جس کھلاڑی نے پاکستان کے لیے میدان میں کامیابیاں سمیٹیں، میڈلز جیتے اور ملک کا نام روشن کیا، وہ آج اپنے کھیل کے اخراجات پورے کرنے کے لیے سڑکوں پر کھانا پہنچانے پر مجبور ہے۔
پاکستان کے پیرا ایتھلیٹ اور پاور لفٹر ناصر بٹ کی کہانی نے کھیلوں سے وابستہ کھلاڑیوں کو درپیش مشکلات ایک بار پھر اجاگر کردی ہیں۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق ناصر بٹ اپنی اگلی پاور لفٹنگ چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے درکار اخراجات جمع کرنے کی خاطر فوڈ پانڈا کے ڈیلیوری رائیڈر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
ناصر بٹ کوئی عام ڈیلیوری رائیڈر نہیں بلکہ پاکستان کے لیے کھیلوں کے میدان میں کامیابی حاصل کرنے والے کھلاڑی ہیں۔ 2018 میں لاہور میں ہونے والے آل پاکستان گیمز فار پرسنز ود ڈس ایبلٹیز میں انہوں نے پاور لفٹنگ کی 80 کلوگرام کیٹیگری میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا تھا۔
ان کی محنت اور حوصلے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کھیل کے میدان میں کامیابیاں حاصل کرنے کے باوجود جب مالی مشکلات نے گھیر لیا تو انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ اپنے کھیل کو جاری رکھنے اور آئندہ مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے ناصر بٹ نے محنت مزدوری کا راستہ اختیار کیا۔
ان کی حالیہ جدوجہد اس تلخ حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے کہ پاکستان میں کئی باصلاحیت کھلاڑی بین الاقوامی اور قومی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے کے باوجود اپنی بنیادی ضروریات اور کھیلوں کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔
ناصر بٹ کی فوڈ پانڈا پر کام کرتے ہوئے سامنے آنے والی کہانی صرف ایک کھلاڑی کی مجبوری نہیں بلکہ اس سوال کو بھی جنم دیتی ہے کہ ملک کے لیے میڈل جیتنے والے کھلاڑیوں کو کھیل جاری رکھنے کے لیے کن حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔
میدان میں پاکستان کا پرچم بلند کرنے والا یہ کھلاڑی آج موٹر سائیکل پر شہر کی سڑکوں پر لوگوں کے گھروں تک کھانا پہنچا رہا ہے، مگر اس کے حوصلے میں کمی نہیں آئی۔ اس کی منزل اب بھی وہی ہے؛ دوبارہ میدان میں اترنا، پاکستان کے لیے کھیلنا اور ایک بار پھر میڈل جیتنا۔