استغاثہ کے مطابق تینوں ملزمان نے مالی فائدے کے لیے گائے کو ذبح کیا اور یہ 22 اگست 2024 کو گاندھی نگر ضلع کی کالول تعلقہ میں واقع ایک گھر میں گوشت کی تیاری اور فروخت میں ملوث تھے۔
گجرات کے ضلع گاندھی نگر کے ایڈیشنل سیشن جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر گائے کو ذبح کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو یہ زمین سے ناپید ہو جائیں گیانڈین ریاست گجرات کے ضلع گاندھی نگر کی ایک عدالت نے گائے کے ذبح کے ایک مقدمے میں تین افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے گائے کی مذہبی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہندوؤں کی مذہب کتب منو سمرتی اور وید کا حوالہ دیا ہے۔
انڈین خبر رساں ادارے ’پریس ٹرسٹ آف انڈیا‘ کے مطابق گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھوی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ ریاست میں گائیں ذبح کرنے والوں کو قانون کبھی نہیں بخشے گا۔
پیر کے روز اپنے فیصلے میں ایڈیشنل سیشن جج بی آر راجپوت نے مجرم قرار دیے جانے والے افراد پر تین لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اگر ایسے ملزمان کو قانون کے مطابق سزا نہیں گئی تو ’گاؤ ماتا‘ وقت گزرنے کے ساتھزمین سے ناپید ہو جائے گی۔
عدالت نے گجرات اینیمل پریزرویشن ایکٹ 1954 کے تحت ایک اور جرم میں ملزمان کو 10 سال قیدِ بامشقت اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ یہ سزائیں بیک وقت نافذ ہوں گی۔

ان افراد پر الزام کیا تھا؟
انڈیا میں عدالتی فیصلوں سے متعلق ویب پورٹل لائیو لا ڈاٹ ان کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج برجیش کماری رامیشور سنگھ راجپوت نے اپنے 76 صفحات پر مشتمل گجراتی زبان میں تحریر کردہ فیصلے میں گائے کی مذہبی اور ثقافتی اہمیت پر گفتگو کی۔
اُنھوں نے ریمارکس دیے کہ گائے محض ایک جانور نہیں بلکہ معاشرے اور مذہب کا ایک ’ستون‘ ہے۔ عدالت نے مویشیوں کے تحفظ اور گائیں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کا بھی حوالہ دیا اور ہندو مذہب میں گائے کی اہمیت پر گفتگو کی۔
استغاثہ کے مطابق تینوں ملزمان نے مالی فائدے کے لیے گائے کو ذبح کیا اور یہ 22 اگست 2024 کو گاندھی نگر ضلع کی کالول تعلقہ میں واقع ایک گھر میں گوشت کی تیاری اور فروخت میں ملوث تھے۔
ملزمان پر یہ بھی الزام تھا کہ موقع سے چاقو، کلہاڑی، ترازو، رسیاں اور گاڑیاں برآمد کی گئیں جن کی مجموعی مالیت تین لاکھ 61 ہزار 540 روپے تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ نے شکایت کنندہ، چھاپہ مار ٹیم کے ارکان، آزاد پنچ گواہوں اور ایک ویٹرنری ڈاکٹر کی قابلِ اعتماد گواہی کی بنیاد پر تینوں ملزمان کے خلاف الزامات کو معقول شک سے بالاتر ہو کر ثابت کر دیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جائے وقوعہ سے گائیں کے سر، ٹانگیں، کھال اور دیگر باقیات برآمد ہوئی تھیں، جہاں ملزمان کو گائے کاٹتے اور گوشت الگ کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔
عدالت نے دو دیگر ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔
خاص طور پر عدالت نے اس بات کی نشاندہی کی کہ کوئی زبانی یا دستاویزی ثبوت موجود نہیں تھا جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ واقعے کے وقت مقام پر موجود تھے یا یہ کہ مبینہ گوشت پانچویں ملزم کو فروخت کیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل
یہ عدالتی فیصلہ سوشل میڈیا پر بھی زیرِ بحث ہے، جہاں مختلف صارفین اس پر اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
خالد اختر نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’گجرات کی عدلیہ نے بظاہر قانون کے نئے ماخذ تلاش کر لیے ہیں، جن میں منو سمرتی اور وید بھی شامل ہیں۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جج اب آئین اور سیکولر فوجداری قوانین کو اہمیت نہیں دے رہے؟‘
وجے نامی صارف نے لکھا کہ ’گائے ذبح کرنے پر عمر قید؟ آخر ہم کس جانب جا رہے ہیں؟‘
دہلی سے صحافی وقار حسن نے لکھا کہ مسلمانوں کے معاملے میں انڈیا کا نظامِ انصاف کچھ یوں کام کرتا ہے۔ ’دہلی میں ایک مسلمان نوجوان کے قتل کے جرم میں پانچ ہندو افراد کو سات سات سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ گجرات میں ایک گائے کو ذبح کرنے کے جرم میں تین مسلمان افراد کو عمر قید کی سزا دی گئی۔‘
ستیا نامی صارف نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے لکھا کہ ملزمان اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں۔
جے مہتا نامی صارف نے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ ان دکانداروں کے خلاف بھی مناسب کارروائی کی جائے جو مرکزی سڑکوں پر گوشت فروخت کرتے ہیں۔