’ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے‘: راہول گاندھی کی جنتر منتر احتجاج کی حمایت، دہلی میں گرفتاریاں جاری اور سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کی دھمکی

کاکروچ جنتا پارٹی نے انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے جنتر منتر میں سنیچر کو الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے احتجاج کی کال دے رکھی ہے اور اس احتجاج کو روکنے کے لیے دہلی اس وقت سکیورٹی کےغیرمعمولی حصار میں ہے۔ دوسری جانباحتجاج کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’انڈیا کے نوجوانوں، مجھے آپ پر فخر ہے۔ اپنا احتجاج جاری رکھیں۔ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
Getty Images
Getty Images
سنیچر کی صبح تک دہلی میں ایک ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات تھیں

انڈیا کی لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے جنتر منتر پر احتجاج کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

اپنے ایک ویڈیو پیغام میں اس احتجاج کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے راہول گاندھی نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا کے نوجوانوں، مجھے آپ پر فخر ہے۔ اپنا احتجاج جاری رکھیں۔ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ حکومت اور آئین پر حملہ کرنے والوں کو شکست سے دوچار کیا جائے۔‘

یاد رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی نے انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے جنتر منتر میں سنیچر کو الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے احتجاج کی کال دے رکھی ہے اور اس احتجاج کو روکنے کے لیے انڈیا کا دارالحکومت اس وقت سکیورٹی کے ایسے غیرمعمولی حصار میں ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

دوسری جانب سماجی کارکن سونم وانگچک نے ابھیجیت ڈپکے، سورو داس، آشوتوش رانکا اور کئی اپوزیشن رہنماؤں سمیتسینکڑوں افراد کو حراست میں لیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت کو دھمکی دی ہے کہ ’اگر آئندہ 24 گھنٹوں میں گرفتار کیے جانے والوں کو رہا نہ کیا گیا تو میں بھی پرامن احتجاج پر غور کرنے پر مجبور ہو جاؤں گا۔‘

سی جے پی کے مطابق جماعت کے بانی ابھیجیت دیپکے، شریک کنوینر آشوتوش رانکا اور سورَو داس کے ہمراہ سنیچر کی صبح ممبئی سے دہلی پہنچے تھے۔ اس دوران ابھیجیت دیپکے سوشل میڈیا پر براہِ راست ویڈیو نشر کر رہے تھے کہ پولیس نے انھیں اور ان کے ساتھیوں کو حراست میں لے لیا۔

Protest
AFP via Getty Images
احتجاج کو روکنے کے لیے انڈیا کا دارالحکومت اس وقت سکیورٹی کے ایسے غیرمعمولی حصار میں ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

ابھیجیت دیپکے نے حراست میں لیے جانے کے بعد کہا کہ ’دیکھیں ملک کس سمت جا رہا ہے۔‘ انھوں نے کہا، ’ہمیں پرواز کے اندر حراست میں لیا جا رہا ہے، اندرا گاندھی نے بھی کبھی ایسا نہیں کیا تھا۔ یہ آمریت ہے، لیکن ہم ان سے نہیں ڈرتے۔‘

جنتر منتر اور اس کے اطراف کے علاقوں میں کرفیو نافذ ہے جبکہ پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے۔

کچھ علاقوں سے تشدد کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، تاہم پولیس نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے دہلی پولیس کی کارروائیوں کو ’آمرانہ‘ قرار دیتے ہوئے تینوں رہنماؤں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی شہریوں کی نقل و حرکت کی آزادی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

گھبرائیں نہیں، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے: راہول گاندھی

انڈیا کی لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی سنیچر کو ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں موجود نہیں تھے لیکن ان کے جاری ویڈیو پیغام میں کے جی پی کی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا ہے۔

راہول گاندھی نے اپنے پیغام میں بڑی تعداد میں مظاہرین کی حراست کے بارے میں کہا کہ ’آپ جو چاہیں کر لیں، جتنی چاہیں پولیس بلا لیں، 10 ہزار، 20 ہزار یا 50 ہزار اہلکار تعینات کر دیں، تمام رہنماؤں اور نوجوانوں کو گرفتار کر لیں، یا ہم سب کو حراست میں لے لیں، لیکن گھبرائیں نہیں، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

انھوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے نریندر مودی، آر ایس ایس اور ان سے وابستہ لوگوں کے خلاف سیاسی جدوجہد کر رہا ہوں۔ میں اپنے مخالفین کو اچھی طرح جانتا ہوں اور ان کے طرزِ عمل سے واقف ہوں۔ ان لوگوں کی سب سے نمایاں خصوصیت بزدلی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’نریندر مودی، امت شاہ، موہن بھاگوت، گیانیش کمار، اجیت ڈوول اور جو جو اس کہانی کے کردار ہیں، اب آہستہ آہستہ دباؤ میں آ رہے ہیں اور ان کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’میرے الفاظ یاد رکھیں، ہمارے پاس وہ معلومات موجود ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہے۔ ہم اپنے آئین کا تحفظ کریں گے، ہم انڈیا کے عوام کی آواز کا تحفظ کریں گے، اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ گذشتہ 10 سے 15 برسوں میں انڈیا کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ دوبارہ نہ ہو۔‘

لگتا ہے ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہو گئی ہو: سونم وانگچک

People hold a large rainbow flag above the crowd during a Pride Parade supporting LGBTQ rights, equality and social inclusion.
Getty Images
سونم وانگچک کے مطابق لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ملک بھر میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہو گئی ہو

دوسری جانب سماجی کارکن سونم وانگچک نے ہفتے کے روز انسٹاگرام پر ایک ویڈیومیںحکومت سے مطالبہ کیا کہ حراست میں لیے گئے افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

ویڈیو میں انھوں نے کہا کہ ’کچھ دیر پہلے واپس آنے پر مجھے معلوم ہوا کہ آج دہلی میں طلبہ رہنماؤں، نوجوان رہنماؤں، وکلا، صحافیوں، یہاں تک کہ ارکانِ پارلیمان کو بھی بڑی تعداد میں حراست میں لیا گیا ہے۔ کل تک یہ توقع کی جا رہی تھی کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں پُرامن احتجاج کی اجازت دی جائے گی، لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ملک بھر میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہو گئی ہو۔‘

سونم وانگچک نے حکومت سے کہا کہ اگر آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر حراست میں لیے گئے افراد کو رہا نہ کیا گیا تو وہ بھی پُرامن احتجاج پر غور کرنے پر مجبور ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ وہ دھرنا، بھوک ہڑتال سمیت کسی بھی پُرامن احتجاجی طریقے کا انتخاب کر سکتے ہیں، اور یہ احتجاج دہلی یا لیہہ، کسی بھی مقام پر ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ جماعت کے بانی ابھیجیت دیپکے نے دلی روانگی سے قبل کہا تھا کہ اگر انھیں گرفتار کر لیا گیا تو بھی منصفانہ انتخابات کی لڑائی جاری رہے گی۔

اس سے قبل مودی حکومت کے ناقد سمجھے جانے والے معروف یوٹیوبر دھروو راٹھی کو بھی پولیس نے سنیچر کی صبح حراست میں لیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار دلنواز پاشا کے مطابق دھروو راٹھی کے قریبی دوست اور گروگرام پولیس نے ان کی حراست کی تصدیق کی ہے۔ دھروو کے قریبی دوست کے مطابق، انھیں گروگرام کے سیکٹر 56 میں حراست میں لیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ جمعہ کی رات دھروو راٹھی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی۔ جس میں انھیں انڈیا گیٹ کے سامنے چہل قدمی کرتے دیکھا گیا۔ اس ویڈیو میں، دھروو نے کہا تھا ’میں دلی پہنچا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ وزیراعظم نے 50 سے زیادہ میٹرو سٹیشن بند کر دیے ہیں اور کئی ٹرینیں اور بسیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ وہ احتجاج کی وجہ سے دہلی کو لاک ڈاؤن کر رہے ہیں۔‘

انکا یہ بھی کہنا تھا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ مودی جی کیا کر رہے ہیں۔ ایک طرف آپ کا آئی ٹی سیل کہہ رہا ہے کہ ہمارے احتجاج میں کوئی ہجوم نہیں آئے گا، اگر کوئی ہجوم نہیں آئے گا، تو آپ یہ سب کیوں کر رہے ہیں؟ مجھے لگتا ہے کہ آپ خوفزدہ ہیں۔ حقیقت میں عوام جاگ چکے ہیں۔‘

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں احتجاج کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ نیوزلانڈری، سکرول ڈاٹ اِن اور 'نو بھارت ٹائمز' سے وابستہ صحافیوں کو بھی پولیس نے حراست میں لیا۔

بی بی سی ہندی کے مطابق دہلی پولیس نے جمعے کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کو جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ منتظمین کو کم از کم 10 روز پہلے اجازت کے لیے درخواست دینی چاہیے تھی۔

سنیچر کی صبح تک دہلی میں ایک ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات تھیں۔ احتجاج کے مقام پر موجود بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے کے مطابق، لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے لوگوں سے پولیس کے ساتھ تعاون اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی جا رہی تھی۔ حکام نے خبردار کیا کہ پابندیوں کی خلاف ورزی یا پولیس کے کام میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے نیوزلانڈری کے مطابق اس کے تین صحافیوں اشوِن سنگھ، سویاساچی آستھا اور انمول پریتم کو حراست میں لے کر ان کے موبائل فون ضبط کر لیے گئے۔

خبر رساں ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ صحافیوں کو مظاہرین سمیت تقریباً 30 افراد کے ساتھ ایک بس میں بٹھایا گیا، حالانکہ وہ احتجاج کرنے کے بجائے کوریج کر رہے تھے۔

سکرول ڈاٹ اِن نے بتایا کہ اس کے ایک صحافی کو جنتر منتر کے بجائے آئی ٹی او کے قریب سے حراست میں لیا گیا، باوجود اس کے کہ انھوں نے اپنا پریس کارڈ دکھایا اور صحافی ہونے کی وضاحت کی۔

نو بھارت ٹائمز کے مدیر آشیش پانڈے نے بھی اپنے ادارے کے دو صحافیوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاع دی، تاہم بعد میں بتایا کہ انھیں رہا کر دیا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے صحافیوں کو حراست میں لینے کی وجوہات پر تاحال کوئی عوامی بیان نہیں دیا۔

انڈیا کی کمیونسٹ پارٹی کے طلبہ ونگ کے کارکن دو اکتوبر کو نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران نعرے لگاتے ہوئے
AFP via Getty Images
انڈیا کی کمیونسٹ پارٹی کے طلبہ ونگ کے کارکن دو اکتوبر کو نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران نعرے لگاتے ہوئے

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے تاحال احتجاج یا مظاہرین کے خلاف کارروائی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی صدر نتن نوین کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کو 'ملک کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش' قرار دے چکے ہیں۔

جمعے کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے نتن نوین نے کہا تھا ’آج ملک میں ایک انتہائی خطرناک اور سنگین صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملک کے ایک ارب 40 کروڑ لوگوں کو غیرمستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو امن اور خوشی کے ساتھ ہندوستان کی ترقی میں تعاون کر رہے ہیں۔ یہ کون کر رہا ہے؟ یہ دو انتشار پسند گروہ ہیں، جن میں سے ایک کی قیادت راہول گاندھی کر رہے ہیں، دوسرے کی قیادت کیجریوال کے اتحادی چیف جسٹس۔‘

دہلی سکیورٹی کے حصار میں

پورا شہر پولیس اور نیم فوجی دستوں کے کنٹرول میں ہے۔ امن و امان کی صورتحال بگڑنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے دلی پولیس نے جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کی احتجاج ریلی کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

جنتر منتر کے اطراف کئی کلومیٹر تک سکیورٹی کا حصار بنا دیا گیا ہے۔ شہر میں آنے والے سبھی داخلی راستوں پر ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ پولیس کی ہدایت پر دلی کی سبھی میٹرو سروسز کل رات نو بجے سے آئندہ اعلان تک بند کر دی گئی ہیں۔ جبکہ دلی آنے اور یہاں سے جانے والی بیشتر ٹرینوں کو صبح چار بجے سے دن دو بجے تک بند کر دیا گیا ہے۔

جنتر منتر کے مظاہرے میں شامل ہونے کے لیے آنے والے طلبہ اور نوجوانوں کو مختلف ریاستوں میں ٹرینوں اور بسوں سے اتار حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس جگہ جگہ یہ اعلان کر رہی ہے کہ لوگ 10 تاریخ کو جنتر منتر پر نوجوانوں کے احتجاج میں شامل نہ ہوں کیونکہ یہ، پولیس کے بقول، قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہو گا۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق شہر میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کے 30 ہزار سے زیادہ اہلکار کاکروچ جنتا پارٹی اور طلبہ کے احتجاج کو ناکام کرنے کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مہم میں سرگرم سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور سماجی کارکن پرشانت بھوشن نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’سکیورٹی فورسز کے بل بوتے پر عوامی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ احتجاج کو روکنے کے لیے کیے گئے غیر معمولی انتظامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت عوامی ردعمل سے خوفزدہ ہے۔‘

دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی اور مختلف طلبہ تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود جنتر منتر پر احتجاج کیا جائے گا۔ تنظیموں نے اپنے حامیوں اور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس احتجاجی مظاہرے میں شرکت کریں۔

احتجاج کی وجہ کیا ہے؟

دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق اپوزیشن جماعتوں اور حکومت کے درمیان تنازعے کا مرکز ووٹر فہرستوں پر خصوصی نظرِ ثانی یعنی سپیشل اِنٹینسو ریویژن (SIR) ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس عمل کے دوران بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام فہرستوں سے نکالے گئے ہیں اور اس سے برسرِ اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو انتخابی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

انڈیا کی اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی نگرانی میں ووٹر فہرستوں پر خصوصی نظرِ ثانی کے عمل کے دوران دانستہ بے ضابطگیاں کی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں 13 کروڑ سے زیادہ رائے دہندگان کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج کر دیے گئے۔

اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ووٹرز کے نام شامل کرنے اور خارج کرنے کا عمل اس انداز میں انجام دیا گیا جس سے برسرِ اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو انتخابی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں سامنے آنے والی بعض رپورٹس نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ ماہ شائع ہونے والی انڈین ایکسپریس کی ایک تفتیشی رپورٹ کے بعد ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں اور ان کے ممکنہ سیاسی اثرات کے بارے میں مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا ایک آئینی ادارہ ہے جو حکومت سے الگ اور انتظامی طور پر خودمختار حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا بنیادی کام ملک میں آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر مودی حکومت کے لیے مسئلہ؟

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار تقریباً ایک سال سے تنقید اور تنازعات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ووٹر فہرستوں کی جامع نظرِ ثانی کا وہ عمل ہے جسے الیکشن کمیشن نے سپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کا نام دیا ہے۔

ووٹر فہرستوں پر خصوصی نظرِ ثانی کی یہ مہم، جس کا آغاز گذشتہ برس ریاست بہار سے ہوا تھا، اب ملک کے بیشتر حصوں تک پھیل چکی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں اب تک 30 ریاستوں اور وفاق کے زیرِ انتظام علاقوں کی عبوری ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ سے زیادہ نام خارج کیے جا چکے ہیں، جو انڈیا کے مجموعی ووٹروں کا تقریباً 13 فیصد بنتے ہیں۔

ایک جانب الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد جعلی، دہرے یا غیر قانونی اندراجات کو ختم کرنا اور انتخابی فہرستوں کو زیادہ درست اور قابلِ اعتماد بنانا ہے، لیکن دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں اور بعض سماجی کارکن اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

ان کا موقف ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں لاکھوں ایسے شہری بھی ووٹر فہرستوں سے خارج ہو سکتے ہیں جو قانونی طور پر ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، جس سے بڑی تعداد میں لوگ اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔

اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر یہ الزام بھی عائد کر رہی ہیں کہ ووٹر فہرستوں میں کی جانے والی تبدیلیاں بالآخر برسرِ اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو انتخابی فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس تنازع نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی کے مطابق، ’انڈیا کا الیکشن کمیشن ایک غیر جانبدار ادارہ سمجھا جاتا رہا ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی شہرت اچھی رہی ہے۔ اگر اس پر عوام کا اعتماد مجروح ہوا تو یہ ایک سنگین معاملہ ہو گا، کیونکہ ایک بار کھویا ہوا اعتماد بحال کرنا آسان نہیں ہوتا۔‘

حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ان احتجاجی مظاہروں کی سخت مذمت کی ہے۔ بی جے پی کے رکن پارلیمان سمبت پاترا نے ان مظاہروں کو ’انارکی کے ذریعے اقتدار کی تبدیلی کی ایک منظم کوشش‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن سمیت ملک کے دیگر آئینی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

بی جے پی کے ترجمان سندیپ بھنداڑی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن رہنما راہل گاندھی اپنے بیانات اور احتجاجی مہم کے ذریعے ملک میں افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بی جے پی کے بعض رہنماؤں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اپوزیشن ان افراد کے حق میں آواز اٹھا رہی ہے جنھیں ووٹر فہرستوں کی نظرِ ثانی کے دوران خارج کیا گیا، جبکہ ان کے بقول ان میں غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن بھی شامل ہیں۔

حکمراں جماعت کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت کسی فرد یا جماعت کے مفاد کا تحفظ نہیں کر رہی بلکہ اس کی کوشش انتخابی نظام اور انڈیا کی جمہوریت کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ تنازع کو محض ایک الگ تھلگ واقعے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق اگرچہ ایک دس پندرہ سال پہلے تک الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ایک مؤثر، آزاد اور خود مختار ادارے کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن یہ پہلا موقع نہیں جب اس کی غیر جانب داری پر سوالات اٹھے ہوں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر نوجوانوں کی کوئی تحریک بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے لیک ہونے، تعلیمی نظام کی خامیوں یا حکومتی اداروں میں جوابدہی کے فقدان جیسے مسائل کو عوامی بحث کا مرکز بنانے میں کامیاب ہو جائے تو اس سے حکومت کے ترقیاتی دعووں کو چیلنج درپیش ہو سکتا ہے۔

تاہم ایسا ہونا لازمی نہیں کہ عوامی ناراضی یا احتجاجی تحریکیں فوری طور پر اپوزیشن جماعتوں کے حق میں ووٹوں میں تبدیل ہو جائیں۔ البتہ یہ حالات ووٹروں کو موجودہ نظام اور سیاسی قیادت کے بارے میں ازسرِ نو غور کرنے پر ضرور مائل کر سکتے ہیں۔

بعض مبصرین کے مطابق اس وقت انڈیا میں مختلف سیاسی بیانیوں کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔ ایک طرف حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورِ حکومت کی کامیابیوں اور معاشی ترقی کو نمایاں کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب بے چینی، عدم اطمینان اور نظام سے ناراضی کے جذبات بھی مختلف حلقوں میں دکھائی دے رہے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US