نوبیل امن انعام نہ ملنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ناروے اور انعامی کمیٹی پر تنقید کی، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے جنوبی ایشیا میں امن کے لیے ٹرمپ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے انھیں اس انعام کے لیے نامزد کیا تھا۔ اس سال نوبیل امن انعام ناوی پِلّے کو دیا گیا، جنھوں نے غزہ میں اسرائیلی اقدامات سے متعلق اقوامِ متحدہ کی تحقیقات کی قیادت کی۔
سال 2026 کے لیے نوبل انعام کا اعلان ہوا تو بہت سے لوگوں نے انعام کی حق دار قرار پانے والی 85 سالہ ناوی پلے کے لیے خوشی اور عقیدت کا اظہار کیا۔ کیونکہ انھیں یہ اعزاز جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور بین الاقوامی قانون کے تحفظ کے لیے ان کی طویل خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ لیکن اس اعلان پر اگر کوئی سب سے زیادہ ناراض ہوا تو وہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔
امریکی صدر کے لیے نوبل انعام کی سفارشات کی بازگشت کئی بار سنائی دی گئی۔ ایسا کرنے والوں میں خود پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی شامل ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس بار تو ٹرمپ خود بھی خاصے ناراض دکھائی دیے اور نہ صرف ناوی پلے کو ایسی شخصیت قرار دیا جنھیں ’کوئی جانتا تک نہیں‘ بلکہ ناروے کے ساتھ بھی اپنی ناراضی کا واضح اظہار کیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے یہ بیان جمعے کو نیویارک کے شہر سائراکیوز میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا کہ ’اس فیصلے سے ناروے پر ایسا داغ لگا ہے جو کبھی نہیں مٹے گا۔‘
انھوں نے رواں سال کا نوبیل امن انعام جیتنے والی جنوبی افریقہ کی قانون دان ناوانیتھم ’ناوی پلے‘ کو ’پراسرار شخصیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ان کا نام پہلے کبھی نہیں سنا۔
نوبیل کمیٹی نے اس سے چند گھنٹے قبل ناوی پلے کو امن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے خدمات کے اعتراف میں سنہ 2026 کا نوبیل امن انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ نوبیل امن انعام دینے کا فیصلہ ’شرمناک اور باعثِ خفت‘ ہے اور اس سے ناروے پر ایسا داغ لگا ہے جو کبھی نہیں مٹے گا۔‘
انھوں نے انعام کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’چند انتہا پسند نظریات کے حامل افراد نے اسے (نوبیل انعام کو)ہمیشہ کے لیے بدنام کر دیا ہے، جو ان کے بقول جمہوریت کے مخالف اور تہذیب کے دشمن ہیں۔‘
امن کا نوبیل انعام ناروے کی نوبیل کمیٹی دیتی ہے۔ یہ کمیٹی ناروے کی پارلیمنٹ کی جانب سے منتخب کیے گئے پانچ ارکان پر مشتمل ہوتی ہے اور ہر سال ایسے فرد یا ادارے کو یہ انعام دیتی ہے جس نے امن کے فروغ، تنازعات کے حل یا انسانی حقوق کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔ نوبیل امن انعام کا اعلان ناروے کے شہر اوسلو میں کیا جاتا ہے، جبکہ دیگر نوبیل انعامات سویڈن میں دیے جاتے ہیں۔
انھوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ’میں نے جو جنگیں روکیں ان کے لیے میں نے کبھی اقوامِ متحدہ سے بات نہیں کی۔ وہ میرے لیے اس کام میں کبھی مدد گار نہیں رہے۔ میں یہاں امریکہ میں اقوامِ متحدہ کی نمائندگی کرتا ہوں۔ یہ انعام مجھے ملنا چاہیے تھا لیکن نہیں ملا۔‘
’آپ نے یہ انعام ایسے شخص کو نہیں دیا جس کا اب تک کا سب سے عظیم ریکارڈ ہے جس نے آٹھ جنگیں روکیں۔‘
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے آٹھ جنگیں ختم کرانے میں کردار ادا کیا ہے اور وہ ایران اور روس و یوکرین کی جنگ سمیت مزید دو تنازعات کے حل یا ان میں کامیابی کے قریب ہیں۔
انھوں نے شمالی اور جنوبی کوریا، جاپان اور شمالی کوریا، نیز چین اور تائیوان کے درمیان جنگیں چھڑنے سے روکنے میں بھی اپنا کردار ادا کرنے کا دعویٰ کیا، تاہم انھوں نے ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
ٹرمپ اپنی صدارت کے دوران متعدد مرتبہ نوبیل امن انعام نہ ملنے پر مایوسی کا اظہار کر چکے ہیں۔ گذشتہ سال کی نوبیل امن انعام یافتہ وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے جنوری میں اپنا نوبیل تمغہ ٹرمپ کو پیش کیا تھا، تاہم اس اقدام سے انعام باضابطہ طور پر کسی دوسرے شخص کو منتقل نہیں ہوا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی ٹرمپ کے لیے نوبیل امن انعام کی حمایت
پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے بھی ایکس پر جمعے کی شب جاری ہونے والے اپنے بیان میں امریکی صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام دینے کی حمایت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا میں امن کے فروغ میں تاریخی کردار ادا کیا اور ان کی بروقت مداخلت سے پاکستان اور انڈیا جنگ کے دہانے سے واپس آئے اور جنگ بندی ممکن ہوئی، جو اب تک برقرار ہے۔‘
وزیرِاعظم نے کہا کہ ’پاکستان نے صدر ٹرمپ کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں انھیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا تھا اور امید ظاہر کی کہ خطے میں امن کے فروغ اور تنازعات روکنے کے لیے ان کی کوششوں کو اس مرتبہ مناسب پذیرائی ملے گی۔‘
تاہم انڈیا مسلسل اس مؤقف کی تردید کرتا رہا ہے کہ جنگ بندی میں امریکہ نے ثالثی کی تھی۔
انڈیا کے مطابق مئی 2025 میں فوجی کارروائیاں روکنے کا فیصلہ دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست رابطوں کے نتیجے میں ہوا تھا نہ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت سے۔
تاہم کئی سوشل میڈیا صارفین اس بات پر امریکی صدر پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔
ایکس صارف ہوائی ڈیلیلا نے لکھا ہے کہ ’ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے والا، مادورو کو اغوا کرنے اور وینزویلا کا تیل چرانے والا، کیریبین میں ماہی گیروں پر بمباری کرنے والا، تارکینِ وطن کو تیسرے ممالک میں زبردستی بھیجنے والا اور گرین لینڈ اور کینیڈا پر قبضے کی دھمکیاں دینے والا شخص اب اس بات پر منہ پھلا کر بیٹھا ہے کہ نوبیل کمیٹی اتنی پاگل نہیں کہ اسے امن کا انعام دے دے۔‘
ایک اور گریگ لائینز نامی ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ناوی پِلّے کو مبارک ہو، آخرکار کسی ایسے شخص کو نوبیل امن انعام ملا ہے جو واقعی اس کا مستحق ہے۔‘
ایون نامی ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’نوبیل امن انعام ناوی پِلّے کو دیا گیا ہے، جنھوں نے اقوامِ متحدہ کے ایک تحقیقاتی پینل کی قیادت کی تھی جس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی ہے۔‘
صارف کے مطابق 'ناوی پِلّے کو یہ انعام ڈونلڈ ٹرمپ پر اس لیے ترجیح دے کر دیا گیا کیونکہ وہ جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے بجائے ان کے مقدمات چلانے میں مدد کرتی ہیں۔'
بعض صارفین کے لیے اب یہ بات پریشان کن ہے کہ ٹرمپ کی ناروے سے ناراضگی کا اظہار در اصل کوئی دھمکی نہ ہو۔
ایکس صارف سلیمان سبیح نے لکھا کہ 'نوبیل امن انعام نہ ملنے کے بعد ٹرمپ کی انا اچانک سفارتی مسئلہ بن گئی ہے۔ انعام نہ ملنے پر ٹرمپ نے ناروے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس فیصلے کو ’ایسا داغ قرار دیا جو کبھی نہیں مٹے گا۔‘
سلیمان سبیح نے ایکس پر سوال اٹھایا کہ ’جب کسی صدر کی ذاتی خودپسندی خارجہ پالیسی میں شامل ہو جائے تو بین الاقوامی تعلقات کس قدر نازک ہو سکتے ہیں؟‘
ان کے مطابق ’امریکہ کے اتحاد، سفارتی ساکھ اور عالمی استحکام کو کسی ایک شخص کی پذیرائی حاصل کرنے کی کوشش کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔ صدارت کوئی ذاتی ایوارڈ تقریب نہیں ہے۔‘
ایکس صارف عبدالقابیر بالوگون نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ رمپ نے جو کچھ کہا، وہ سب درست ہے۔ ہمیں سب کو مل کر ایک شاندار اور بڑے پیمانے پر تقریب منعقد کرنی چاہیے اور انھیں نوبیل امن انعام دینا چاہیے، تاکہ دنیا بھر میں معمول کے حالات بحال ہو سکیں اور امن برقرار رکھا جا سکے۔‘
اس سال نوبیل امن انعام ناوی پلے کو کیوں ملا؟
ناوی پلے کو نوبیل امن انعام دینے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر وسیع پابندیوں کا اعلان کیا۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ’ان اقدامات کا مقصد امریکی خودمختاری کا دفاع کرنا ہے۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ عدالت امریکی شہریوں کے خلاف مقدمات چلانے کی کوشش کر رہی ہے اور خبردار کیا کہ ’یا تو عدالت اپنی دھمکیاں ختم کرے یا ہم اس کا وجود ختم کر دیں گے۔‘
عدالت نے امریکی پابندیوں کو قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی۔ واشنگٹن اس سے پہلے عدالت کے 17 ججوں اور عہدیداروں پر پابندیاں عائد کر چکا تھا، تاہم نئی پابندیوں کا ہدف عدالت بطور ادارہ ہے۔ ان کا مقصد عدالت کی مالی اور انتظامی صلاحیت کو متاثر کرنا ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے امریکی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے عدالت کو ’سیاسی ادارہ‘ قرار دیا۔ عدالت نے غزہ میں مبینہ جرائم کے الزامات پر نیتن یاہو کے وارنٹِ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔

ناروے کی نوبیل کمیٹی نے 85 سالہ ناوی پلے کو جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور بین الاقوامی قانون کے تحفظ کے لیے ان کی طویل خدمات کے اعتراف میں انعام دیا ہے۔
کمیٹی کے سربراہ یورگن واٹنے فریدنیس کے مطابق، ناوی پلے نے بین الاقوامی سطح پر امن، انصاف اور قانون کی بالادستی کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ کمیٹی نے ایسے وقت میں ان کی خدمات کو اہم قرار دیا ہے جب بین الاقوامی قانونی نظام اور اس کے اداروں کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔
ناوی پلے اقوامِ متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کی سابق جج ہیں۔ وہ اقوامِ متحدہ کے اس آزاد تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں جس نے گذشتہ سال نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی۔ اسرائیل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔
انعام کے اعلان کے بعد ناوی پلے نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب انھیں فون پر بتایا گیا کہ انھوں نے نوبیل امن انعام جیت لیا ہے تو ابتدا میں انھیں لگا کہ شاید یہ مذاق ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ ایک وکیل اور جج ہیں، اس لیے خبر کی تصدیق کرنا چاہتی تھیں۔
حاضرین کی تالیوں کے دوران انھوں نے امریکی صدر ٹرمپ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ کچھ اور تالیاں بجائیں تو شاید میں یہ انعام ٹرمپ کے ساتھ بھی بانٹ لوں۔‘
ان کا یہ تبصرہ ٹرمپ کی جانب سے نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش اور ماچاڈو کی جانب سے انھیں اپنا تمغہ پیش کیے جانے کے واقعے کی طرف اشارہ تھا۔

ناوی پلے کون ہیں؟
ناوانیتھم 'ناوی' پلے سنہ 1941 میں جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں ایک انڈین نژاد تامل خاندان میں پیدا ہوئیں۔
ان کے والد بس ڈرائیور تھے۔ نسلی امتیاز کے نظام، اپارتھائیڈ، کے دور میں انھوں نے انسانی حقوق کے لیے کام شروع کیا اور سنہ 1967 میں صوبہ نیٹل میں وکالت کا دفتر قائم کرنے والی پہلی خاتون بنیں۔
بعد ازاں وہ جنوبی افریقہ کی ہائیکورٹ میں جج مقرر ہونے والی پہلی غیر سفید فام خاتون بنیں۔ انھیں روانڈا میں نسل کشی کے مقدمات کی سماعت کرنے والے بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل میں جج مقرر کیا گیا، جہاں انھوں نے آٹھ سال خدمات انجام دیں اور چار سال اس کی سربراہ رہیں۔
سنہ 2008 سے سنہ 2014 تک وہ اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے منصب پر فائز رہیں۔ اس دوران انھوں نے دنیا کے مختلف حصوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق معاملات پر کام کیا۔
حالیہ برسوں میں وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ رہیں۔ وہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے الزامات سے متعلق بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مقدمے میں بھی جج کی حیثیت سے وابستہ ہیں۔
ناوی پلے کی طویل قانونی خدمات اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کو نوبیل کمیٹی نے بین الاقوامی انصاف اور قانون کی بالادستی کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
روبیو کی عالمی فوجداری عدالت کو دھمکی

نیویارک یونیورسٹی کے قانون کے پروفیسر ریان گڈمین کے مطابق، پابندیوں کے نتیجے میں عدالت کے لیے مقدمات کی سماعت جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ اسے زیرِ حراست ایسے افراد کو رہا کرنا پڑ سکتا ہے جو مقدمے یا سزا کے انتظار میں ہیں۔ یہ تنازع عدالت کی 24 سالہ تاریخ کے سنگین ترین بحرانوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال نوبیل امن انعام جیتنے والی وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے رواں سال جنوری میں اپنا تمغہ ٹرمپ کو پیش کیا تھا۔ انھوں نے اسے ٹرمپ کی آزادی کے لیے غیر معمولی عزم کا اعتراف قرار دیا تھا۔