لاہور کے قذافی سٹیڈیم کی جگماتی روشنیوں میں آخری وقت تک اُمید نہ چھوڑنے والے شائقینِ کرکٹ نے اپنے آنکھوں کے سامنے وہ کچھ ہوتے دیکھا جس کی توقع پاکستان کرکٹ ٹیم سے ہی کی جا سکتی ہے، یعنی جیت کے قریب آ کر ہار جانا اور ہارتے ہارتے جیت جانا۔

اتوار کو لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں انگلینڈ کی جانب سے دیے گئے 242 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی نو وکٹیں 154 رنز پر گر چکی تھیں۔ آخری بلے باز حارث رؤف سٹیڈیم میں داخل ہو رہے تھے جبکہ کئی مایوس پاکستانی شائقین سٹیڈیم سے باہر جا رہے تھے۔
کمنٹیٹرز انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک کی حکمتِ عملی اور انگلش بولرز کی نپی تلی بولنگ کی تعریف کر رہے تھے۔ میچ کے آغاز پر جب شاہین شاہ آفریدی نے ٹیم میں دو تبدیلیوں اور فہیم اشرف کی جگہ شاداب خان کو شامل کرنے کا بتایا تو اس کے بعد سے سوشل میڈیا پر اس آؤٹ آف فارم بولر پر تنقید کا سلسلہ پھر تیز ہو چکا تھا۔
کسی نے کہا کہ سفیان مقیم اور ابرار کی جگہ شاداب خان کی شمولیت ناانصافی ہے، تو کسی نے شاداب خان کو شامل کرنے پر کوچ مائیک ہیسن اور ٹیم مینجمنٹ پر تنقید کی۔
لیکن لاہور کے قذافی سٹیڈیم کی جگماتی روشنیوں میں آخری وقت تک اُمید نہ چھوڑنے والے شائقینِ کرکٹ نے اپنے آنکھوں کے سامنے وہ کچھ ہوتے دیکھا جس کی توقع پاکستان کرکٹ ٹیم سے ہی کی جا سکتی ہے، یعنی جیت کے قریب آ کر ہار جانا اور ہارتے ہارتے جیت جانا۔
45 ویں اوور کی دوسری گیند پر گس اٹیکنسن کی گیند جب شاداب خان کے پیڈز سے ٹکرائی تو امپائر راشد ریاض نے اپنی اُنگلی ہوا میں بلند کرنے میں دیر نہیں لگائی اور شاداب خان کے ردِعمل سے بھی ایسا لگا کہ پاکستان یہ میچ ہار گیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی شاداب خان نے ریویو بھی لے لیا، جس میں انکشاف ہوا کہ گیند پیڈز سے پہلے شاداب خان کے بلے کو چھوتی ہوئی گزری تھی۔
’میں تو بیگ اُٹھا کر گھر جانے لگا تھا۔‘
اس منظر پر کمنٹری کرنے والے وقار یونس نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’لگتا ہے کہ آج شاداب خان کا دن ہے۔‘ ایک اور کمنٹیٹر نے کہا کہ ’سٹیڈیم سے جانے والے شائقین اب پچھتا رہے ہوں گے۔‘
اور جب 47 ویں اوور کی پہلی گیند پر حارث رؤف نے چوکا مار کر 242 رنز کا ہدف عبور کیا تو یہ دن شاداب خان کی انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلی سینچری اور پاکستان کی ناقابلِ یقین فتح پر ختم ہوا۔
شاداب خان کو شاندار کارکردگی پر میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ اُنھوں نے پانچ چھکوں اور13 چوکوں کی مدد سے 96 گیندوں پر113 رنز بنائے۔

’ہم تو کریز پر صرف فن کر رہے تھے‘
میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے شاداب خان کا کہنا تھا کہ میرے سے زیادہ کریڈٹ حارث رؤف کو جاتا ہے۔
’ہم انجوائے کر رہے تھے، کریز پر کرکٹ سے زیادہ ہم دوسری چیزوں پر باتیں کر رہے تھے۔ حارث رؤف مجھے سمجھا رہا تھا، خوش ہوں کہ میری اننگز کی وجہ سے پاکستان میچ جیتا۔ ‘
شاداب خان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اندازہ تھا کہ پچھلے میچ میں شکست کی وجہ سے انگلش بولرز پر دباؤ ہو گا، کنڈیشنز بیٹنگ کے لیے بہتر ہو گئی تھیں اور اوس بھی پڑ رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ انگلش بولرز کو دباؤ میں لایا جا سکتا ہے۔‘
انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک کا کہنا تھا کہ ہم نے اس میچ میں اچھی بولنگ کی اور فیلڈنگ بھی اچھی کی جبکہ بین ڈکٹ نے شاندار سینچری بنائی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم اُمید کرتے ہیں کہ پاکستان اپنے میچ میں سری لنکا کو شکست دے گا اور پھر ہم بڑے مارجن سے سری لنکا کو شکست دے کر فائنل کھیلنے کی کوشش کریں گے۔
شاداب خان کی اننگز پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستانی کپتان شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں ایسی اننگز نہیں دیکھی۔

’بہت خوب ٹیم پاکستان‘
پاکستان جب انگلینڈ کے ہدف کے قریب پہنچ رہا تھا تو میچ کے دوران سنہ 2010 میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے جانے والے میچ کا سکورڈ کارڈ بھی دکھایا جا رہا تھا۔
اس میچ میں عبدالرزاق نے بھی تنِ تنہا سینچری بنا کر پاکستان کو حیرت انگیز کامیابی دلوائی تھی۔
وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’بہت خوب خوب ٹیم پاکستان، شاباش۔ شاداب اور حارث کے درمیان آخری وکٹ کی شراکت داری نے کھیل کا پانسہ پلٹ دیا۔ شاداب کی سنچری شاندار تھی۔ بہت عمدہ کھیل پیش کیا آپ سب نے!‘
شیری نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’اُن شائقین کے لیے ایک منٹ کی خاموشی جو یہ سمجھ کر قذافی سٹیڈیم سے چلے گئے تھے کہ پاکستان ہار چکا ہے، اور یوں وہ تاریخ کی شاندار ترین واپسیوں میں سے ایک کا نظارہ کرنے سے محروم رہ گئے۔‘
سری لنکن آل راؤنڈر اینجلو میتھیوز نے ایکس پر لکھا کہ یہ شاداب خان کی شاندار اننگز تھی، اُنھوں نے ناممکن صورتحال سے پاکستان کو جیت دلا دی۔
کمنٹیٹر این بشپ نے ایکس پر لکھا کہ شاداب خان نے تنِ تنہا بہترین اننگز کھیلی، آخری وکٹ کے لیے 89 رنز کی شراکت داری میں حارث رؤف کی جانب سے 19 گیندوں پر بنائے گئے 7 رنز بھی اتنے ہی اہم رہے۔
پاکستان کی جانب سےسابق کپتان بابر اعظم 10، صائم ایوب چھ، فخر زمان 10 اور حسن نواز صرف 15 رنز بنا سکے۔ انگلینڈ کی جانب سے جیمی اورٹن نے 10 اوورز میں 43 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔
لیام ڈاسن نے 10 اوورز میں 30 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں۔
اس سے قبل پاکستانی کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ٹاس جیت کر پہلے انگلینڈ کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔
شاہین آفریدی کا یہ فیصلہ اُس وقت درست ثابت ہوا، جب اُنھوں نے پہلے ہی اوور میں ٹام بینٹن کو چار رنز پر آؤٹ کر دیا، عرفات منہاس نے اُن کا کیچ لیا۔
انگلینڈ کی دوسری وکٹ بھی جلد ہی گر گئی جب 11 کے مجموعی سکور پر سابق کپتان جو روٹ بھی پانچ رنز بنا کر شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر صائم ایوب کو کیچ تھما بیٹھے۔
ایک اینڈ پر بین ڈکٹ ڈتے رہے، لیکن جب انگلینڈ کا سکور 19 ہوا تو سری لنکا کے خلاف ڈبل سنچری سکور کرنے والے کپتان ہیری بروک صرف ایک رنز بنا کر رن آؤٹ ہو گئے۔
اننگز کے 10 ویں اوور میں جارڈن کوکس بھی چھ رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے، بابر اعظم نے حارث رؤف کی گیند پر اُن کا کیچ لیا۔ یوں پہلے پاوور پلے میں چار وکٹیں گنوانے والی انگلینڈ کی ٹیم دباؤ میں آ گئی۔

لیکن بین ڈکٹ اور سیم کرن نے محتاط انداز میں بلے بازی کرتے ہوئے انگلینڈ کی ڈگمگاتی بیٹنگ لائن کو سہارا دیا اور 93 رنز کی اہم شراکت داری قائم کی۔
لیکن 145 رنز کے مجموعی سکور پر پاکستانی کپتان شاہین شاہ آفریدی نے ہی اس پارٹنر شپ کا خاتمہ کیا، جب سیم کرن 42 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔
انگلینڈ کی جانب سے بین ڈکٹ نے دو چھکوں اور 10 چوکوں کی مدد سے 111 گیندوں پر 105 رنز بنائے۔ اُنھیں عرفات منہاس نے آؤٹ کیا۔
ول جیکس نے 13، لیام ڈاسن پانچ اور جیمی اورٹن نے 10 رنز بنائے۔ ایک وقت میں انگلینڈ کی آٹھ وکٹیں 187 رنز پر گر چکی تھیں اور لگ رہا تھا کہ شاید انگلینڈ پاکستان کو 200 رنز کا بھی ہدف نہیں دے پائے گا۔ لیکن انگلینڈ کے ٹیل اینڈرز نے بھرپور مزاحمت دکھائی۔
انگلینڈ کے فاسٹ بولر گس اٹیکنسن نے28 گیندوں پر 36 رنز کی اننگز کھیلی اور انگلینڈ کے سکور کو 241 تک پہنچا دیا۔
پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے آٹھ اوورز میں 46 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔ رضا اللہ نے دو جبکہ حارث رؤف نے ایک وکٹ حاصل کی۔

شاہین شاہ آفریدی کی 150 وکٹیں مکمل
انگلینڈ کے خلاف میچ میں شاہین شاہ آفریدی نے ون ڈے کرکٹ میں اپنی 150 وکٹیں مکمل کر لی ہیں۔ اُنھوں نے 80 میچ کھیل کر یہ سنگِ میل عبور کیا۔
اس سے قبل پاکستان کے فاسٹ بولرز شعیب اختر اور وقار یونس نے 91 میچز کھیل کر یہ کارنامہ سرانجام دیا تھا۔
پاکستان کی جانب سے آف سپنر ثقلین مشتاق کے پاس یہ اعزاز ہے کہ اُنھوں نے صرف 78 میچز کھیل کر 150 وکٹیں حاصل کر لی تھیں۔
واضح رہے کہ انگلینڈ کے لیے اس سیریز کے فائنل میں جگہ بنانے کے لیے یہ میچ جیتنا ضروری تھا، کیونکہ راولپنڈی میں کھیلے جانے والے میچز میں اسے پاکستان اور سری لنکا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
سری لنکا کی ٹیم نے 429 رنز کا ہدف حاصل کر کے انگلینڈ کو حیران کیا تھا، جبکہ پاکستان نے انگلینڈ کو 87 رنز سے شکست دی تھی۔