ریاض ایئرپورٹ پر ہلاکتیں اور سعودی ولی عہد کا وعدہ: ’مجھے اپنا بیٹا سمجھیں، میں آپ کے بیٹے کا بدلہ لوں گا‘

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سنیچر اور اتوار کے روز حوثیوں کے حملوں میں مرنے والوں سعودی اور مصری فضائی میزبانوں کے علاوہ ہلاک ہونے والے دوسرے افراد کا تعلق بنگلہ دیش، انڈیا اور پاکستان سے بتایا گیا ہے۔
Reuters
Reuters

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 10 اکتوبر کو ہونے والے حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 308 زخمی ہوئے۔ اس سے دو روز قبل بھی اسی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک ہوئے تھے، جن میں ایک پائلٹ حمود بن علی الکثامی بھی شامل تھے۔

10 اکتوبر کے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں مصر سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ فضائی میزبان عزا رمزی محمد حسن بھی شامل تھیں۔ ان دونوں کی ہلاکتوں نے مسلح تنازعات کے دوران شہری تنصیبات پر کام کرنے والے افراد کی سلامتی اور ان کے خاندانوں کو پہنچنے والے نقصان کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔

عزا رمزی محمد حسن اور سعودی پائلٹ حمود بن علی الکثامی نے یہ توقع نہیں کی ہو گی کہ ہوا بازی کے شعبے میں ان کا پیشہ ورانہ سفر ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر خونریز واقعات کے دوران ختم ہو جائے گا، جہاں وہ ایک ہی شعبے میں کام کرتے تھے۔

تاہم ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے حملوں نے ان کے ناموں کو ایسی دو انسانی کہانیوں میں بدل دیا ہے جو مسلح تنازعات کے دوران شہری تنصیبات پر کام کرنے والے افراد کی ادا کی جانے والی قیمت کو بیان کرتی ہیں۔

ان دونوں کہانیوں کے پیچھے دو خاندان ہیں، جنھوں نے اپنے ایسے پیاروں کو کھو دیا جن کا کام سفر اور فضائی آمدورفت سے وابستہ تھا۔

مصر میں عزا کے خاندان اور صوبہ بحیرہ میں واقع ان کے گاؤں کے رہائشی سوگوار ہیں، جبکہ سعودی ایئرلائنز نے حمود کے اہلِ خانہ اور ساتھیوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا ہے۔

یوں یہ سانحہ ہلاک ہونے والوں کی قومیت یا ان کمپنیوں تک محدود نہیں رہتا جن کے لیے وہ کام کرتے تھے، بلکہ یہ ان افراد کی سلامتی کا معاملہ بن جاتا ہے، جو ایسی شہری تنصیبات میں کام کرنے جاتے ہیں جنھیں حملوں سے محفوظ ہونا چاہیے۔

عزا رمزی اور حمود الکثامی کی ہلاکتوں نے شہریوں کے تحفظ کے معاملے کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ ہوائی اڈے محض آمدورفت کی تنصیبات نہیں ہوتے بلکہ خاندانوں، معیشتوں اور ملکوں کے درمیان رابطے کے مراکز بھی ہوتے ہیں۔

ان پر ہونے والے کسی بھی حملے کے اثرات نشانہ بننے والی جگہ سے کہیں آگے تک پھیل سکتے ہیں اور ہزاروں مسافروں، کارکنوں اور ان کے اہلِ خانہ کو متاثر کر سکتے ہیں۔

مصر کے صوبے بحیرہ سے تعلق رکھنے والی عزا فلائی ناس ایئرلائنز میں فضائی میزبان کے طور پر کام کرتی تھیں۔ وہ 10 اکتوبر کو ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گئیں۔ کمپنی نے ان کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔

دوسری جانب سعودی عربین ایئرلائنز نے کیپٹن حمود کی ہلاکت پر تعزیت کی۔ وہ آٹھ اکتوبر کو ہوائی اڈے کی تنصیبات اور وہاں زمین پر کھڑے کمپنی کے ایک ایسے طیارے پر حملے میں ہلاک ہوئے، جس میں کوئی مسافر سوار نہیں تھا۔ کمپنی نے ان کی ہلاکت کے حالات کے بارے میں مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔

تاہم سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی پائلٹ حمود الکثامی کے والد سے رابطہ کر کے ان سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

رپورٹس کے مطابق ولی عہد نے پائلٹ کے اہلِ خانہ سے اظہارِ ہمدردی کی۔

سعودی عرب کی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے سربراہ ترکی الشیخ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں سعودی علی عہد کے وہ الفاظ شیئر کیے جو ان کے مطابق محمد بن سلمان نے پائلٹ کے والد کو کہتے تھے: ’آپ کے بیٹے کا بدلہ میں لوں گا، مجھے اپنا بیٹا سمجھیں۔‘

11 اکتوبر کو مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے فضائی میزبان عزا رمزی کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔ ریاض میں مصری سفارت خانے اور قونصل خانے نے اعلان کیا کہ وہ عزا کی میت مصر منتقل کرنے کے انتظامات کریں گے۔ اس کے علاوہ انھوں نے زخمی مصری شہریوں سے رابطہ کرنے اور انھیں ضروری مدد فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

سوشل میڈیا پر بھی عزا اور حمود کے ساتھ پیش آنے والے واقعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ صارف مالک الروقی نے اپنے اکاؤنٹ پر عزا کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’وہ حوثیوں کا نشانہ بنیں۔‘

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سنیچر اور اتوار کے روز حوثیوں کے حملوں میں مرنے والوں سعودی اور مصری فضائی میزبانوں کے علاوہ ہلاک ہونے والے دوسرے افراد کا تعلق بنگلہ دیش، انڈیا اور پاکستان سے بتایا گیا ہے۔

ان حملوں میں بنگلہ دیش کے دو اور انڈیا کا ایک شہری سنیچر کی شام ہونے والے حملے میں مارے گئے جبکہ اتوار کو ہونے والے حملے میں اب تک ایک پاکستانی شہری کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

رواں ہفتے کے دوران حوثیوں نے سعودی عرب کے مختلف اہداف پر حملے کیے، جن میں ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی شامل تھا۔

اتوار کو اسی ایئرپورٹ پر ایک اور حملہ کیا گیا۔ سعودی حکام کے مطابق ایک میزائل نما ہتھیار یا پروجیکٹائل ٹرمینل کے قریب آ گرا، جس سے مسافروں کے ایک ہال میں آگ لگ گئی۔ اتوار کے حملے میں کم از کم ایک پاکستانی شہری ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے۔

حملے کے بعد حوثیوں نے اعلان کیا کہ انھوں نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کنگ خالد ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا ہے۔

حوثیوں نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے دمام ایئرپورٹ اور سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر بھی حملے کیے ہیں۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے خبردار کیا کہ مکہ اور مدینہ شہر کے ہوائی اڈوں کے علاوہ سعودی عرب کے تمام ایئرپورٹس ممکنہ اہداف ہیں۔

ریاض ایئرپورٹ حملوں کے متاثرین میں غیر ملکی شہری بھی شامل تھے۔ بنگلہ دیشی حکام کے مطابق کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملے میں دو بنگلہ دیشی شہری، محمد نصراللہ بدرپوری اور محمد شاہد احمد، ہلاک ہوئے جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔

انڈین رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے بھی تصدیق کی کہ حملے میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے محمد یوسف علی جان کی بازی ہار گئے جبکہ ان کے اہلِ خانہ کے کئی افراد زخمی ہوئے۔

حملوں کے بعد بعض پروازیں منسوخ کی گئیں، زخمیوں کو مقامی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جبکہ سعودی عرب اور متعدد خلیجی ممالک نے حملوں کی شدید مذمت کی۔

مدرسے کے استاد جو عمرہ کرنے گئے تھے

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر حوثیوں کے میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے دو بنگلہ دیشی شہریوں کی شناخت ہو گئی ہے۔

ڈھاک میں وزارتِ بہبودِ تارکین وطن کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد میں کومیلا کے ضلع نانگل کوٹ سے تعلق رکھنے والے محمد نصراللہ بدرپوری اور بوگورا کے شاہجہاں پور علاقے کے رہائشی محمد شاہد احمد شامل ہیں۔

وزارت نے بتایا کہ گذشتہ روز سہ پہر تقریباً 3 بج کر 20 منٹ پر کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر ایک میزائل آ گرا۔ اس وقت بنگلہ دیش سمیت مختلف ممالک کے مسافر وہاں موجود تھے۔ اس حملے میں دو بنگلہ دیشی شہری ہلاک ہو گئے۔

نصراللہ بدرپوری کے بہنوئی مولانا محمد ناصر الدین نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ وہ ڈھاکہ کے علاقے کامرانگیر چر میں واقع جامعہ ربیع العلوم مدرسے میں بطور استاد خدمات انجام دے رہے تھے، جبکہ شاہد احمد سعودی عرب میں ملازمت کرتے تھے۔

ناصر الدین کے مطابق نصراللہ بدرپوری ہفتے کی صبح عمرے کی ادائیگی کے لیے ڈھاکہ سے روانہ ہوئے تھے اور 24 اکتوبر کو وطن واپس آنے والے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ’ریاض پہنچنے کے بعد ان کا دو گھنٹے کا ٹرانزٹ تھا اور وہاں سے دوسری پرواز کے ذریعے مکہ جانا تھا۔ وہ پرواز میں سوار ہونے کے لیے قطار میں کھڑے تھے کہ اسی دوران حملہ ہو گیا۔‘

ان کے مطابق نصراللہ بدرپوری جس 45 رکنی عمرہ گروپ کے ساتھ گئے تھے، اس کے 32 افراد حملے میں محفوظ رہے۔

ناصر الدین نے کہا، ’لیکن وہ مارے گئے۔ دوسرے مرنے والے شخص سعودی عرب میں کام کرتے تھے۔ ایک شخص دونوں ٹانگیں کھو بیٹھا جبکہ کئی دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ نصراللہ بدرپوری کے پسماندگان میں والد، والدہ، اہلیہ اور تین بچے شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سنیچر کے روز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے میزائل حملے میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کی ہلاکت اور متعدد دیگر بنگلہ دیشیوں کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کی صبح دی تھی۔

اس حملے کے بعد ہوائی اڈے کی جانب سے جاری اعلانات کے باعث پیر کو ڈھاکہ اور ریاض کے درمیان چلنے والی پانچ پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جن میں بنگلہ دیش بیمان ایئرلائنز کی دو پروازیں بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے خارجہ شاما عبید نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ حملے میں زخمی ہونے والے چار بنگلہ دیشی شہری مقامی کنگ خالد اسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں زیرِ علاج ہیں۔

انھوں نے کہا: ’ہم ہر زخمی شخص کی شناخت کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیشی مشن سعودی حکام کے ساتھ مل کر ان کی شناخت کی تصدیق کے لیے کام کر رہا ہے۔‘

انھوں نے یہ بات وزارتِ خارجہ میں منعقدہ پریس بریفنگ کے دوران کہی۔

انڈین شہری ہلاک، خاندان کے دیگر افراد زخمی

10 اکتوبر کو ہونے والے اسی حملے میں ایک انڈین شہری ہلاک اور دس زخمی بھی ہوئے۔

سعودی عرب میں انڈیا کے سفارت خانے نے اتوار کو کہا کہ ’ایک انڈین شہری جو ایک دن پہلے اسی ہوائی اڈے پر حملے میں زخمی ہوا تھا، فوت ہوگیا ہے۔‘

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے بتایا ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والے خاندان کا تعلق حیدرآباد کے علاقے مہدی پٹنم سے ہے۔

اویسی نے ایکس پر لکھا: ’اس حملے میں یوسف صاحب کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’ان کے بیٹے کے گھٹنے کا آپریشن جاری ہے۔ ان کا ایک اور بیٹا ہسپتال میں زیر علاج ہے اور اس کے پاؤں کی تین انگلیاں کاٹنا پڑی ہیں۔ ان کی بیٹی اور اہلیہ محفوظ ہیں۔ ان کی خالہ بھی ان کے ساتھ تھیں۔ ان کے سر پر چوٹ آئی ہے، لیکن اب وہ خطرے سے باہر ہیں۔‘

اویسی نے کہا: ’میں ریاض میں یوسف کے بہنوئی کے رابطے میں ہوں۔ ڈپٹی چیف آف مشن (ڈی سی ایم) نے یقین دہانی کرائی ہے کہ خاندان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔‘

انھوں نے انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے اپیل کرتے ہوئے کہا: ’خاندان کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔‘

اس سے قبل ہلاکت کی تصدیق ہونے سے پہلے اویسی نے ایکس پر لکھا تھا: ’ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں محمد یوسف علی نامی ایک شخص ہلاک ہو گئے۔ ان کی اہلیہ اور دو بچے زخمی ہوئے ہیں۔‘

حوثی
Getty Images

حوثیوں کے سعودی عرب میں تازہ حملے

  • حوثیوں کا دعویٰ: گروپ نے کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس نے بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔
  • 11 اکتوبر 2026 (اتوار): کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دوسرا حملہ کیا گیا۔ سعودی حکام کے مطابق ایک پروجیکٹائل مسافروں کے ایک ہال سے ٹکرایا جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ اس حملے میں ایک پاکستانی شہری ہلاک اور 11 افراد زخمی ہوئے۔
  • سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے ریاض ایئرپورٹ کے قریب ایک میزائل کو تباہ کیا، جبکہ ایک اور نامعلوم ہتھیار مسافر ہال نمبر 4 سے ٹکرایا۔
  • 10 اکتوبر 2026 (سنیچر): ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بڑا حملہ ہوا۔ حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور 308 زخمی ہوئے۔ متاثرین میں غیر ملکی شہری بھی شامل تھے، جن میں دو بنگلہ دیشی اور ایک انڈین شہری کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں۔
  • 7 اکتوبر 2026 : سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق یمنی سرحد کے قریب جازان اور نجران کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں میں کم از کم تین افراد زخمی ہوئے۔
  • 6 اور 7 اکتوبر 2026 کی درمیانی شب: سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں میں دو خواتین سمیت تین افراد ہلاک جبکہ 36 زخمی ہوئے ہیں۔ سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے بتایا ہے کہ منگل اور بدھ یعنیدرمیانی شب دونوں ہوائی اڈوں کی تنصیبات کو حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ ابھا ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں مراکشی اور الجزائر کی شہریت رکھنے والی دو خواتین ہلاک جبکہ 28 افراد زخمی ہوئے۔ اس سے قبل چھ اکتوبر کو حوثیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے سعودی عرب میں تین فوجی کارروائیاں کیں، جن میں ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے، رابغ میں آرامکو کی ایک آئل ریفائنری، ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور خمیس مشیط کے ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
  • گذشتہ ہفتے: حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے سعودی آرامکو کی ینبع میں واقع تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ سعودی عرب نے کہا کہ اس نے طائف اور ینبع کی جانب داغے گئے چھ بیلسٹک میزائل مار گرائے۔
  • 29 ستمبر 2026: سعودی عرب نے اعلان کیا کہ حوثیوں نے مدینہ میں واقع طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن سٹیشن کو نشانہ بنایا، جو مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرتا ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور متعدد خلیجی ممالک نے حملے کی مذمت کی، جبکہ حوثیوں نے اس الزام کو ’بے بنیاد‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔

News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US