پشاور ہائیکورٹ (ایبٹ آباد بینچ) نے خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور کی پانچ سالہ آیت نور کے مبینہ ریپ اور قتل کے الزام میں گرفتار تین ملزمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یاد رہے کہ اس کیس میں ان تینوں ملزمان کے علاوہ ایک اور کم عمر مرکزی ملزم گرفتار ہے، جس نے (عدالتی ریکارڈ کے مطابق) اقبال جرم کر لیا ہے اور وہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل ہے اور اس کا ٹرائل جاری ہے۔
پشاور ہائیکورٹ (ایبٹ آباد بینچ) نے خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور کی پانچ سالہ آیت نور کے مبینہ ریپ اور قتل کے الزام میں گرفتار تین ملزمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے بھی اپنی تفتیش میں اِن تینوں ملزمان کو بے گناہ قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ ان تینوں ملزمان کی عمریں 18 سال سے کم ہیں۔
ضمانت بعد از گرفتاری کی منظوری کے بعد رہا ہونے والے ان ملزمان نے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ہری پور) کو ایک درخواست دی ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ دورانِ حراست اُن پر بے انتہا تشدد کیا گیا جس کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور انھیں انصاف دلوایا جائے۔
پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق آیت کے والد نے بھی عدالت میں بیان دیا کہ انھوں نے بیٹی کے لاپتہ ہونے کے باعث پیدا ہونے والے شدید صدمے اور پریشانی میں ان تینوں ملزمان کو نامزد کر دیا تھا اور اب اگر پولیس کی تفتیش میں یہ تینوں بے گناہ ثابت ہوئے ہیں تو انھیں اُن کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
یاد رہے کہ اس کیس میں ان تینوں ملزمان کے علاوہ ایک اور کم عمر مرکزی ملزم گرفتار ہے، جس نے (عدالتی ریکارڈ کے مطابق) اقبال جرم کر لیا ہے اور وہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور اس کا ٹرائل جاری ہے۔
آیت نور کے والد محمد شفیق کہ مطابق وہ نہیں جانتے کہ اُن کی بیٹی کو کس نے ریپ کے بعد قتل کیا اور ان کا یہی مطالبہ ہے کہ انھیں انصاف فراہم کیا جائے۔
محمد شفیق کا کہنا ہے کہ ’پولیس کی تفتیش میں تین لڑکوں کو بے گناہ قرار دیے جانے کے بعد وہ یہ یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ صرف ایک دس، بارہ سال کےکم عمر لڑکے نے تن تنہا یہ گھناؤنا جرم کیا ہو گا۔ ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ اور بھی مزید ملزمان ہوں گے۔ پولیس اس واقعہ کی تفتیش کو ٹھیک طرح سے کر کے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائے تاکہ آئندہ کوئی اور آیت اس نوعیت کے جرم کا شکار نہ ہو۔‘
اس کیس کا مرکزی ملزم کیسے گرفتار ہوا تھا؟ دیگر تین ملزمان کو کس بنیاد پر ضمانت دی گئی اور اس پر پولیس حکام کا کیا کہنا ہے؟ اس سے پہلے جان لیتے ہیں کہ ہری پور کی آیت نور کا کیس ہے کیا؟
10 اگست کو گمشدگی اور پھر 15 روز بعد لاش برآمدگی
ہری پور سے تعلق رکھنے والی پانچ سالہ آیت نور کی گمشدگی کا واقعہ 10اگست کو پیش آیا تھا۔
آیت نور کے والد نے پولیس میں مقدمہ درج کرواتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کی بیٹی شام پانچ بجے کے لگ بھگ گلی میں کھیلتے ہوئے لاپتا ہو گئی تھی اور تلاش کے باوجود نہیں ملی۔ ابتدائی طور پر اس مقدمے میں کسی کو نامزد نہیں کیا گیا تھا۔
آیت کے والد شفیق ایک بیکری پر کام کرتے ہیں اور انھوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ 10 اگست کو جب وہ معمول کے مطابق مغرب کے وقت کام سے گھر واپس آئے تو اُن کی اہلیہ نے انھیں بتایا کہ آیت نور شام پانچ بجے کھیلنے کے لیے گلی میں گئی تھی مگر ابھی تک واپس نہیں آئی۔
اس کے فوراً بعد پانچ سالہ آیت نور کی تلاش کا آغاز ہوا، جس کا اختتام 15 روز بعد (یعنی 24 اگست کو) اُس وقت ہوا جب گرفتار مرکزی ملزم (جس کی عمر 18 سال سے کم ہے) کی نشاندہی پر آیت کی لاش ہری پور میں واقع یونیورسٹی روڈ کے قریب ایک گہرے اور خشک کنویں سے ملی۔
اس معاملے پر ہری پور میں عوامی احتجاج بھی دیکھنے میں آیا تھا۔
ہری پور پولیس کے مطابق اس واقعے کے بعد چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا جن کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔ ان میں سے ایک ملزم نے (جسے سب سے آخر میں گرفتار کیا گیا تھا) مجسٹریٹ کے روبرو اپنے بیان میں اقبال جرم کر لیا اور فی الحال اس کا ٹرائل جاری ہے جبکہ دیگر تین ملزمان کو اب ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔
پشاور ہائیکورٹ نے تین ملزمان کی ضمانت کیوں منظور کی؟
علامتی تصویرعدالت کے روبرو پیش کی گئی پولیس کی سپیشل انویسٹیگیشن ٹیم کی رپورٹ میں آیت نور کے لاپتہ ہونے کے فوراً بعد گرفتار ہونے والے ملزمان کو بے گناہ قرار دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ان تینوں کم عمر ملزمان میں سے ایک پولیس کی حراست میں یہ اقبالی بیان بھی دے چکا تھا کہ وہ اس واقعے میں ملوث ہے۔
تاہم عدالت میں پیش کی گئی سپیشل انوسٹیگیشن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ملزم نے اپنا اقبالی بیان ڈر اور خوف کی وجہ سے دیا تھا۔
پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق پولیس کی تفتیش کے دوران یہ حقیقت سامنے آئی کہ مرکزی ملزم (جو اب جیل میں ہے) کے اعترافی بیان میں بھی ان تینوں درخواست گزاروں کا کوئی تذکرہ یا تعلق سامنے نہیں آیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس کے علاوہ مدعیِ مقدمہ نے بھی عدالت عالیہ میں اپنے وکیل کے ہمراہ خود پیش ہو کر بیان دیا کہ انھوں نے بیٹی کے لاپتہ ہونے کے شدید صدمے اور پریشانی کی وجہ سے ان تینوں ملزمان کو نامزد کر دیا تھا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 16 ستمبر 2026 کو ٹرائل کورٹ کے سامنے اور بعد میں ہائیکورٹ میں بھی مدعی مقدمہ نے صدمے کی حالت میں غلط نامزدگی کا اعتراف کیا اور ویڈیو فوٹیج کے ذریعے اصل ملزم کے سامنے آنے کی تصدیق کی۔
آیت نور کیس کے حوالے سے پولیس نے اپنی حتمی تفتیش رپورٹ اور چالان میں دعوی کیا ہے کہ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور جدید سائنسی تفتیش کے ذریعے اصل ملزم کو گرفتار کر کے اس کے اعترافِ جرم اور نشاندہی پر بچی کی لاش کنویں سے برآمد کر لی ہے۔
عدالت کے سامنے پیش کی گئی پولیس انویسٹیگیشن رپورٹ میں بھی بتایا گیا کہ تفتیش کے دوران ان تینوں ملزمان کے خلاف کسی قسم کا تحریری یا سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر انھیں بےگناہ قرار دیا گیا۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوسری جانب تکنیکی تفتیش اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے اصل ملزم کی نشاندہی ہوئی، جس نے ناصرف مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا بلکہ اس کی ہی نشاندہی پر آیت نور کی لاش کنویں سے برآمد کی گئی۔
آیت نور کے والد کا بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگرچہ یہ تینوں ملزم بے قصور نکلے ہیں مگر وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایک اکیلا دس، بارہ سال کا کم عمر لڑکا کیسے اور کس طرح یہ سارا فعل کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق ’میں یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوں کہ اس نے اکیلے یہ سب کچھ کیا ہے۔‘
ضمانت پر رہا ہونے والے تینوں ملزمان کے وکیل عاطف علی جدون ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ان کے مؤکل کو پولیس حراست میں انتہائی نامناسب صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ضمانت پر رہائی پانے کے بعد ان تینوں نے ڈسڑکٹ پولیس افسر کو دی گئی درخواست میں یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ حراست کے دوران ان پر ناصرف تشدد ہوا بلکہ انھیں برہنہ کیا گیا، انھیں دھمکیاں دی گئیں اور عدالت میں اقرار جرم کرنے پر مجبور کیا گیا۔
ضمانت پر رہا ہونے والے ایک لڑکے کے والد نے بتایا کہ جب پولیس زیادہ تشدد کرتی تو لڑکے ویسے ہی کسی جگہ کا بتا دیتے کہ آیت نور کی لاش وہاں پر ہے اور اس دوران انھیں تشدد سے وقفہ مل جاتا تھا۔
’پہلے گرفتار ہونے والے لڑکے کا کہنا تھا کہ جب اس پر تشدد کیا گیا تو اس نے بچنے کے لیے ویسے ہی اپنے دوست کا نام لے لیا اور جب اس پر تشدد کیا گیا تو اس نے تیسرے کا نام لے لیا تھا۔‘
بی بی سی اُردو نے تفتیش اور اس کے بعد ضمانت پانے والے ملزمان کے الزامات پر مؤقف لینے کے لیے ہری پور کے ڈسڑکٹ پولیس افسر شفیع اللہ گنڈا، ایس ایس پی انوسٹیگیشناور ہری پور پولیس کے ترجمان سے متعدد بار رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
ان افسران کو تحریری سوالات بھی بھیجے گئے تاہم ان کا بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
مرکزی ملزم کیسے گرفتار ہوا؟
ایک تفتیش کار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعہ کے اصل ملزم کی گرفتاری انتہائی ڈرامائی تھییاد رہے کہ 10 اگست کو پیش آنے والے اس واقعے کا مرکزی ملزم، جس کی عمر 18 سال سے کم ہے، آیت نور کی لاش ملنے سے محض ایک روز قبل گرفتار ہوا تھا اور اسی کی نشاندہی پر کنویں سے آیت کی لاش برآمد کی گئی۔
تفتیش میں شامل ایک تفتیش کار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعہ کے اصل ملزم کی گرفتاری انتہائی ڈرامائی تھی۔
تفتیش کار کے مطابق 24 اگست کو جس کنوئیں سے لاش برآمد ہوئی اس کے قریب گھر کی ایک چھت پر لگے سی سی ٹی وی کیمرہ، جس کا ڈی وی آر، اس وقت خراب تھا، اس سے فوٹیج انتہائی مشکل سے برآمد کی گئی تھی۔
اُن کے مطابق سب سے آخر میں ملنے والی اس فوٹیج کو سب سے پہلے محمد شفیق (آیت کے والد) کو دکھایا گیا اور پوچھا گیا کہ وہ اس فوٹیج میں آیت کے ساتھ نظر آنے والے لڑکے کو جانتے ہیں، جس پر والد نے اس لڑکے کا نام لے کر شناخت کی اور پھر اس کی تصدیق اپنی اہلیہ سے بھی کروائی۔
فوٹیج میں نظر آنے والا لڑکا اسی محلے کا رہنے والا تھا۔
تفتیش کار کے مطابق اس کے بعد پولیس فی الفور اس لڑکے کے گھر روانہ ہوئی، جہاں وہ سویا ہوا تھا اور اس کو اسی وقت گرفتار کر لیا گیا۔
اہلکار کے مطابق حراست میں لیے جانے کے دو گھنٹے تک وہ پولیس کو چکر دیتا رہا، کبھی ایک بات کرتا اور کبھی دوسری بات کرتا تھا۔
اُن کے مطابق اس کے بعد ایک پولیس افسر نے تنہائی میں ملزم سے ملاقات کی اور اُس کے ساتھ یہ جھوٹا وعدہ کیا کہ اگر وہ صرف بچی کے بارے میں بتا دے تو اس کو چھوڑ دیا جائے گا اور ساتھ اسے دو ہزار روپے بھی دیے گئے۔
تفتیش کار کے مطابق اس جھوٹے دلاسے پر ملزم نے آیت کی لاش کی کنویں میں موجودگی کی نشاندہی کی۔
بی بی سی نے مذکورہ سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا تو یہ صرف 53 سیکنڈ کی فوٹیج ہے، جو کہ عدالتی کارروائی کا بھی حصہ ہے اور اس فوٹیج کی فرانزک بھی کروائی گئی جس میں تصدیق ہوئی کہ نظر آنے والا لڑکا وہی ہے جسے گرفتار کیا گیا ہے۔
فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم تیزی سے چلتا ہوا آتا ہے اور وہ ساتھ میں پیچھے بھی دیکھ رہا ہے۔ اتنے میں آیت نور نظر آتی ہیں اور پھر کچھ دیر کے بعد وہ لڑکا اور آیت نور فوٹیج سے دور ہو جاتے ہیں۔
دوسری فوٹیج 43 سیکنڈ کی ہے جس میں ملزم کیمرے میں آتا ہے اور اس کےپیچھے آیت نور آ رہی ہوتی ہے۔
تفتیش کار کے مطابق ملزم نے پولیس کو بتایا تھا کہ اُس نے آیت نور سے کہا کہ تمھیں تمھارے والد نے بلایا ہے، چلو میں تمھیں اُن کے پاس لے جاؤں جس کے بعد وہ خود آگے چلتا رہا جبکہ بچی پیچھے چلتی رہی۔
پولیس تفتیش کے مطابق وجہ عداوت میں ملزم نے بتایا کہ اس نے آیت نور کے والد کی مرغیاں چرائی تھیں، جس پر انھوں نے انھیں ڈانٹا تھا۔
تاہم آیت کے والد محمد شفیق کا کہنا ہے کہ انھیں اس طرح کا کوئی واقعہ یاد نہیں جس میں انھوں نے ملزم کو بُرا بھلا کہا ہو یا اس نے مرغیاں چرائی ہوں۔