66 سالہ ژوان اور 39 سالہ ژانگ پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے گھر میں رہنے والے کم از کم 14 بچوں کو بار بار جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ گذشتہ سال 21 بچوں کو اُن کی تحویل سے لے لیا گیا تھا اور اُن کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔
گووجن شوان (دائیں) اور سلویہ ژانگ کو کیلیفورنیا کے شہر آرکیڈیا میں واقع ان کی حویلی سے گرفتار کیا گیاامریکی ریاست کیلیفورنیا میں رہائش پذیر ایک جوڑے پر سروگیسی ( کرائے کی کوکھ) کے ذریعے پیدا ہونے والے کم از کم 14 بچوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کے متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
بدسلوکی سے متاثرہ اِن بچوں میں سے کچھ کی عمر صرف چند ماہ بتائی گئی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق گووجن ژوان اور سلویا ژانگ نامی اس جوڑے کو گذشتہ ہفتے اُن کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔
ڈسٹرکٹ اٹارنی نیتھن جے ہوکمین کا کہنا ہے کہ مبینہ بدسلوکی کا نشانہ بننے والے بچوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، تاہم فی الحال درست تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
انھوں نے اس جوڑے کے گھر کو ’خوف کا گھر‘ قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ عرصے میں سروگیسی یا کسی دوسرے کی کوکھ سے بچے کی پیدائش کروانا عام ہوتا جا رہا ہے۔
بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق اس جوڑے نے عدالت میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
66 سالہ ژوان اور 39 سالہ ژانگ پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے گھر میں رہنے والے کم از کم 14 بچوں کو بار بار جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ گذشتہ سال 21 بچوں کو اُن کی تحویل سے لے لیا گیا تھا اور اُن کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔
عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست کے مطابق یہ جوڑا اپنی ایک سروگیسی ایجنسی بھی چلاتا تھا اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے کم از کم دو ایسی خواتین کو دھوکے میں رکھا جو سروگیٹ مائیں بنیں۔
ملزمان کے خلاف یہ الزامات منگل کے روز حکام کی جانب سے عائد کیے گئےان خواتین کو بتایا گیا تھا کہ 39 سالہ ملزمہ ژانگ کو حاملہ ہونے میں دشواری پیش آتی ہے اس لیے وہ سروگیسی کے ذریعے بچہ پیدا کرنے کے خواہشمند ہیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق مئی 2025 میں ژانگ کے پاس موجود ریکارڈ میں 21 بچوں کا ذکر موجود تھا، جن میں سروگیسی کے ذریعے پیدا ہونے والے بچے بھی شامل تھے۔
بچوں کو تھپڑ مارنا اور تشدد کرنا
دوسری جانب اس جوڑے کے وکیل مچل کریمز نے سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر یہ الزامات حقائق کی غلط عکاسی کرتے ہیں۔
استغاثہ کے مطابق اس جوڑے کے پاس موجود دو ماہ کے ایک بچے کے سر پر چوٹ لگی تھی، جسے ہسپتال لے جایا گیا تو ہسپتال کے عملے نے حکام کو اطلاع دے دی۔
یہ اطلاع ملنے کے بعد جب پولیس اس جوڑے کی رہائش گاہ پہنچی تو وہاں انھیں ’لرننگ سینٹرز‘ کے نام سے تین الگ کمرے ملے، جہاں کئی آیاﺅں کی نگرانی میں بچے موجود تھے۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ گھر میں موشن سینسرز سے لیس 32 کیمرے نصب تھے، جن کے ذریعے جوڑا آیاﺅں کی جانب سے بچوں کے ساتھ برتاؤ اور نظم و ضبط کی نگرانی کرتا تھا۔
استغاثہ کے مطابق کیمروں کی ریکارڈنگ میں آیاﺅں کو بچوں کو تھپڑ مارتے اور ان پر جسمانی تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
جوڑے کے گھر پر چھاپہ
اس گھر میں موجود چن می لی نامی ایک آیا پر الزام ہے کہ اس نے اُس دو ماہ کے بچے پر تشدد کیا تھا، جسے سر پر چوٹ کے باعث ہسپتال لے جایا گیا تھا۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق بعدازاں اس جوڑے نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے تشدد کرنے والی آیا کو فوراً ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔
58 سالہ لی پر اس سے پہلے بھی بچوں پر تشدد کے ایک سنگین مقدمے میں فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے، جس میں شدید جسمانی نقصان یا موت کا خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔
ہوکمین کے مطابق لی مفرور تھیں اور ان کی گرفتاری کا وارنٹ بھی جاری ہو چکا تھا۔
جولائی 2025 میں حکام نے پہلی بار اس جوڑے کے گھر پر چھاپہ مارا تھا، جس کے بعد وہاں موجود21 بچوں کو ریاستی تحویل میں لے لیا گیا تھا۔
آرکیڈیا پولیس ڈپارٹمنٹ کے مطابق ان بچوں کی عمریں دو ماہ سے 13 سال کے درمیان تھیں تاہم ان میں سے زیادہ تر کی عمر ایک سے تین سال کے درمیان تھی۔
ان میں سے 15 بچوں کو جوڑے کے گھر سے تحویل میں لیا گیا جبکہ مزید چھ بچوں کو، جو دوسری جگہوں پر رہ رہے تھے، بعد میں حکام نے اپنی تحویل میں لے لیا۔
کریمز کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل بے گناہ ہیں۔
انھوں نے سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’صرف ایک بڑا خاندان رکھنے کے اپنے آئینی حق کو استعمال کرنے پر انھیں ہدف بنایا جا رہا ہے۔‘
تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ سروگیٹ مائیں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھتی تھیں اور انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ ایک ہی وقت میں اس جوڑے کے لیے مختلف ایمبریوز کے ذریعے حاملہ ہیں۔
دو سروگیٹ ماؤں کی وکیل میلیسا برِزمین نے سی بی ایس نیوز سے کہا کہ ’یہ خوش آئند بات ہے کہ لوگوں کو اپنے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرایا جا رہا ہے اور اگر سروگیسی کے نظام کا غلط استعمال ہو تو اس کے نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔‘
اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ژوان کو ریاستی جیل میں زیادہ سے زیادہ 17 سال اور چار ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ ژانگ کو زیادہ سے زیادہ 11 سال اور آٹھ ماہ قید کا سامنا ہو سکتا ہے۔ لی نامی آیا کو 12 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔