انڈیا کا دار الحکومت دلی سکیورٹی کے اب تک کے بے مثال اور غیر معمولی حصار میں ہے۔پورا شہر پولیس اور نیم فوجی دستوں کے کنٹرول میں ہے۔ مظاہرے میں شامل ہونے کے لیے آنے والے طلبہ اور نوجوانوں کو مختلف ریاستوں میں ٹرینوں اور بسوں سے اتار حراست میں لیا گیا ہے۔انڈیا کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ووٹر فہرستوں پر نظرِ ثانی کی وجہ سے سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں الزام لگا رہی ہیں کہ کروڑوں ووٹروں کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج کیے گئے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن اور حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
انڈیا کی کمیونسٹ پارٹی کے طلبہ ونگ کے کارکن دو اکتوبر کو نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران نعرے لگاتے ہوئےانڈیا کا دار الحکومت دلی اس وقت سکیورٹی کے ایسے غیر معمولی حصار میں ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
پورا شہر پولیس اور نیم فوجی دستوں کے کنٹرول میں ہے۔ امن و امان کی صورتحال بگڑنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے دلی پولیس نے جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کی احتجاج ریلی کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔
جنتر منتر کے اطراف کئی کلومیٹر تک سکیورٹی کا حصار بنا دیا گیا ہے۔ شہر میں آنے والے سبھی داخلی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ پولیس کی ہدایت پر دلی کی سبھی میٹرو سروسز کل رات نو بجے سے آئندہ اعلان تک بند کر دی گئی ہیں۔ جبکہ دلی آنے اور یہاں سے جانے والی بیشتر ٹرینوں کو صبح چار بجے سے دن دو بجے تک بند کر دیا گیا ہے۔
جنتر منتر کے مظاہرے میں شامل ہونے کے لیے آنے والے طلبہ اور نوجوانوں کو مختلف ریاستوں میں ٹرینوں اور بسوں سے اتار حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس جگہ جگہ یہ اعلان کر رہی ہے کہ لوگ 10 تاریخ کو جنتر منتر پر نوجوانوں کے احتجاج میں شامل نہ ہوں کیونکہ یہ، پولیس کے بقول، قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہو گا۔
میڈیا کی اطلاعات کے مطابق شہر میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کے 30 ہزار سے زیادہ اہلکار کاکروچ جنتا پارٹی اور طلبہ کے احتجاج کو ناکام کرنے کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں اور حکومت کے درمیان تنازعے کا مرکز ووٹر فہرستوں پر خصوصی نظرِ ثانی یعنی سپیشل اِنٹینسو ریویژن (SIR) ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس عمل کے دوران بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام فہرستوں سے نکالے گئے ہیں اور اس سے برسرِ اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو انتخابی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
جنتر منتر کے نزدیک تین روزہ مارچ بعد اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ (انڈین نیشنل ڈیویلپمنٹل اِنکلوسیو الائنس) کے رہنماؤں نے نو اکتوبر کی رات ملک کی صدر دروپدی مورمو سے ملاقات کی اور ان سے ووٹر فہرستوں ووٹر فہرستوں پر خصوصی نظرِ ثانی اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے کردار پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انھیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مہم میں سرگرم سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور سماجی کارکن پرشانت بھوشن نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’سکیورٹی فورسز کے بل بوتے پر عوامی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ احتجاج کو روکنے کے لیے کیے گئے غیر معمولی انتظامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت عوامی ردعمل سے خوفزدہ ہے۔‘
دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی اور مختلف طلبہ تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود جنتر منتر پر احتجاج کیا جائے گا۔ تنظیموں نے اپنے حامیوں اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس احتجاجی مظاہرے میں شرکت کریں۔
انڈیا کی اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی نگرانی میں ووٹر فہرستوں پر خصوصی نظرِ ثانی کے عمل کے دوران دانستہ بے ضابطگیاں کی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں 13 کروڑ سے زیادہ رائے دہندگان کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج کر دیے گئے۔
اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ووٹرز کے نام شامل کرنے اور خارج کرنے کا عمل اس انداز میں انجام دیا گیا جس سے برسرِ اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو انتخابی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں سامنے آنے والی بعض رپورٹس نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ماہ شائع ہونے والی انڈین ایکسپریس کی ایک تفتیشی رپورٹ کے بعد ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں اور ان کے ممکنہ سیاسی اثرات کے بارے میں مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا ایک آئینی ادارہ ہے جو حکومت سے الگ اور انتظامی طور پر خودمختار حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا بنیادی کام ملک میں آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا ہے۔
اصولی طور پر یہ ادارہ کسی بھی سیاسی یا انتظامی دباؤ سے بالاتر ہو کر کام کرتا ہے۔ کمیشن تین ارکان پر مشتمل ہوتا ہے: ایک چیف الیکشن کمشنر اور دو الیکشن کمشنرز۔
اگرچہ چیف الیکشن کمشنر ادارے کے سربراہ ہوتے ہیں، لیکن تینوں ارکان کا درجہ برابر ہوتا ہے اور اہم فیصلے تنہا چیف الیکشن کمشنر نہیں کر سکتے۔ ایسے فیصلے یا تو اتفاقِ رائے سے کیے جاتے ہیں یا پھر اکثریتی رائے کی بنیاد پر طے پاتے ہیں۔
ملک میں انتخابات کرانے، ووٹر فہرستوں کی نگرانی کرنے اور انتخابی عمل کی شفافیت برقرار رکھنے کی ذمہ داری بھی اسی ادارے پر عائد ہوتی ہے۔
موجودہ تنازع اسی لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ الزامات کسی سیاسی جماعت یا امیدوار پر نہیں بلکہ اسی ادارے کے سربراہ پر لگائے جا رہے ہیں جسے انتخابات کی غیر جانبداری کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔
اس تنازع کی بنیاد اُن رپورٹس کو قرار دیا جا رہا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے الیکشن کمیشن کے دیگر دو ارکان، سُکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، کو اعتماد میں لیے بغیر کئی اہم فیصلے کیے۔ رپورٹس کے مطابق دونوں الیکشن کمشنرز نے ان میں سے بعض فیصلوں پر اعتراضات اٹھائے اور اپنی شکایات بھی ریکارڈ کروائیں، تاہم مبینہ طور پر چیف الیکشن کمشنر نے ان اعتراضات کو نظر انداز کر دیا۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار تقریباً ایک سال سے تنقید اور تنازعات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ووٹر فہرستوں کی جامع نظرِ ثانی کا وہ عمل ہے جسے الیکشن کمیشن نے سپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کا نام دیا ہے۔
ووٹر فہرستوں پر خصوصی نظرِ ثانی کی یہ مہم، جس کا آغاز گذشتہ برس ریاست بہار سے ہوا تھا، اب ملک کے بیشتر حصوں تک پھیل چکی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں اب تک 30 ریاستوں اور وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں کی عبوری ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ سے زیادہ نام خارج کیے جا چکے ہیں، جو انڈیا کے مجموعی ووٹروں کا تقریباً 13 فیصد بنتے ہیں۔
ایک جانب الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد جعلی، دہرے یا غیر قانونی اندراجات کو ختم کرنا اور انتخابی فہرستوں کو زیادہ درست اور قابلِ اعتماد بنانا ہے، لیکن دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں اور بعض سماجی کارکن اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔
ان کا موقف ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں لاکھوں ایسے شہری بھی ووٹر فہرستوں سے خارج ہو سکتے ہیں جو قانونی طور پر ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، جس سے بڑی تعداد میں لوگ اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔
اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر یہ الزام بھی عائد کر رہی ہیں کہ ووٹر فہرستوں میں کی جانے والی تبدیلیاں بالآخر برسرِ اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو انتخابی فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں کے الزامات کو تقویت دینے والوں میں انتخابی اعداد و شمار کے ماہر پرنے روئے بھی شامل ہیں۔ انھوں نے اپنے ایک پروگرام میں مغربی بنگال کے انتخابات کا تجزیہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے عمل سے مسلم اور خواتین ووٹروں کے نام نسبتاً زیادہ تعداد میں خارج ہوئے۔
ان کے مطابق جن حلقوں میں ووٹر فہرستوں سے نکالے جانے والے ناموں میں مسلمانوں اور خواتین کا تناسب زیادہ تھا، وہاں ترنمول کانگریس کو انتخابی طور پر نقصان اٹھانا پڑا۔
پرنے روئے کا کہنا تھا کہ ایسے حلقوں میں ممتا بنرجی کی جماعت کو اوسطاً 18 فیصد تک نقصان پہنچا، جس کا براہِ راست سیاسی فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ملا۔
اسی طرح انتخابی حکمتِ عملی کے ماہر پرشانت کشور نے بھی ایس آئی آر کے اثرات کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مغربی بنگال میں ووٹر فہرستوں پر یہ خصوصی نظرِ ثانی نہ کی گئی ہوتی تو بی جے پی کی انتخابی کارکردگی نمایاں طور پر مختلف ہو سکتی تھی۔
گیانیش کمار اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ان تمام الزامات کو مسترد کیا ہے کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے اس عمل کو کسی سیاسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
انتخابی اعداد و شمار کے ماہر پرنے روئے اور انتخابی حکمتِ عملی کے ماہر پرشانت کشور ہی نہیں، بلکہ انتخابی امور کے ماہر یوگیندر یادو بھی حالیہ انتخابات اور ووٹر فہرستوں سے متعلق سوالات اٹھا رہے ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو میں یوگیندر یادو نے کہا: ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے انتخابات کی دیانت داری پر بڑے حملے ہوئے ہیں۔ پہلے بھی انتخابات میں چھوٹی موٹی بے ضابطگیاں ہوتی تھیں، لیکن مجموعی طور پر عوام جسے اقتدار میں لانا چاہتے تھے وہی کامیاب ہوتا تھا۔ اسی وجہ سے پوری دنیا میں انڈیا کے الیکشن کمیشن کی ایک ساکھ تھی۔‘
یادو کے مطابق 2023 کے مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات وہ پہلا موقع تھے جب انھیں انتخابی نتائج اور زمینی حقائق کے درمیان تضاد محسوس ہوا۔
’مجھے لگا کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے۔ جو ڈیٹا زمین پر موجود تھا وہ نتائج سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ بعد میں یہی صورتحال ہریانہ اور مہاراشٹر میں بھی دکھائی دی۔ اور پھر بنگال کے انتخابات نے ان شکوک و شبہات کو مزید تقویت دی۔‘
یوگیندر یادو کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک اب بنیادی سوال یہ نہیں رہا کہ انتخابی عمل میں کسی قسم کی خرابی موجود ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اگر کوئی خرابی موجود ہے تو اس کی نوعیت کیا ہے اور اس کا دائرہ کتنا وسیع ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس تنازع نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی کے مطابق، ’انڈیا کا الیکشن کمیشن ایک غیر جانبدار ادارہ سمجھا جاتا رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی شہرت اچھی رہی ہے۔ اگر اس پر عوام کا اعتماد مجروح ہوا تو یہ ایک سنگین معاملہ ہو گا، کیونکہ ایک بار کھویا ہوا اعتماد بحال کرنا آسان نہیں ہوتا۔‘
حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ان احتجاجی مظاہروں کی سخت مذمت کی ہے۔ بی جے پی کے رکن پارلیمان سمبت پاترا نے ان مظاہروں کو ’انارکی کے ذریعے اقتدار کی تبدیلی کی ایک منظم کوشش‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن سمیت ملک کے دیگر آئینی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
بی جے پی کے ترجمان سندیپ بھنداڑی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن رہنما راہل گاندھی اپنے بیانات اور احتجاجی مہم کے ذریعے ملک میں افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بی جے پی کے بعض رہنماؤں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اپوزیشن ان افراد کے حق میں آواز اٹھا رہی ہے جنھیں ووٹر فہرستوں کی نظرِ ثانی کے دوران خارج کیا گیا، جبکہ ان کے بقول ان میں غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن بھی شامل ہیں۔
حکمراں جماعت کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کسی فرد یا جماعت کے مفاد کا تحفظ نہیں کر رہی بلکہ اس کی کوشش انتخابی نظام اور انڈیا کی جمہوریت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ تنازع کو محض ایک الگ تھلگ واقعے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق اگرچہ ایک دس پندرہ سال پہلے تک الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ایک مؤثر، آزاد اور خود مختار ادارے کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن یہ پہلا موقع نہیں جب اس کی غیر جانب داری پر سوالات اٹھے ہوں۔
مثال کے طور پر 2019 کے عام انتخابات کے دوران بھی الیکشن کمیشن کو اپوزیشن جماعتوں اور ناقدین کی جانب سے جانبداری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اُس وقت کے ناقدین کا مؤقف تھا کہ ضابطۂ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق متعدد شکایات میں کمیشن نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو کلین چٹ دی۔
اسی تنازع کے دوران اُس وقت کے الیکشن کمشنر اشوک لواسا نے بعض فیصلوں سے اختلاف کیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ چونکہ فیصلے اکثریتی رائے کی بنیاد پر کیے گئے، اس لیے ان کے اختلافی نوٹ کو باضابطہ ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
الیکشن کمیشن کی خود مختاری سے متعلق خدشات 2023 میں مزید شدت اختیار کر گئے، جب انڈین پارلیمنٹ نے الیکشن کمشنرز کی تقرری کے طریقۂ کار میں تبدیلی کا قانون منظور کیا۔
اس قانون کے تحت الیکشن کمشنرز کے انتخاب کے لیے قائم تین رکنی کمیٹی سے انڈیا کے چیف جسٹس کو خارج کر دیا گیا اور ان کی جگہ وزیرِ اعظم کے نامزد کردہ ایک وفاقی وزیر کو شامل کر دیا گیا۔
اس تبدیلی کے بعد انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والے ادارے کی آزادی اور غیر جانب داری کے بارے میں نئی بحث شروع ہو گئی۔ ناقدین کا الزام تھا کہ انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والے اِس سب سے بڑے خود مختار ادارے کے ڈھانچے اور اُس کی آزادی کو اِس قانون کے ذریعے شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کو 2024 کے عام انتخابات کے دوران بھی ایک بڑے تنازع کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اُس وقت پولنگ کے اختتام کے باوجود ووٹروں کی حتمی تعداد سے متعلق اعداد و شمار کئی ہفتوں تک جاری نہیں کیے گئے۔
انتخابی مبصرین کے مطابق ووٹر ٹرن آؤٹ کے اعداد و شمار کے اجرا میں غیر معمولی تاخیر اور بعد میں سامنے آنے والے بعض اعداد و شمار میں اتار چڑھاؤ نے شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا۔
اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے کو بنیاد بناتے ہوئے انتخابی نتائج کی شفافیت پر سوالات اٹھائے انتخابی نتائج میں مبینہ ہیر پھیر اور دھاندلی کے الزامات عائد کیے۔
جون 2025 میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ریاست بہار میں ووٹر فہرستوں کی جامع نظرِ ثانی کے منصوبے، سپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر)، کا آغاز کیا تھا، جس کے تحت عبوری ووٹر فہرستوں سے تقریباً 65 لاکھ نام خارج کیے گئے۔ اس اقدام نے سیاسی تنازع کو جنم دیا اور حزبِ اختلاف کی کانگریس پارٹی نے اس کی شدید مخالفت کی۔
کانگریس رہنما راہول گاندھی کی قیادت میں اس فیصلے کے خلاف 1300 کلومیٹر طویل ’ووٹر رائٹس مارچ‘ شروع کیا گیا۔ اس مارچ کے دوران راہول گاندھی نے الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ووٹر فہرستوں میں کی جانے والی تبدیلیاں دراصل ’ووٹ چوری‘ کے مترادف ہیں۔
لیکن اس تنازع کا اثر صرف ووٹر فہرستوں یا الیکشن کمیشن کی ساکھ تک محدود نہیں ہے۔ ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ آیا اس سے انڈیا کے انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
اس وقت انڈیا میں مختلف نوعیت کے احتجاج جاری ہیں۔ کہیں طلبہ اور نوجوان سڑکوں پر ہیں، کہیں خواتین اپنے مسائل پر آواز اٹھا رہی ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتیں ووٹر فہرستوں اور انتخابی شفافیت کے معاملے پر حکومت اور الیکشن کمیشن کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
کیا یہ سب مل کر بی جے پی کی حکومت کے خلاف ایک بڑا خطرہ بن سکتے ہیں؟ یا یہ سب احتجاج کچھ عرصے میں ختم ہو جائے گا اور لوگ بھول بھال جائیں گے؟
انتخابی امور کے ماہر یوگیندر یادو کا کہنا ہے کہ ان احتجاجی تحریکوں کو صرف الگ الگ واقعات کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ان کے پسِ منظر میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی بھی کارفرما ہے۔
بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے کہا: ’ملک کے نوجوانوں میں خاصی ناراضی پائی جاتی ہے۔ روزگار، تعلیم اور مستقبل سے متعلق خدشات پہلے ہی موجود تھے، جبکہ ووٹر فہرستوں سے نام خارج کیے جانے کے معاملے نے اس ناراضی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔‘
ان کے مطابق طویل عرصے بعد بڑی تعداد میں نوجوان مختلف معاملات پر سڑکوں پر نظر آ رہے ہیں، ان کا ’ڈر ختم ہو گیا ہے، یہ مودی حکومت کے لیے بدلتی ہوئی صورتحال کا اشارہ ہے۔ حکومت سمجھ نہیں پا رہی ہے کہ نوجوان نسل کی بے چینی کو کیسے دبایا جائے۔‘
اگر اپوزیشن جماعتوں کے الزامات درست مان لیے جائیں تو پھر ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ووٹر فہرستوں میں کی گئی ان تبدیلیوں نے حالیہ انتخابات کے نتائج پر کس حد تک اثر ڈالا ہو گا۔
اپوزیشن جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ ایس آئی آر کے عمل نے خاص طور پر بہار اور مغربی بنگال کے انتخابی نتائج پر اثر ڈالا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر ووٹر فہرستوں سے 13 سے 15 کروڑ رائے دہندگان کے نام خارج کیے جائیں تو اس کے سیاسی اور انتخابی نتائج سے مکمل طور پر لاتعلق رہنا ممکن نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں نہ صرف موجودہ ایس آئی آر عمل کو منسوخ کرنے بلکہ ووٹر فہرستوں کی سابقہ صورتِ حال بحال کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے الیکشن کمشنرز کی تقرری کے نظام اور ووٹر فہرستوں کی تیاری کے طریقۂ کار پر بھی نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔
تجزیہ کار اؤبھرا آستھا کے مطابق اس تنازع نے کئی بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے جن پر ’پارلیمنٹ میں بات ہونی چاہیے۔‘
بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے کہا: ’عوامی نمائندگی ایکٹ پر بات ہونی چاہیے، ووٹر فہرستوں کی تیاری، ان میں ناموں کے اضافے اور اخراج کے طریقۂ کار اور ملک کے اندر آبادی کی نقل مکانی جیسے معاملات پر بحث ہونی چاہیے۔‘
ان کے مطابق اگر الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھ رہے ہیں تو ان کا جواب بھی الیکشن کمیشن ہی کو دینا چاہیے۔ ’اگر واقعی کوئی مسئلہ موجود ہے تو اس کا حل بھی وہی نکالیں۔‘
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر نوجوانوں کی کوئی تحریک بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے لیک ہونے، تعلیمی نظام کی خامیوں یا حکومتی اداروں میں جوابدہی کے فقدان جیسے مسائل کو عوامی بحث کا مرکز بنانے میں کامیاب ہو جائے تو اس سے حکومت کے ترقیاتی دعووں کو چیلنج درپیش ہو سکتا ہے۔
تاہم ایسا ہونا لازمی نہیں کہ عوامی ناراضی یا احتجاجی تحریکیں فوری طور پر اپوزیشن جماعتوں کے حق میں ووٹوں میں تبدیل ہو جائیں۔ البتہ یہ حالات ووٹروں کو موجودہ نظام اور سیاسی قیادت کے بارے میں ازسرِ نو غور کرنے پر ضرور مائل کر سکتے ہیں۔
بعض مبصرین کے مطابق اس وقت انڈیا میں مختلف سیاسی بیانیوں کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔ ایک طرف حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت کی کامیابیوں اور معاشی ترقی کو نمایاں کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب بے چینی، عدم اطمینان اور نظام سے ناراضی کے جذبات بھی مختلف حلقوں میں دکھائی دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والے اداروں یا ووٹر فہرستوں کے بارے میں سوالات پیدا ہوں تو اس سے انتخابی نظام پر عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
تاہم، مبصرین کے مطابق، ماضی کا تجربہ یہ بھی بتاتا ہے کہ سڑکوں پر ہونے والے بڑے اور کامیاب احتجاج ہمیشہ انتخابی نتائج میں اسی تناسب سے الیکشن کے نتائج کو تبدیل نہیں کرتے۔