آل پاکستان کار ڈیلرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں شعیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کی خصوصی توجہ کے باعث استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ پر عائد پابندی ختم ہوگئی ہے، جس سے آٹوموٹیو سیکٹر میں مسابقت کی فضا پیدا ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مقامی اسمبلرز تین گنا زائد قیمتوں پر گاڑیاں فروخت کر رہے تھے، جبکہ انجینیئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) اور وزارتِ صنعت و پیداوار کے کچھ افسران نے متعلقہ اداروں اور اسمبلرز کے گٹھ جوڑ سے ایک سال تک اس پالیسی کو سبوتاژ کیے رکھا، جس کی وجہ سے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات ممکن نہ ہو سکیں۔
میاں شعیب نے انکشاف کیا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران صرف پرسنل بیگج اور گفٹ اسکیم کے تحت 4 ہزار یونٹس امپورٹ ہوئے ہیں، تاہم ایک سال کے وقفے کے بعد ستمبر سے استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کا دوبارہ آغاز ہوچکا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزارتِ صنعت و پیداوار اور ای ڈی بی کے متعلقہ حکام کے خلاف فوری تحقیقات کی جائیں۔
چیئرمین ایسوسی ایشن کا مزید کہنا تھا کہ امپورٹڈ گاڑیوں پر 200 سے 569 فیصد تک زائد ڈیوٹی و ٹیکسز عائد ہیں، لہٰذا ڈیوٹی و ٹیکس ٹیرف میں کمی کی جائے تاکہ عام آدمی کو کم قیمتوں پر معیاری امپورٹڈ گاڑیاں میسر آ سکیں۔