پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کے فروری 2024 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے پاکستان کرکٹ ٹیم کی وائٹ بال کپتانی میں چھٹی تبدیلی کے تحت سلمان علی آغا کو قومی ٹی ٹوئنٹی کپتانی سے برطرف کردیا ہے۔
سلمان آغا کی ایک سال سے زائد کی قیادت میں پاکستان کو بھارت کے خلاف چار میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل محسن نقوی نے عہدہ سنبھالتے ہی شاہین شاہ آفریدی کو ہٹا کر بابر اعظم کو ٹی ٹوئنٹی کپتان بنایا تھا، جن کی ناکامی کے بعد محمد رضوان کو وائٹ بال کی قیادت سونپی گئی۔
رضوان کی ون ڈے میں آسٹریلیا، زمبابوے اور جنوبی افریقہ کے خلاف کامیابیوں کے باوجود ٹی ٹوئنٹی سیریز، ہوم گراؤنڈ پر سہ فریقی سیریز اور آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں ناقص کارکردگی پر انہیں ہٹا کر سلمان آغا کو ٹی ٹوئنٹی اور شاہین آفریدی کو ون ڈے کا کپتان بنایا گیا تھا، جبکہ ایشین گیمز کے لیے صاحبزادہ فرحان نے بھی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی قیادت کی۔
ریڈ بال کرکٹ میں شان مسعود کی جگہ بابر اعظم کو کپتان مقرر کیا گیا، جن کی زیرِ قیادت پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز 1-1 سے برابر کی جبکہ انگلینڈ کے خلاف 3-0 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
انگلینڈ کے دورے میں عبرت ناک شکست کے بعد پی سی بی نے سخت ایکشن لیتے ہوئے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو برطرف کر دیا اور سیریز کے دوران ہی سات کھلاڑیوں کو تبدیل کر دیا۔ واپس بھیجے گئے کھلاڑیوں میں سے محمد رضوان اور امام الحق کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے نامعلوم وجوہات پر انکوائری کا سامنا ہے۔
محسن نقوی کے دور میں کوچنگ اسٹاف میں بھی مسلسل تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، جہاں وائٹ بال میں گیری کرسٹن، جیسن گلیسپی، عاقب جاوید اور مائیک ہیسن جبکہ ریڈ بال میں جیسن گلیسپی، عاقب جاوید، اظہر محمود، سرفراز احمد اور اب مائیک ہیسن ہیڈ کوچ کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔