دعا زہرا کے لاپتہ ہونے کا معاملہ سنہ 2022 میں قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں خبروں میں رہا۔اس واقعے کے ساڑھے چار سال بعد اب اُن کی زندگی کیسی ہے؟ گھر واپس آنے کے بعد خاندان نے انھیں کس طرح قبول کیا؟
ایک وقت میں جس لڑکی کے بارے میں دوسروں کی باتیں سب سے زیادہ تھیں، آج وہ اپنی کہانی خود سُنانا چاہتی ہے’میرے والد نے کہا کہ جو کچھ ہوا، اس کے بعد مجھے اب ہمت سے دنیا کا سامنا کرنا ہے۔‘
یہ کہنا ہے دعا زہرا کا، جن کے لاپتہ ہونے کا معاملہ سنہ 2022 میں قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں خبروں میں رہا اور آج بھی اس پر قانونی کارروائی جاری ہے۔
اپریل 2022 میں پیش آنے والے اس واقعے کے لگ بھگ ساڑھے چار سال بعد بی بی سی اُردو نے دعا زہرا سے رابطہ کیا جو اب کراچی میں واقع اپنے گھر میں والدین اور بہن کے ساتھ رہتی ہیں۔
دعا پری میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور اپنی بہن کے ساتھ مل کر یوٹیوب پر وی لاگز بھی بناتی ہیں۔
ہم دعا سے یہ جاننا چاہتے تھے کہ اس واقعے کے ساڑھے چار سال بعد اب اُن کی زندگی کیسی ہے؟ گھر واپس آنے کے بعد خاندان نے انھیں کس طرح قبول کیا اور اس دوران معاشرے کا رویہ اُن کے ساتھ کیسا رہا؟
مگر یہ سب جاننے سے قبل ہمیں اپریل 2022 میں جانا ہو گا، تاکہ یہ جان سکیں کہ دعا کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا تھا۔
اپریل 2022 : دعا کے لاپتہ ہونے اور منظرعام پر آنے کا معاملہ
دعا زہرا کا معاملہ 16 اپریل 2022 میں اُس وقت سامنے آیا، جب اُن کے والد مہدی کاظمی نے کراچی کے ایک تھانے میں اپنی بیٹی کے لاپتہ ہونے کا مقدمہ درج کروایا۔
یہ مقدمہ درج ہونے کے چند روز بعد دعا زہرا کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں انھوں نے بتایا کہ وہ اپنی مرضی سے گھر سے گئی ہیں اور یہ کہ انھوں نے لاہور میں شادی کر لی ہے۔
قانونی کارروائی اگے چلی اور لاہور سے دعا کی بازیابی کے بعد عدالت نے اُن کی عمر کے تعین کے لیے طبی معائنے کا حکم دیا۔سول ہسپتال کراچی کے ریڈیولوجی ڈیپارٹمنٹ کی ایک رپورٹ میں اُن کی عمر 16 سے 17 سال کے درمیان بتائی گئی تاہم اُن کے والد کا مؤقف تھا کہ اُن کی بیٹی محض 14 سال ہے اور کم عمری کی شادی کے لیے اُن کا جعلی نکاح نامہ بنوایا گیا ہے۔
دعا کے والد نے والدین کی موجودگی میں دوبارہ طبی معائنہ کروانے اور عمر کے تعین کے لیے میڈیکل بورڈ بنانے کا مطالبہ کیا اور اُن کے وکیل جبران ناصر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ’دعا سے بار بار جھوٹ بلوایا گیا اور سوال اٹھایا کہ ان سے ایسا کس کے کہنے پر کروایا گیا۔‘ انھوں نے پولیس کی جانب سے ملزم کو گرفتار نہ کیے جانے پر بھی سوالات اٹھائے۔
بعد میں جولائی 2022 میں دعا کی ایک اور طبی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی جس میں اُن کی عمر 15 سے 16 سال کے درمیان اور 15 سال کے قریب بتائی گئی۔
بعدازاں 24 جولائی 2022 کو سندھ پولیس انھیں لاہور سے کراچی واپس لائی، جہاں انھیں ابتدائی طور پر ایک چائلڈ پروٹیکشن سینٹر میں رکھا گیا اور27جولائی کو جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ آفتاب احمد بگھیو نے حکم دیا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران دعا زہرا کراچی میں حکومت کے زیرِ انتظام چلڈرن پروٹیکشن اینڈ شیلٹر ہوم میں رہیں۔
جنوری 2023 میں سندھ ہائیکورٹ نے دعا زہرا کو عارضی طور پر اُن کے والدین کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ مستقل حوالگی کا فیصلہ ٹرائل کورٹ پر چھوڑ دیا گیا تھا اور اُس وقت سے اب تک دعا اپنے والدین کے ساتھ رہ رہی ہیں۔
’پاکستان میں بہت سی بچیوں کے لاپتہ ہونے کے معاملات کو بعد میں کم عمری کی شادی کا رنگ دے دیا جاتا ہے‘ (دعا اور اُن کے والد مہدی کاظمی)’اب لوگ مجھے عزت اور پیار کی نظر سے دیکھتے ہیں‘
اس معاملے کو چار سال سے زیادہ وقت گزر چکا ہے۔
دعا اب اپنے والدین اور بہن کے ساتھ رہتی ہیں۔ وہ اپنی بہن کے ساتھ وی لاگز بھی بناتی ہیں اور کہتی ہیں کہ انھیں اب لوگوں کی جانب سے مثبت ردِعمل مل رہا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’لوگ اب میرے ویلاگز دیکھتے ہیں۔ مجھے پہچانتے ہیں۔ میری دوستیں، ٹیچرز اور رشتہ دار مجھے عزت اور پیار کی نظر سے دیکھتے ہیں۔‘
دعا کا کہنا ہے کہ اُن کے والدین نے اس پورے عرصے میں ان کا بہت ساتھ دیا۔
’میرے والدین پہلے بھی مجھ سے محبت کرتے تھے اور جب میں گھر واپس آ گئی ہوں تو وہ مجھے اور زیادہ محبت اور عزت دیتے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ کسی بھی مشکل یا حادثے سے گزرنے والی لڑکی کے لیے دوبارہ معمول کی زندگی شروع کرنا آسان نہیں ہوتا۔
’میں دوسری بچیوں سے، جو کسی بھی حادثے کا شکار ہوتی ہیں، یہی کہنا چاہوں گی کہ وہ اپنے گھر واپس آئیں، اپنے والدین کا ساتھ دیں اور دنیا کا ہمت اور حوصلے کے ساتھ سامنا کریں۔‘
دعا اب کالج میں پری میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہیں اور پاکستان نیوی میں بطور افسر شمولیت کی خواہش رکھتی ہیں۔
’مجھے بس یہ خوشی تھی کہ میری بیٹی زندہ ہے‘
’دُعا کو تلاش کرنے کے لیے میں نے لوگوں کے گھروں کی پانی کی ٹینکیاں تک چیک کیں‘ (دعا اور اُن کی والدہ صائمہ کاظمی)دعا جب بی بی سی سے بات کر رہی تھیں تو ان کے والدین اور بہن بھی اُسی کمرے میں موجود تھے۔
اُن کی والدہ صائمہ کاظمی نے سنہ 2022 کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ بیٹی کے لاپتہ ہونے کے بعد انھوں نے اسے تلاش کرنے کے لیے لوگوں کے گھروں کی پانی کی ٹینکیاں تک چیک کیں۔
وہ بتاتی ہیں کہ جب انھیں دعا کے زندہ ہونے اور ان کی جانب سے دیے گئے بیان کا علم ہوا تو انھوں نے فوراً شکرانے کے نفل ادا کیے۔
’مجھے اُس وقت صرف یہ خوشی تھی کہ وہ زندہ ہے۔ میں نے یہ نہیں دیکھا کہ اس نے کیا بیان دیا ہے اور کیوں دیا ہے۔ بس مجھے اُس کے زندہ ہونے کی خوشی تھی۔‘
صائمہ کاظمی کے مطابق اُن کی بیٹی کی ابتدائی ویڈیو آنے کے بعد سے کئی ماہ تک وہ ہر روز اپنی بیٹی کی واپسی کی امید میں رہیں۔
’جب بھی کیس میں کوئی بُری خبر آتی تھی تو میں اپنے شوہر سے کہتی تھی کہ مجھے میری بیٹی زندہ سلامت گھر میں واپس چاہیے۔‘
دعا ایک عرصے تک چائلڈ پروٹیکشن سینٹر میں رہیں اور اس دوران کئی مرتبہ اُن کے والدین نے ان سے ملاقات کی۔
صائمہ کاظمی ان ملاقاتوں کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ دعا اُن سے کہتی تھیں کہ گھر آ کر سب سے پہلے پراٹھے کھانے ہیں۔
’کیس چل رہا ہے لیکن میری بیٹی میرے ساتھ بیٹھی ہے‘
دعا زہرا کا مقدمہ اب بھی کراچی کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔
ان کے والد مہدی کاظمی کے مطابق ہر دو ماہ بعد کیس کی سماعت ہوتی ہے لیکن مخالف فریق کی جانب سے کسی کے پیش نہ ہونے کے باعث اکثر اگلی تاریخ دے دی جاتی ہے۔
’کیس تو ابھی چل رہا ہے لیکن میں بہت خوش ہوں کہ میری بیٹی میرے ساتھ بیٹھی ہے اور ہم خوشی سے اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ وقت شاید بطور والد میرا امتحان تھا۔‘
مہدی کاظمی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بہت سی بچیوں کے لاپتہ ہونے کے معاملات کو بعد میں کم عمری کی شادی کا رنگ دے دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے بعض والدین قانونی کارروائی سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’میں ایسے والدین سے یہی کہوں گا کہ وہ اپنی بچیوں کا ساتھ دیں۔‘
اس کیس کے دوران مہدی کاظمی کو مالی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا اور اُن کے مطابق وہ تقریباً چھ ماہ تک کام نہیں کر سکے، تاہم ان کی کمپنی نے ان کا ساتھ دیا۔
وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اس معاملے میں کسی سے مالی مدد نہیں لی اور اخراجات خود برداشت کیے۔
’لوگ کہتے ہیں آپ کو دیکھ کر ہمیں حوصلہ ملتا ہے‘
’میری توجہ ماضی میں رہنے کے بجائے مستقبل کی طرف ہے‘دعا زہرا کا معاملہ پاکستان کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی توجہ کا مرکز رہا تھا۔
مہدی کاظمی بتاتے ہیں کہ انھیں اب بھی ایسے والدین ملتے ہیں جن کے بچے کئی برس سے لاپتہ ہیں۔
’میں اب بھی کبھی گھر سے باہر جاتا ہوں تو لوگ ملتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ نے بطور والد جو کردار ادا کیا وہ مثالی ہے۔ مجھے بہت سے ایسے والدین بھی ملتے ہیں جن کی بیٹیاں یا بیٹے کئی کئی سال سے لاپتہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ کو دیکھ کر ہمیں حوصلہ ملتا ہے کہ شاید ایک دن ہماری بیٹی بھی واپس آجائے گی۔‘
دعا زہرا اب 20 برس کی ہیں۔ سنہ2022میں اُن کی زندگی اچانک ایک ایسے معاملے کا مرکز بن گئی تھی جس نے انھیں طویل عرصے تک عدالتوں، میڈیا اور عوامی بحث میں رکھا۔
آج وہ اپنے گھر میں والدین اور بہن کے ساتھ رہتی ہیں، تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنی ایک نئی شناخت بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ اب ان کی توجہ ماضی میں رہنے کے بجائے مستقبل کی طرف ہے۔
اور شاید ان کی موجودہ زندگی کی سب سے نمایاں بات یہی ہے کہ ایک وقت میں جس لڑکی کے بارے میں دوسروں کی باتیں سب سے زیادہ تھیں، آج وہ اپنی کہانی خود سُنانا چاہتی ہیں۔