پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے مرکزی معاہدوں (سینٹرل کانٹریکٹس) کی مدت 31 جولائی کو ختم ہوئے دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے نئے معاہدوں کے لیے منتخب کھلاڑیوں کی فہرست کے اعلان کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
کچھ عرصہ قبل نئے سینٹرل کانٹریکٹس کی درجہ بندی متعارف کرواتے وقت پی سی بی کے ایک سینئر اہلکار نے کہا تھا کہ بورڈ کھلاڑیوں کی فہرست عام کرنے کا پابند نہیں ہے، تاہم کچھ ہی دنوں بعد ایک اور اہلکار نے اس بیان کو غلط فہمی قرار دیتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ نئے معاہدے حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا۔ اس کے باوجود دو ماہ گزرنے پر بھی بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کی فہرست اور ان کی کیٹیگریز کا اعلان سامنے نہیں آسکا، جبکہ بورڈ کے اندرونی ذرائع بھی اس بات سے بے خبر ہیں کہ معاہدے دیے جا چکے ہیں یا ابھی باقی ہیں۔
پی سی بی کی تاریخ میں پہلی بار میڈیا کو مکمل فہرست جاری کرنے کے بجائے تاخیر کا سامنا ہے، جس کی بڑی وجہ 12 ماہ کے ان معاہدوں میں متعارف کرایا گیا نیا نظام ہے۔ ماضی کی روایتی کیٹیگریز کے برعکس اس بار کھلاڑیوں کو فارمیٹس کے مطابق (مثلاً صرف ٹی 20، صرف ٹیسٹ، یا ٹی 20 اور ون ڈے وغیرہ) معاہدے دیے جا رہے ہیں، جس پر کرکٹ حلقوں میں شدید تجسس پایا جاتا ہے۔
ایک قابل اعتماد ذریعہ کے مطابق، اس تاخیر کی بنیادی وجہ بعض کھلاڑیوں کے تحفظات ہیں جو خود کو صرف ایک فارمیٹ تک محدود نہیں دیکھنا چاہتے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 2023 میں بھارت میں منعقدہ ورلڈ کپ کے موقع پر ذکا اشرف کی سربراہی میں مالی مراعات اور نئی شرائط پر طویل مذاکرات کے باعث تاخیر ہوئی تھی، تاہم اس وقت بورڈ نے معاہدے حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کے ناموں کا باقاعدہ اعلان کر دیا تھا۔