برطانیہ کی سابق اولمپک سپرنٹر بیتھ ڈوبن ایک پیچیدہ اور دائمی بیماری مائیالجک انسیفالومائیلائٹس (ایم ای) میں مبتلا ہونے کے باعث روزانہ 22 گھنٹے سے زائد وقت بستر پر گزارنے پر مجبور ہیں۔ 32 سالہ ایتھلیٹ، جنہوں نے پانچ سال قبل ٹوکیو اولمپکس میں برطانیہ کی نمائندگی کی تھی، اب صرف کھانے اور بیت الخلا جانے کے لیے اٹھ پاتی ہیں۔
اس بیماری کا آغاز 2021 اور 2022 کے موسم سرما میں کووڈ اور غدود کے بخار کے مسلسل انفیکشن کے بعد ہوا۔ ابتدا میں علامات معمولی تھیں لیکن وقت کے ساتھ صحت خراب ہوتی گئی۔ بیماری کی شدت کے باوجود انہوں نے عالمی چیمپئن شپ، دولتِ مشترکہ کھیلوں اور یورپی چیمپئن شپ میں حصہ لیا، جہاں یورپی چیمپئن شپ کے دوران ٹانگوں میں احساس ختم ہونے کے باعث وہ غلط آغاز کی مرتکب ہوئیں۔ مختلف ماہرین سے معائنے کے باوجود تشخیص میں وقت لگا۔
اس مرض کا اب تک کوئی مستند علاج یا مخصوص دوا دستیاب نہیں ہے اور مریضوں کو علامات پر قابو پانے کے لیے معاون نگہداشت پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ بیتھ ڈوبن کے مطابق یہ بیماری محض تھکاوٹ نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتی ہے، جس کے تحت وہ اپنی صحت، خودمختاری، ملازمت اور ورزش کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہیں اور رواں سال وہ صرف پانچ مرتبہ گھر سے باہر نکل سکیں ہیں۔
ان کے والدین جم اور جین ڈوبن علاج کی محدود سہولتوں پر بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے بیٹی کی دیکھ آف اور مستقبل کے حوالے سے شدید فکر مند ہیں۔ بیماری کے بارے میں آگاہی اور تحقیق کے لیے فنڈز جمع کرنے کی غرض سے ان کی چھوٹی بہن فے ڈوبن نے یارکشائر میراتھن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے ذریعے 'ایم ای ریسرچ یو کے' کے لیے عطیات جمع کیے جائیں گے۔
برطانیہ میں اس بیماری سے متاثرہ افراد کی تعداد چار لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے جبکہ بعض اندازوں کے مطابق اصل تعداد دس لاکھ سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ بیتھ ڈوبن نے اپنی کہانی شیئر کرنے کا مقصد اس بیماری میں مبتلا افراد کی مشکلات کو اجاگر کرنا اور انہیں سستی یا کاہلی کا شکار قرار دینے کے بجائے ان کی حالت پر یقین کیا جانا بتایا ہے۔