولیس اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔

Hospial shot of bad head wound
BBC
’جیمز‘ کے سر، ہاتھوں اور پسلیوں پر کئی سنگین چوٹیں آئیں

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی پرتشدد ڈکیتیاں، جنھیں ’رینچ اٹیک‘ کہا جاتا ہے، بڑھتی جا رہی ہیں اور ان واقعات میں کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

جیسے جیسے کرپٹو کرنسیوں کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ، فرانس، امریکہ، برازیل، تھائی لینڈ اور فلپائن میں ڈیجیٹل اثاثوں سے منسلک ایسی پُرتشدد ڈکیتیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

رقم منتقل ہونے کے بعد اسے واپس حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے۔

ایک شخص، جسے بی بی سی نے ’جیمز‘ کا فرضی نام دیا ہے، نے بتایا کہ تین افراد زبردستی ان کے سولی ہل میں واقع گھر میں داخل ہوئے اور اس کے بعد شروع ہونے والا تشدد 45 منٹ تک جاری رہا۔

انھوں نے کہا کہ ’دروازہ دھکا دے کر کھولا گیا اور میں نے دستانے اور بالاکلاوا پہنے ہوئے افراد کو اندر آتے ہوئے دیکھا۔‘

جیمز نے ان افراد کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی، لیکن انھوں نے ہتھوڑوں سے ان کے چہرے، سر اور پسلیوں پر وار کیے۔

ان کی سات ماہ کی حاملہ اہلیہ کو ایک مجرم نے صوفے پر پکڑ کر رکھا ہوا تھا۔

جیمز کہتے ہیں کہ ’اس نے میری اہلیہ کے چہرے پر تکیہ رکھا ہوا تھا۔ وہ واقعی انھیں صوفے پر دبا کر ان کا دم گھونٹ رہا تھا۔ میں اسے چیختے ہوئے سن سکتا تھا: ’میں سانس نہیں لے پا رہی۔‘

اس جوڑے کو ابتدا میں یہ تک معلوم نہیں تھا کہ حملہ آور آخر کیا چاہتے ہیں، پھر ایک شخص نے جیمز سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا فون کھول کر اسے دیں۔

جیمز نے کہا کہ حملہ آوروں کو بظاہر یہ معلوم تھا کہ ان کے پاس کرپٹو کرنسی موجود ہے، لیکن انھیں اس تک رسائی حاصل کرنے کے طریقۂ کار کے بارے میں بہت کم سمجھ بوجھ تھی۔

اس کے بجائے وہ کسی دوسرے شخص سے ہدایات لے رہے تھے، جو براہِ راست ویڈیو کال کے ذریعے ان سے منسلک تھا۔

جیمز کہتے ہیں کہ ’میں فیس ٹائم پر موجود اُس شخص کو یہ کہتے ہوئے سن رہا تھا: ’مجھے اس کے فون میں موجود سب کچھ دکھاؤ۔ مجھے دکھاؤ کہ اس کے پاس کون کون سی ایپس ہیں۔‘

جب کال پر موجود شخص کو ایک ایسا کرپٹو والیٹ ملا، جس میں خاصی رقم موجود تھی تو دھمکیوں کی شدت میں نمایاں اضافہ ہو گیا۔

جیمز نے مزید بتایا کہ ’وہ بنیادی طور پر کہہ رہا تھا: ’دیکھو، اگر تم ابھی یہ رقم ہمیں منتقل نہیں کرتے تو ہم تمہاری بیوی کے پیٹ میں چھرا گھونپ دیں گے اور تمہارے بچے کو مار ڈالیں گے۔ ہم تمہاری بیوی کو بھی قتل کر دیں گے۔‘

ان کی اہلیہ، جنھوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی خواہش ظاہر کی، نے گذشتہ سال دسمبر میں ہونے والے اس حملے کو ’ہولناک‘ قرار دیا اور کہا کہ جب جیمز فرش پر بے حس و حرکت پڑے تھے تو انھیں خوف تھا کہ شاید وہ مارے جا چکے ہیں۔

’یہ انتہائی خوفناک تھا۔‘

ان کی اہلیہ، جو تیس کے پیٹے میں ہیں، اُس وقت اپنے تیسرے بچے کے ساتھ حاملہ تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے کے باعث ہونے والے شدید ذہنی دباؤ کی وجہ سے انھیں خدشہ تھا کہ وہ اپنے بچے کو کھو سکتی ہیں۔ تاہم بچہ محفوظ رہا اور مقررہ مدت پوری ہونے پر پیدا ہوا۔

حملہ آور اس وقت وہاں سے چلے گئے جب جیمز نے اپنی جمع پونجی، جو کرپٹو کرنسی کی صورت میں لاکھوں پاؤنڈ پر مشتمل تھی، ویڈیو کال پر موجود شخص کے ڈیجیٹل والیٹ میں منتقل کر دی۔

انھوں نے کئی قیمتی رولیکس گھڑیاں بھی چوری کر لیں۔

جیمز کا کہنا ہے کہ روانگی سے قبل انھوں نے ویڈیو کال پر موجود شخص کو اپنے ساتھیوں سے یہ کہتے ہوئے سنا: ’تم میں سے ہر ایک 10 ہزار پاؤنڈ لے سکتا ہے، لیکن باقی رقم میں رکھوں گا۔‘

Man in light bliue jacket and balaclava
BBC
کرائم سٹاپرز کو امید ہے کہ لوگ ان مجرموں کی شناخت میں مدد کر سکتے ہیں

’رینچ اٹیکس میں اضافہ‘

روایتی بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم کے برعکس کرپٹو کرنسی پر اکثر اس کے مالک کا براہِ راست کنٹرول ہوتا ہے، جو اسے ڈیجیٹل والیٹس یا فزیکل سٹوریج ڈیوائسز کے ذریعے محفوظ رکھتا ہے۔

مجرموں کے لیے تیز رفتار لین دین، گمنامی اور ایک بار منتقلی کے بعد رقم کی واپسی کے مشکل ہونے کا یہ امتزاج کرپٹو کرنسی رکھنے والے افراد کو پُرکشش ہدف بنا سکتا ہے۔

اگرچہ کرپٹو کرنسی کی چوری کے زیادہ تر واقعات آن لائن ہیکنگ اور فراڈ کے ذریعے ہوتے ہیں، تاہم کرپٹو تحقیقات کرنے والی کمپنی چین اینالیسس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند برسوں میں ’رینچ اٹیکس‘ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ان کی تحقیق کے مطابق رواں سال جون تک پُرتشدد ڈکیتیوں کے ذریعے 30 ملین ڈالر (22.6 ملین پاؤنڈ) سے زیادہ مالیت کی کرپٹو کرنسی چرائی جا چکی تھی، جس کے باعث کرپٹو کرنسی سے متعلق پرتشدد حملوں کے حوالے سے 2026 ایک بدترین سال ہو سکتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس سال گھروں میں زبردستی داخل ہو کر کیے جانے والے حملوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ، برازیل اور تھائی لینڈ ایسے ممالک ہیں جہاں اس نوعیت کے واقعات زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں۔ تاہم فرانس میں اب تک سب سے زیادہ حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ٹیکس دفتر میں ہونے والی ایک ڈیٹا بریچ بتائی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بظاہر دولت مند کرپٹو کرنسی رکھنے والے افراد کی شناخت اور مقام تک رسائی ممکن ہو گئی۔

اپنی رپورٹ میں محققین نے کہا: ’روایتی دولت کے تحفظ کے لیے جو حفاظتی انتظامات، جیسے بینکوں کے مضبوط والٹس اور بکتر بند گاڑیاں، استعمال ہوتے ہیں، وہ خود بخود کرپٹو کرنسی پر لاگو نہیں ہوتے۔ اکثر مالکان اپنے اثاثے نسبتاً کم محفوظ مقامات، مثلاً سیلف کسٹڈی والیٹس میں رکھتے ہیں، جن تک بغیر کسی ادارہ جاتی نگرانی یا رکاوٹ کے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔‘

جیمز نے بتایا کہ انھوں نے 2020 میں کرپٹو کرنسی میں بطور شوقیہ سرمایہ کار سرمایہ کاری شروع کی تھی اور اتنی آمدنی حاصل کر لی تھی کہ 2023 میں اپنی ملازمت چھوڑ کر مکمل وقت کے لیے ٹریڈنگ کرنے لگے۔

اب وہ اپنی تمام جمع پونجی کھو چکے ہیں اور اپنی روایتی ملازمت میں واپس جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پولیس اب تک حملہ آوروں کی شناخت نہیں کر سکی ہے۔

کرائم سٹاپرز نے ایسی معلومات فراہم کرنے پر 10,000 پاؤنڈ انعام مقرر کیا ہے جو تحقیقات میں پیش رفت کا سبب بنیں۔

چیریٹی تنظیم کرائم سٹاپرز سے وابستہ ایلن ایڈورڈز کو امید ہے کہ لوگوں کے پاس تین حملہ آوروں، باہر بغیر چہرہ ڈھانپے کھڑی گاڑی کے ڈرائیور، یا فون پر موجود شخص کے بارے میں معلومات ہو سکتی ہیں۔

انھوں نے کہا ’یہ مجرم بظاہر انتہائی خطرناک ہیں اور کسی نہ کسی منظم جرائم پیشہ گروہ کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’لوگ شاید ہمیں معلومات فراہم کرنے سے خوفزدہ ہوں، لیکن ہم پولیس کے اثر سے آزاد ادارہ ہیں اور معلومات دینے والوں کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھتے ہیں۔‘

تینوں حملہ آوروں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی عمریں نوعمری کے آخری برسوں یا بیس کے پیٹے میں تھیں اور ان میں سے ایک سیاہ فام مرد تھا، جس کی بائیں بھنویں کے نیچے ایک نمایاں زخم کا نشان تھا۔

جیمز کہتے ہیں کہ انھیں چرائی گئی رقم واپس ملنے کی امید بہت کم ہے، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ اس جرم کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کا تجربہ دوسروں کے لیے ایک تنبیہ بنے۔

انھوں نے کہا ’انھوں نے میری اہلیہ اور میرے بچے کو دھمکیاں دیں۔ لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ خطرات حقیقی ہیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US