پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق سینئر منتظم اور سابق ٹیسٹ اسپنر ندیم خان نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں میں اعتماد، تحفظ اور ترجیح کی کمی گزشتہ چند سالوں میں قومی ٹیم کی غیر یقینی کارکردگی کی بنیادی وجہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے کرکٹ ڈھانچے میں کھلاڑی ہی سب سے اہم اسٹیک ہولڈر ہوتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں کھلاڑیوں کو وہ احترام اور تحفظ نہیں دیا گیا جس کے وہ حقدار ہیں، جس سے ان کی کارکردگی متاثر ہوئی۔
ندیم خان، جو پی سی بی کے ڈومیسٹک شعبے میں سینئر عہدوں پر فائز اور ہائی پرفارمنس سینٹر کے سربراہ رہ چکے ہیں، نے بتایا کہ بار بار کپتان، کوچز اور کھلاڑیوں کی تبدیلی اور نامناسب فیصلوں سے کھلاڑیوں کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچی۔
انہوں نے کہا کہ 2023 کے ورلڈ کپ کے بعد بابر اعظم کو کپتانی سے ہٹانے اور 2019 میں سرفراز احمد کو نظر انداز کرنے جیسے اقدامات نے پاکستان کرکٹ کو نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق انتظامی غلطیوں اور مسلسل تبدیلیوں کا یہ سلسلہ پہلے سے چلا آ رہا ہے۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر نے پاکستان میں معیاری ٹیلنٹ کی کمی کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ٹیلنٹ اب بھی موجود ہے اور پی سی بی اس کو سنبھالنے کے نظام پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے پی ایس ایل کے بعد 18 یا 20 ٹیموں یا ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی ضرورت کو ختم قرار دیتے ہوئے تجویز دی کہ زیادہ سے زیادہ چھ علاقائی ٹیموں پر مشتمل دو درجاتی (ٹُو ٹائر) نظام ہونا چاہیے، جہاں مقدار کے بجائے معیار پر توجہ دی جائے اور کھلاڑیوں کو مناسب سالانہ معاوضہ فراہم کر کے مطمئن رکھا جائے۔