سکیورٹی فورسز کا خاتون حملہ آور سمیت 10 عسکریت پسند ہلاک کرنے کا دعویٰ: گوادر حملوں کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

آئی ایس پی آر کے مطابق گوادر میں حملوں کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ایک خاتون سمیت 10 عسکریت پسند ہلاک کر دیے گئے جبکہ ایک شہری جان سے گیا۔ پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور علاقے میں صورتحال معمول پر آ گئی ہے۔
balochistan
Getty Images

پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے علاقے گبد بارڈر کراسنگ اور گوادر شہر کے مختلف علاقوں میں عسکریت پسندوں کے حملوں کو ناکام بناتے ہوئے ایک خاتون عسکریت پسند سمیت 10 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ ان کارروائیوں کے دوران ایک شہری بھی مارا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں نے ’ضلع گوادر میں گبد بارڈر کراسنگ اور گوادر شہر کے مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی کوشش کی۔۔۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک خاتون دہشت گرد سمیت 10 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔‘

آئی ایس پی آر کے مطابق ان حملوں کے دوران ایک شہری جان سے گیا جبکہ چند گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا جبکہ سکیورٹی فورسز کو کسی قسم کے جانی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق یہ آپریشن کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے علاقے میں امن و امان اور ریاستی رٹ بحال کر دی گئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے ’ایک بلوچ خاتون کو اس حملے میں شامل کرنے پر مجبور کرنا نہ صرف ریاست کے خلاف بلکہ بلوچ خواتین کے احترام کے بھی منافی ہے۔ یہ اقدام دہشت گردوں کی جانب سے بلوچ خواتین کو پروپیگنڈا کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے، جس کا مقصد عوامی جذبات کو بھڑکانا اور اپنی مہم کو جھوٹی اخلاقی حیثیت دینا ہے۔‘

یاد رہے کہ جمعرات (22 اکتوبر) کی شام سے ہی ضلع گوادر میں بد امنی کے واقعات کی اطلاعات زیر گردش رہی ہیں اور اس دوران سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی آئیں جن میں ٹرکوں کو جلتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاونین برائے اطلاعات اور محکمہ داخلہ کی جانب سے الگ الگ بیانات جاری کیے گئے تھے جن میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ حملہ محض 'تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ' پر کیا گیا تھا۔

دوسری جانب اس حملے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی ہے۔ پاکستان کی وفاقی وزارت داخلہ کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کو آٹھ ستمبر 2010 کو کالعدم تنظیم قرار دیا تھا۔

حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ گوادر میں کیا گیا اُن کا حملہ مختلف مقامات پر بیک وقت ہوا اور اِن مقامات میں ایف ڈبلیو او کا مرکزی کیمپ بھی شامل ہے۔

اس تنظیم نے ان حملوں میں سکیورٹی فورسز کے جانی نقصانات کے حوالے سے دعوے بھی کیے، تاہم آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز کو کسی قسم کے جانی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

بی بی سی اُردو نے بلوچستان کے سینیئر حکام اور گوادر کے مقامی افراد سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ جمعرات کو گوادر میں کیا واقعات پیش آئے ہیں۔

’تین مقامات پر حملے ہوئے‘: حکام اور عینی شاہدین نے کیا بتایا؟

بی بی سی اُردو کو سینیئر سرکاری حکام اور عینی شاہدین نے گوادر میں تین مقامات پر عسکریت پسندوں کے حملوں کی تصدیق کی ہے۔

سرکاری حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کی ہے۔ ایک سینیئر اہلکار کے مطابق یہ حملے گوادر شہر کے قریب ایف ڈبلیو او کے کیمپ کے علاوہ سُنٹسر اور ایران کے ساتھ واقع سرحدی علاقے گبد ریمدان 250 بارڈر پر کیے گئے ہیں۔

گوادر سے تعلق رکھنے والے ایک شہری محمد عارف نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ جمعرات کو شہر میں ایک زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی تھی۔

اُن کے مطابق بعدازاں معلوم ہوا کہ یہ دھماکہ گوادر شہر سے شمال میں اندازاً 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تعمیراتی کمپنی کے کمپاؤنڈ میں ہوا تھا۔

اُن کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ اس علاقے سے اچھے خاصے فاصلے پر تھے، لیکن 'دھماکے کی شدت بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے یوں لگا، جیسے کہ یہ کہیں اُن کے بالکل قریب ہوا ہے۔'

انھوں نے بتایا کہ اس کے بعد شہر میں صورتحال معمول کے مطابق رہی کیونکہ حملہ آور گوادر شہر کی جانب نہیں آ سکے۔

ایک اور شہری نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ 'پہلے ایک زوردار دھماکہ ہوا اور بعد میں چھوٹے دھماکوں کے علاوہ فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں اور فائرنگ کا سلسلہ دیر تک جاری رہا۔'

انھوں نے بتایا کہ ابتدائی دھماکے کی شدت کی وجہ سے نزدیکی آبادی میں گھروں کے شیشے بھی ٹوٹے۔

جمعرات کی شب گوادر کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ گبد ریمدان 250 بارڈر اور گرد و نواح میں امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے۔

انتظامیہ نے وضاحت کی تھی کہ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ یاد رہے کہ ان حملوں کے بعد اس نوعیت کی بہت سی ویڈیوز سوشل میڈیا پر آئی تھیں جن میں سرحد کے نزدیک جلتے ہوئے ٹرکس کو دکھایا گیا تھا، تاہم ان ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

گوادر انتظامیہ کے بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز اور دیگر متعلقہ اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو مکمل طور پر کنٹرول میں لے لیا ہے جبکہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف پولیس اور متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ مستند معلومات پر اعتماد کریں۔

Allah nazar
BBC
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ

حملہ کی ذمہ داری قبول کرنے والی بلوچستان لبریشن فرنٹ کیا ہے؟

جمعرات کو گوادر میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کالعدم بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اُن متعدد علیحدگی پسند تنظیموں میں سے ایک ہے جو بلوچستان میں مختلف شکلوں میں گذشتہ کئی دہائیوں سے عسکریت پسندی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ اس کالعدم تنظیم کے سربراہ ہیں۔ ستمبر 2015 میں بلوچستان کے اُس وقت کے وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی (موجودہ وزیر اعلیٰ) نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کا خیال ہے کہ اللہ نذر اگست 2015 میں ضلع آواران میں کیے گئے ایک بڑے فوجی آپریشن کے دوران مارے گئے تھے۔

تاہم پھر نومبر 2015 میں اللہ نذر ایک ویڈیو میں سامنے آئے اور انھوں نے اپنی ہلاکت کی تردید کی۔

بلوچستان کی عسکریت پسند تنظیموں پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی ضیا الرحمان خان نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) بلوچستان میں علیحدگی پسند مسلح تحریک کی ابتدائی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے، تاہم گذشتہ برسوں کے دوران اس تنظیم کی سرگرمیاں نمایاں طور پر محدود ہوئیں اور ایک عرصے تک یہ پس منظر میں چلی گئی تھی۔

اُن کے مطابق سنہ 2020 کے بعد کے ابتدائی برسوں میں تو اس کالعدم تنظیم کی کارروائیاں تقریباً نہ ہونے کے برابر رہیں۔

اُن کے مطابق بعدازاں اس تنظیم نے نہ صرف اپنی عسکری سرگرمیوں میں اضافہ کیا بلکہ خودکش حملوں کا راستہ بھی اختیار کیا۔ 'ماضی میں بی ایل ایف عسکریت پسندی کی کارروائیوں میں خودکش حملوں کے استعمال کی مخالفت کرتی تھی اور خصوصاً خواتین کو ایسی کارروائیوں میں شامل کرنے کے سخت خلاف تھی۔ لیکن بظاہر اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔'

اُن کے مطابق بلوچستان کی مسلح عسکریت پسند تنظیموں کے درمیان بڑھتے ہوئے باہمی مقابلے کے تناظر میں بلوچستان لبریشن فرنٹ نے گذشتہ دنوں خواتین پر مشتمل ایک یونٹ کے قیام کا اعلان بھی کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اِسی تناظر میں گوادر کا حالیہ واقعہ بھی بی ایل ایف کی جانب سے اپنی قوت اور موجودگی دوبارہ منوانے کی کوششوں کا ایک حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ نومبر 2025 میں اس کالعدم تنظیم نے بلوچستان کے علاقے نوکُنڈی میں اپنی نوعیت کی ایک بڑی کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئےدعویٰ کیا تھا اس کارروائی میں ایک خاتون خود کش حملہ آور بھی شامل تھیں۔

یہ حملہ نوکُنڈی میں واقع ایف سی کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر پر کیا گیا تھا جس میں پہلے ایک خود کش حملہ آور نے ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ پر بارود سے بھری گاڑی کو ٹکرایا جس کے بعد دیگر حملہ آور اندر داخل ہوئے۔

مارچ 2016 میں بلوچستان کی حکومت نے کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے99 افراد کے سر کی قیمتیں مقرر کی تھیں اور جن افراد کے سر کی قیمت مقرر کی گئی اُن میں ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کا نام بھی شامل تھا۔

تاہم 11 فروری 2026 کو بلوچستان حکومت کی جانب سے اخبارات میں چھپنے والی اشتہارات میں جن 'انتہائی مطلوب دہشت گردوں' کے سروں کی قیمت مقرر کی گئی تھی اُن میں اللہ نذر کا نام شامل نہیں ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US