اسلام آباد میں درخت کے ساتھ لٹکی لڑکی کی لاش کے پیچھے کہانی کیا ہے؟ ’میرے والد کو نہ بتانا ورنہ وہ مر جائیں گے‘

اسلام آباد پولیس کو گزشتہ روز اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں واقع ہفتہ وار بازار میں درخت سے لٹکی ہوئی ایک لاش ملی تھی جس نے گلے میں دوپٹہ ڈال کر مبینہ طور پر خودکشی کی تھی۔
علامتی تصویر
Getty Images

’میرے ساتھ ہونے والے فراڈ کے بارے میں میرے والد صاحب کو نہ بتانا ورنہ وہ مر جائیں گے۔‘

یہ الفاظ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی 24 سالہ لائبہ کے ہیں جو انھوں نے مبینہ طور پر خود کشی کرنے سے پہلے اپنے بہنوئی زید بن افضال کو فون کرکے کہے تھے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس کو گزشتہ روز اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں واقع ہفتہ وار بازار میں درخت سے لٹکی ہوئی ایک لاش ملی تھی جس نے گلے میں دوپٹہ ڈال کر مبینہ طور پر خودکشی کی تھی۔

صوبہ پنجاب کے وسطی شہر سرگودھا کی رہائشی لائبہ اسلام آباد میں انٹرنینشل اسلامی یونیورسٹی سے بیچلر آف سائنس میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔

لائبہ کے بہنوئی زید بن افضال نے بی بی سی کو بتایا کہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی نے لائبہ کو سکالر شپ پر سعودی عرب بھیجنے کی آفر کی تھی۔

علامتی تصویر
Getty Images

’امریکی یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کے 72 لاکھ مانگے‘

زید بن افضال نے کہا کہ ’بی ایس کرنے کے بعد لائبہ آن لائن کام کرتی تھیں کہ اسی دوران اس کا رابطہ نعمان نامی شخص سے ہوا جس نے لائبہ کو یہ کہہ کر اپنا تعارف کروایا کہ وہ پاکستان کی سپریم کورٹ میں ملازم ہے اور وہ پارٹ ٹائم ویزہ کنسلٹینسی کا کام کرتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ لائبہ نے نعمان کو جب انٹرنیشنل یونیورسٹی کی جانب سے اعلی تعیلم کے لیے سعودی عرب بھیجنے کی آفر کے بارے میں بتایا تو نعمان نے کہا کہ وہ اس کو امریکہ کی کسی یونیورسٹی میں داخلہ دلوا سکتا ہے جس کے لیے زید کے بقول نعمان نے 72 لاکھ روپے مانگے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’لائبہ کے والد کی جی ٹین مرکز میں دودھ دہی کی دوکان ہے اور دوکان کے اوپر کی فلیٹ ہے جس میں وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ چونکہ ’لائبہ کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے باہر جانے کا شوق تھا اور اس نے اپنی اس خواہش کا اظہار اپنے والد سے کیاجنہوں نے بچی کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئےاپنا وہ پلاٹ بھی بینچ دیا جو اس نے اپنے گھر کی تعمیر کے لیے خریدا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں لائبہ کے والد نے نعمان کو دس لاکھ روپے دیے اور پھر اس طرحکاغدات کی تیاری اور فیس کی مد میں پچاس لاکھ روپے لے لیے۔

انھوں نے کہا کہ نعمان لائبہ کے والد سے کیش کی صورت میں پیسے لیتا تھا اور اس نے لڑکی کے والد کو بتایا تھا کہ ان کی فرم میں کچھ لڑکیاں امریکہ میں رہ کر کام کرتی ہیں اور وہی لائبہ کو سپانسر کریں گی۔

زید بن افضال کا کہنا تھا کہ ’اس عرصے کے دوران نعمان نے امریکی یونیورسٹی کے کچھ کاغدات بھی لائبہ کو بھیجے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران ملزم نعمان نے لائبہ کو بتایا کہ ان کے ویزے کی تاریخ آگئی ہے تو وہ انٹرویو کی تیاری کرے۔

انھوں نے کہا کہ ’اسی طرح تین چار مرتبہ جب امریکی ویزے کی تاریخ قریب آتی تو ایک رات پہلے وہ فون کرکے بتاتا کہ ویزے کی اپوائنٹمنٹ کینسل ہو گئی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اس عرصے کے دوران ملزم باقی ماندہ 22 لاکھ روپے کابھی تقاضا کرتا رہا۔

انھوں نے کہا کہ جب لائبہ کو بھیجے گئے کاغدات کی چھان بین کراوئی گئی تو وہ جعلی نکلے جس سے لائبہ سخت دلبرداشتہ تھی۔

’موبائل فون کی لوکیشن سے لاش کا پتا چلایا‘

انھوں نے کہا کہ لائبہ کے والدین نے اسے تسلی دی کہ وہ پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہو جائے گا۔

زید بن افضال کا کہنا تھا کہ ملزم نے لائبہ کو فون کرکے بتایا تھا کہ اس کے انٹرویو کی اگلی تاریخ بارہ اکتوبر کو مقرر ہوگئی ہے لیکن اس سے پہلے وہ باقی ماندہ رقم ادا کرے جبکہ اس سے پہلے لڑکی کو حقیقت کا علم ہو چکا تھا جس سے وہ بڑی دلبرداشتہ تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’نو اکتوبر کو لائبہ اپنے گھر والوں کو بتائے بغیر گھر سے نکلی تو اس کے گھر والوں کو کچھ شک کا پڑا۔ انھوں نے کہا کہ لائبہ اپنا موبائل ساتھ لے گئی تھی۔‘

زید بن افضال کے مطابق لائبہ نے انھیں فون کیا اور کہا کہ ’میرے ساتھ ہونے والے فراڈ کے بارے میں میرے والدکو نہ بتائیں ورنہ وہ مر جائیں گے‘ انھوں نے کہا کہ لائبہ نے اپنے گھر والوں کو نعمان کے آخری فون کے بارے میں نہیں بتایا تھا کہ وہ مذید بائیس لاکھ روپے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

زید بن افضال کا کہنا تھا کہ کچھ دیر کے بعد لائبہکا موبائل ایسی جگہ پر مل رہا تھا جہاں پر موبائل کے سگنل نہیں آرہے تھے۔ جس پر انھیں تشویش ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ لائبہ کا لیپ ٹاپ گھر میں ہی موجود تھا جس میں وہ اپنی بڑی بہن یعنی زید کی بیوی کے ساتھ آن لائن تھیں۔ انھوں نے کہا کہ وہاں سے اس کی لوکیشن معلوم کی گئی تو وہ جی ٹین میں واقع ہفتہ وار بازار کی ظاہر ہو رہی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ جب وہ وہاں پہنچے تو لائبہ کی لاش ایک درخت کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے اس واقعے کی اطلاع مقامی پولیس کو دی جنھوں نے لاش کو درخت سے اتار کر ہسپتال منتقل کیا۔

فائل فوٹو
Getty Images

پولیس کا کیا کہنا ہے؟

ایس ایس پی آپریشن علی رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس اس واقعہ سے متعلق تمام حقائق جاننے کی کوشش کررہی ہے اور اس ضمن میں اس واقعہ سے متعلق مختلف پہلووں سے تفتیش کی جارہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ شروع میں لائبہ کی فیملی پوسٹمارٹم بھی نہیں کرونا چاہتے تھے اور انھوں نے اس ضمن میں متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر سے وہ لیڑ بھی لے لیا تھا جس میں انھیں لاش کے پوسٹمارٹم سے استثنی دے دیا گیا تھا۔

اس معاملے کی تفتیش اسلام آباد پولیس کا انوسٹیگیشن یونٹ کر رہا ہے تو وہاں پر تعینات ایک اہلکار کے مطابق لیٹر حاصل کرنے کے بعد لائبہ کے ورثا پوسمارٹمکروانے پر راضی ہوگئے تھے۔

لائبہ کے ماموں امجد الرحمن نے بھی تصدیق کی ہے کہ لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس واقعہ سے متعلق ایف آئی اے اور پولیس کے حکام بھی رابطہ کرر ہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ لائبہ کے ورثا نے ابھی تک متلقہ تھانے میں درخواست نہیں دی تاہم وہ جلد ہی اس بارے میں فیصلہ کریں گے۔

مقامی پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد لائبہ کی تدفین کر دی گئی ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US