’افسر نے نوٹوں سے بھرا لفافہ میرے سامنے رکھا‘: پنجاب کے آئی جی جیل خانہ جات کو مبینہ رشوت کی پیشکش کا واقعہ

پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات کے ایک افسر کو مبینہ طور پر آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت کی پیشکش کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے، جسے حکام اپنی نوعیت کا غیر معمولی واقعہ قرار دے رہے ہیں۔
Bundles of Pakistan rupees
Getty Images

’جیل سپرنٹنڈنٹ جب دوبارہ آئے تو میں سمجھا کہ شاید وہ اپنی کوئی چیز بھول گئے ہیں۔ لیکن جب میں ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو چائے والی میز پر ایک لفافہ رکھا ہوا تھا جس میں پیسے تھے۔ انھوں نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سر میں آپ کو یہ دینا بھول گیا تھا۔‘

پنجاب کے محکمہ جیل خانہ جات کے ایک افسر کو مبینہ طور پر آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت کی پیشکش کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے، جسے حکام اپنی نوعیت کا غیر معمولی واقعہ قرار دے رہے ہیں۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے سپرنٹنڈنٹ عمران برتھ کو معطل کر دیا ہے۔ معطلی کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ انھیں کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات کے باعث عہدے سے ہٹایا گیا ہے، جبکہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے انھیں مبینہ طور پر آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال کو دو لاکھ روپے رشوت کی پیشکش کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا ہے۔

آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ’میرے 33 سالہ کیرئیر میں ایسا واقعہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ رونما ہوا ہے کہ کسی افسر نے اس طرح نوٹوں سے بھرا لفافہ لا کر میرے سامنے رکھا ہو۔‘

میاں سالک جلال کے مطابق ’مجھے عمران برتھ کی کال موصول ہوئی کہ سر میں سرکاری کام سے راولپنڈی آیا ہوں، میں آپ کے پاس ملاقات کے لیے آنا چاہتا ہوں۔ میں نے آپ کو مبارکباد بھی دینی ہے۔ جس پر میں نے سوچا کہ مجھے تو اس محکمے میں آئے تین مہینے ہو گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ انھیں لگ رہا ہو کہ میں نے کال آن نہیں کیا تو میں وہ کر لوں۔ میں نے انھیں آنے کے لیے اجازت دے دی۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل اٹک عمران برتھ 5 اکتوبر 2026 کو رات تقریباً 10 بجے میری رہائش گاہ پر ملاقات کے لیے آئے۔ ہم نے ملاقات کی، وہ پھول اور کیک بھی لے کر آئے۔ انھوں نے ملاقات کے دوران جیل سکیورٹی، سیفٹی اور دیگر انتظامی امور پر بات چیت کی۔ چائے پی اور ہم نے تصاویر بھی اتروائیں جس کے بعد سپرنٹنڈنٹ جیل اٹک وہاں سے روانہ ہو گئے۔‘

ان کے مطابق ’اس کے بعد میں اپنے کمرے آیا نماز پڑھی اور لیٹنے ہی لگا تھا تو مجھے دوبارہ گیٹ سے انٹرکام موصول ہوا کہ سپرنٹنڈنٹصاحب دوبارہ آئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ وہ دوبارہ ملنا چاہتے ہیں ایک ضروری بات کرنا رہ گئی ہے۔ جس پر میں نے کہا کہ انھیں اندر بھیج دیں۔‘

’میں نے نہیں دیکھا کہ اس لفافے میں کتنی رقم ہے‘

آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال کے مطابق ’میں کمرے سے نکل کر ڈرائنگ روم میں پہنچا تو عمران مجھ سے پہلے وہاں موجود تھا۔ اس نے ایک لفافہ میز پر رکھا اور کہنے لگا کہ سر میں آپ کو یہ دینا بھول گیا تھا۔ مجھے سخت غصہ آیا میں نے اسی وقت سارجنٹ کو اندر بلایا اور کہا کہ اس کے سر پر کھڑے ہو۔ یہ یہاں سے جانے نہ پائے۔‘

ان کا دعویٰ ہے کہ ’میں نے نہیں دیکھا کہ اس لفافے میں کتنی رقم ہے اور نہ ہی میں نے اسے ہاتھ لگانے دیا اور ادھر کھڑے کھڑے ہوم سیکرٹری صاحب کو کال ملائی اور کہا ’میں نے سپرنٹنڈنٹ جیل کو رنگے ہاتھوں رشوت کے لفافے کے ساتھ پکڑ لیا ہے‘۔‘

ان کے مطابق ’میں نے ان سے درخواست کی کہ آپ میرے گھر اینٹی کرپشن کی ٹیم کو بھجوائیں اور اسے گرفتار کریں۔ انھوں نے فوری کارروائی کی اور چند ہی لمحوں میں مجھ سے اینٹی کرپشن ٹیم نے رابطہ کیا اور وہ گھر پہنچ گئے۔ اس دوران عمران برتھ مسلسل معافی مانگتا رہا کہ ’سر سوری مجھ سے غلطی ہو گئی‘۔‘

آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کے مطابق ’جب اینٹی کرپشن کی ٹیم آئی تو انھوں نے اس لفافے کو کھول کر پیسے گنے۔ اس لفافے میں دو لاکھ روپے موجود تھے۔ ٹیم نے اس رقم کی ریکوری ڈالی اور اسے گرفتار کر لیا۔‘

جیل سپرنٹنڈنٹ نے آئی جی جیل کو پیسے کیوں آفر کیے؟

اس سوال کے جواب میں آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال کا کہنا تھا کہ ’میری نوکری کے دوران میں نے کئی کرپشن کیسز دیکھے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی بھی کی ہے لیکن ایسا واقعہ میرے کیرئیر میں پہلی مرتبہ پیش آیا ہے کہ کوئی ایسا افسر جو اچھی پوزیشن پر ہو، وہ بغیر کسی وجہ کے ملنے آئے، مبارکباد دے اور ساتھ میں پیسوں کا لفافہ بھی دینے کی کوشش کرے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں جانتا کہ آیا انھوں نے یہ سب اپنے کسی تجربے کی بنیاد پر کیا ہے یا پھر اس کی کوئی اور وجہ ہے کیونکہ ان کی جانب سے مجھ سے کسی قسم کی کوئی سفارش بھی نہیں کی گئی۔‘

آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال کا کہنا تھا کہ ’محکمہ جیل خانہ جات میں کرپشن، رشوت ستانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی افسر یا اہلکار کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔‘

ان کی اس شکایت کے فوری بعد محکمہ داخلہ کی جانب سے عمران برتھ کے معطلی کے آرڈرز جاری کر دیے گئے تھے جس میں یہ لکھا گیا ہے کہ انھیں کرپشن اور بدعنوانی کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

’اس واقعے کے بعد پیسے دینے والے بھی ڈریں گے‘

حکام کے مطابق یہ کارروائی اس لحاظ سے اہم ہے کہ محکمہ جیل خانہ جات کے ایک اہم انتظامی عہدے پر فائز افسر کے خلاف مبینہ رشوت ستانی کے الزام میں کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

تاہم واقعے سے متعلق مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی جانب سے قانون کے مطابق جاری ہیں۔

ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب بھر میں کرپشن کے نمبر میں کمی آئی ہے اور ’لوگ پیسے لیتے ہوئے ڈرتے ہیں۔‘

انھوں نے اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اس واقعے کے بعد پیسے دینے والے بھی ڈریں گے۔‘

سہیل ظفر چٹھہ نے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کلچر میں بہتری آئے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کیس کی تفتیش میرٹ کے مطابق ہو گی۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس واقعے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا سمیت کئی حلقوں سے مختلف قسم کے ردعمل اور سوالات سامنے آئے ہیں۔

ایکس پر صارف شہزاد علی راجہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ’برتھ صاحب کا لیول بھی چیک کریں۔ نوٹوں سے بھرا لفافہ آئی جی کی میز پر رکھ دیا۔ وہ تو شکر ہے آئی جی صاحب نے قبول نہیں کیا۔ ‏سوال تو یہ ہے کہ اینٹی کرپشن سمیت دیگر ادارے کہاں تھے؟‘

انھوں نے لکھا ’‏کیونکہ یہ ایک دن کا کھیل تو نہیں۔ جس جیل میں (غریب، مجبور، بے بس سائلین) سے رشوت لے کر نوٹوں کا تھیلا بھرا گیا۔ وہاں تک کوئی ادارہ کیوں نہیں پہنچا۔۔۔ اتنی رقم اکٹھی کرنے کا پورا نظام آخر کس کی نگرانی میں چل رہا تھا؟‘

صدیق ساجد نے اپنے ایکس اکاونٹ پر لکھا ’یہ بات نوٹ کرنے والی ہے کہ کرپشن اتنی سرایت کر چکی ہے اس سسٹم میں کہ سپرنٹنڈنٹ جیل ذرا بھی ہچکچائے نہیں اور سیدھا پیسے لے کر آئی جی کے گھر پہنچ گئے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US