وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے لیے اپوزیشن لیڈر کو دو خطوط ارسال کیے ہیں، اب حکومت ان کے جواب کی منتظر ہے۔ اپوزیشن لیڈر بتائیں کہ وہ وزیراعظم سے ملاقات کے لیے کب آرہے ہیں۔
اپنے بیان میں رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ملاقات کے لیے کسی تیسرے مقام کی تجویز قابل قبول نہیں، ملاقات وزیراعظم ہاؤس میں ہی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس کسی کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ ریاست کی ملکیت ہے، اس لیے ملاقات کے مقام کے حوالے سے غیر ضروری شرائط عائد کرنے کا طریقہ قبول نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اس نوعیت کی ضد کی جاتی رہی ہے، تاہم اس بار بھی ایسا طرزِ عمل قابل قبول نہیں ہوگا۔
پی ٹی آئی سے مذاکرات کے حوالے سے وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں نافذ ایمرجنسی واپس لینے کی شرط پر مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کے ساتھ تعاون کرے تو بات چیت کی گنجائش موجود ہے۔
رانا ثناء اللہ نے اپوزیشن لیڈر پر زور دیا کہ وہ ملاقات کے لیے وقت طے کریں اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے عملی پیش رفت کریں۔
حکومتی مؤقف کے مطابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کے لیے وزیراعظم ہاؤس ہی مناسب مقام ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کو پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے۔