پاکستانی کرکٹرز کو اپنے مرکزی معاہدے (سینٹرل کانٹریکٹس) حاصل کرنے کے لیے رواں ماہ کے آخر میں ہونے والی سہ فریقی ون ڈے سیریز کے اختتام کا انتظار کرنا پڑے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے قریب ایک قابل اعتماد ذریعہ نے جمعہ کے روز بتایا کہ نئے مرکزی معاہدے، جن میں پہلے ہی تقریباً ڈھائی ماہ کی تاخیر ہوچکی ہے، سری لنکا اور انگلینڈ کی شمولیت والی سیریز کے اختتام کے بعد دیے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا تھا: "اس کی وجہ یہ ہے کہ ہیڈ کوچ مائیک ہیسن، جو تمام فارمیٹس میں قومی ٹیم کی کوچنگ کر رہے ہیں، اور قومی سلیکٹرز کسی حتمی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے ہوم گراؤنڈ پر جاری بین الاقوامی میچوں اور جاری فرسٹ کلاس ڈومیسٹک سیزن میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ مائیک ہیسن اور سلیکٹرز کا ماننا ہے کہ ان میچوں میں کھلاڑیوں کی کارکردگی دیکھ کر وہ اس بات کا واضح اندازہ لگا سکیں گے کہ کس کھلاڑی کو نئے مرکزی معاہدوں کی کس کیٹیگری میں رکھا جائے۔
پی سی بی کا کہنا ہے کہ وہ نئے مرکزی معاہدے سنیارٹی کے بجائے فارمیٹ کی خصوصیات (اسپیشلائزڈ فارمیٹ کیٹیگریز) کی بنیاد پر دے گا۔
اب کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کرکٹ/ریڈ بال فارمیٹ کیٹیگری، ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ، وائٹ بال فارمیٹ (ون ڈے + ٹی ٹوئنٹی) وغیرہ کی کیٹیگریز میں تقسیم کیا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ نئے معاہدوں کا اعلان نومبر میں ہوم گراؤنڈ پر سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز مکمل ہونے تک بھی مؤخر ہو سکتا ہے۔
ذرائع نے مزید کہا: "مرکزی معاہدے جب بھی دیے جائیں گے، وہ پچھلی تاریخوں (بیک ڈیٹ) سے نافذ العمل ہوں گے کیونکہ پچھلے مرکزی معاہدوں کی مدت 31 جولائی کو ختم ہوچکی ہے۔"
عام طور پر بورڈ اگست میں نئے معاہدوں کا اعلان کرتا ہے لیکن اس بار غیر معمولی تاخیر ہوئی ہے، یہاں تک کہ ایسی باتیں بھی ہو رہی ہیں کہ بورڈ شاید کوئی رسمی اعلان نہ کرے اور معاہدے حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کے ناموں کو راز میں رکھے۔
ذرائع کے مطابق مائیک ہیسن اور سلیکٹرز اس بات پر مکمل طور پر واضح ہونا چاہتے ہیں کہ کون سا کھلاڑی اپنی کارکردگی اور مخصوص صلاحیتوں کی بنیاد پر کس کیٹیگری میں شامل ہوگا۔