میں نے پاکستان کے لیے ہاکی کھیلی، ملک کو عالمی مقابلوں میں کامیابیاں دلوائیں اور بیرونِ ملک سے ملنے والی پیشکشیں بھی ٹھکرا دیں کیونکہ مجھے اپنے وطن سے محبت تھی۔ لیکن آج میرے حالات ایسے ہیں کہ بچوں کی اسکول فیس تک ادا نہیں کر سکتا۔ بیماری کے بعد قرضوں میں ڈوب گیا ہوں، دواؤں کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے۔ حکومت سے درخواست ہے کہ میری مدد کی جائے تاکہ اپنے بچوں کی ضروریات پوری کر سکوں۔
یہ درد بھری فریاد پاکستان کے سابق ہاکی اولمپیئن زاہد شریف کی ہے جنہوں نے کبھی عالمی میدانوں میں ملک کی نمائندگی کی، لیکن آج بیماری اور مالی پریشانیوں کے باعث مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔
نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں زاہد شریف نے بتایا کہ اکتوبر 2015 میں انہیں دل کا دورہ پڑا اور فالج بھی ہوا، جس کے بعد تقریباً دو سے تین سال تک وہ بستر سے اٹھنے کے قابل نہیں تھے۔ طویل علالت نے نہ صرف ان کی صحت متاثر کی بلکہ آمدنی کے ذرائع بھی محدود کر دیے۔
سابق کھلاڑی کے مطابق صحت میں کچھ بہتری آنے کے بعد انہوں نے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ریسٹورنٹ کا کاروبار شروع کیا مگر جسمانی کمزوری کے باعث اسے جاری نہ رکھ سکے۔ کاروبار میں نقصان ہوا اور قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلا گیا۔
زاہد شریف نے بتایا کہ ان کی ادویات پر ہر ماہ تقریباً 10 سے 11 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں جبکہ گھر کے دیگر اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہوچکا ہے۔ مالی تنگی کی وجہ سے ان کے بچے اسکول نہیں جا پا رہے، کیونکہ وہ تعلیمی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ پنجاب اسپورٹس بورڈ کی جانب سے انہیں پہلے 35 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ ملتا تھا جو اب بند کردیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اکتوبر میں پاکستان اسپورٹس بورڈ کے دفتر جانے پر انہیں بتایا گیا کہ وظیفے کی ادائیگی ختم ہوچکی ہے۔
سابق اولمپیئن نے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کی مالی مشکلات کا نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے خاص طور پر قرضوں کی ادائیگی، علاج اور بچوں کی تعلیم کے لیے تعاون کی درخواست کی۔
زاہد شریف کا کہنا تھا کہ جب وہ اپنے کھیل کے عروج پر تھے تو انہیں بیرونِ ملک سے کئی مواقع ملے، لیکن انہوں نے پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی۔ آج ان کی خواہش صرف اتنی ہے کہ وہ عزت کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں اور اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔
واضح رہے کہ زاہد شریف نے 1984 میں پاکستان کی جونیئر ہاکی ٹیم سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور 1985 کے جونیئر ورلڈ کپ میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ وہ 1987 سے جنوری 1992 تک قومی سینئر ٹیم کا حصہ رہے اور 1988 کے سیئول اولمپکس میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی۔
انہوں نے 1988 کی چیمپئنز ٹرافی میں چاندی اور 1990 کے ایشین گیمز میں سونے کا تمغہ جیتنے والی قومی ٹیم کی کامیابی میں بھی حصہ ڈالا۔
کبھی پاکستان کے لیے عالمی میدانوں میں کھیلنے والے زاہد شریف آج حکومتی تعاون کے منتظر ہیں۔ ان کی صورتحال سابق قومی کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود اور مشکل وقت میں ان کی مالی معاونت کے انتظامات پر بھی اہم سوال اٹھاتی ہے۔