ثمر ہارون بلور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’کسی رکن کے ذاتی خیالات کی عکاسی کرنے والے بیان کو اس انداز میں بڑھا چڑھا کر پیش کرنا مناسب نہیں۔ گورنر، ان کی مشاورتی کونسل اور اے آر ڈی سی کی حکمت عملی بالکل واضح ہے۔ ہماری پالیسی مشترکہ، متفقہ اور غیر مبہم ہے۔‘
’ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر محبت کی زبان سمجھتے ہیں۔‘
’وفاقی حکومت 15 سے 20 قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک وفد تشکیل دے، اسے سرکاری حیثیت اور مکمل اختیارات دے، اور افغانستان جا کر مذاکرات کرنے کی اجازت دے۔‘
یہ جملے پشتو زبان میں ملک خان مرجان کے ایک ویڈیو انٹرویو میں سنے جا سکتے ہیں، جس کا کلپ سوشل میڈیا پر گزشتہ روز سے وائرل ہے۔
ملک خان مرجان خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد 12 متاثرہ اضلاع کے لیے قائم کیے گئے نئے انتظامی ڈھانچے ایریا ریپریزینٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی) کے نائب چیئرمین ہیں۔
افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کے لیے قبائلی عمائدین پر مشتمل وفد بھیجنے کی تجویز دیتے ہوئے اس ویڈیو کلپ میں وہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ ’بات چیت کے ذریعے سرحد پار سے ہونے والے حملوں کی روک تھام اور سابق قبائلی اضلاع میں امن و استحکام کی بحالی کے امکانات تلاش کیے جا سکتے ہیں۔‘
ویڈیو میں خان مرجان کو پشتو زبان میں انٹرویو دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصدیق تو نہیں ہو سکی کہ یہ انٹرویو کب اور کس ادارے کو دیا گیا تھا تاہم ان کے اس انٹرویو پر خیبرپختونحوا کے ترجمانوں کا رد عمل ضرور سامنے آیا ہے۔
خان مرجان کے اس ویڈیو انٹرویو کو سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر کیا گیا ہے، جبکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات سے متعلق ان کے بیان پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔
یہ کلپ وائرل ہونے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت کی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے اسے خان مرجان کا ذاتی مؤقف قرار دیا ہے۔
ثمر ہارون بلور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’کسی رکن کے ذاتی خیالات کی عکاسی کرنے والے بیان کو اس انداز میں بڑھا چڑھا کر پیش کرنا مناسب نہیں۔ گورنر، ان کی مشاورتی کونسل اور اے آر ڈی سی کی حکمت عملی بالکل واضح ہے۔ ہماری پالیسی مشترکہ، متفقہ اور غیر مبہم ہے۔‘
ملک خان مرجان کے طالبان سے مذاکرات سے متعلق بیان کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذاکرات ہی واحد یا مؤثر راستہ ہیں، اور دہشت گردی سے متاثرہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے ریاستی بیانیے کو فروغ دینا اور واضح پالیسی اپنانا کس حد تک اہم ہے؟
ملک خان مرجان نے مذاکرات پر مزید کیا کہا
خیبر پختونخوا سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے مطالبات کی آوازیں ماضی میں بھی سامنے آتی رہی ہیں، تاہم ملک خان مرجان سے منسوب یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت نے رواں ماہ 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرتے ہوئے دہشت گردی سے متاثرہ 12 اضلاع کے انتظامی امور کے لیے ایک الگ انتظامی ڈھانچہ قائم کیا ہے۔
ان اضلاع کے لیے قائم ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی) کے نائب چیئرمین ملک خان مرجان کا تعلق شمالی وزیرستان سے ہے۔
ملک خان مرجان نے پشتو زبان میں دیِے سوشل میڈیا پر موجود اپنے انٹرویو میں مزید کہا کہ ’ پاکستان سے 15 سے 20 قبائلی عمائدین پر مشتمل گروہ کو افغانستان جا کر ہفتہ یا ڈیڑھ ہفتہ وہاں گزارنا چاہیے اور وہاں کی حکومت سے بارڈر کے معاملات اور دونوں ملکوں کے درمیان موجود حالیہ مسائل پر بات کرنا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہماری کوشش ہوگی کہ امارت اسلامیہ ہمارے ساتھ مل کر ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر گروپ کے پاس جائے اور مذاکرات کی بات کرے، تاکہ انھیں معلوم ہو کہ اس وفد یا جرگے کو پاکستان نے بھیجا ہے اور ان کے پاس بات چیت کے اختیارات ہیں۔ میرے خیال میں اس طرح جنگ ختم ہو سکتی ہے۔‘
ملک خان مرجان نہ کہا کہ ’وہ محبت کی زبان سمجھتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ امن مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ہم پہلے بھی وہاں گئے تھے اور وہاں جرگہ کیا تھا اور 90 دن تک امن برقرار تھا اور جرگے کی خلاف ورزی نہیں ہوئی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بے شک اس میں کونسل کے ممبران نہ ہوں بلکہ یہ موقع قبائلی عمائدین کو ملنا چاہیے اور وہ وہاں جا کر یہ جرگہ کریں۔‘
بی بی سی نے انٹرویو سے متعلق موقف جاننے کے لیے ملک خان مرجان سے رابطہ کیا تو انھوں نے ’مصروفیات‘ کے باعث تفصیل سے بات کرنے سے معذرت چاہی اور فقط اتنا کہا کہ وہ اس معاملے پر ’وقت ملتے ہی رابطہ کر کے تفصیل سے آگاہ کریں گے۔‘
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد13 برس سے قائم پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت عملاً غیر فعال ہو گئیانھوں نے زور دیا کہ ’ امن و امان کے حوالے سے جو حالات چل رہے ہیں اس کا واحد حل مذاکرات ہیں اس کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے۔ جب تک ہم مذاکراتی عمل جاری نہیں رکھیں گے، یہ جنگ اسی طرح جاری رہے گی۔‘
یاد رہے کہ خیبرپختونخوا میں لگ بھگ دو ہفتے قبل لگنے والے گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے عمل کا دفاع کرتے ہوئے حکومت نے موقف اپنایا تھا کہ ’صوبائی حکومت دانستاً دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لینے اور وفاقی حکومت کا ساتھ دینے سے گریزاں تھی' جس کے باعث یہ قدم اٹھانا پڑا۔‘
اسی حوالے سے پی ٹی آئی نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کا اصل مقصد صوبے میں اس کی حکومت کا خاتمہ تھا۔
پارلیمان کے حالیہ اجلاسوں میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ’وفاقی حکومت نے دہشت گردی کو محض ایک جواز کے طور پر استعمال کیا ہے۔‘
’ایسا لگتا ہے ریاست تذبذب کا شکار ہے‘

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کے تسلسل پر گہری نظر رکھنے والے صحافی اور تجزیہ کار علی اکبر نے خان مرجان کے بیان پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج تو لگا دیا گیا تاہم یوں لگتا ہے کہ ریاست تاحال تذبذب کا شکار ہے۔
علی اکبر کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں خان مرجان کا بیان ریاست کی پالیسی کے لیے ایک دھچکا ہے۔ ان کے مطابق ’خاص طور پر جب نامزد 12 زدہ اضلاع کے لیے جس میں شامل افراد نہ ہی دہشت گردی کی مذمت کریں گے نہ ریاست کے بیانیہ کو من وعن اپنائیں گے تو اس کونسل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ ‘
وہ کہتے ہیں کہ ’حکومت کے مطابق خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی کی حکومت اور ان کی کابینہ یا مجموعی طور پر پی ٹی آئی سہولت کاری میں ملوث رہی کیونکہ جب وہ مذاکرات کی بات کرتے تو یا جرگہ کی بات کرتے تو کہا جاتا کہ وہ دہشت گردوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’تو ایسے میں جب آپ نے ضم ہونے والے اضلاع کے لیے ’ انتظام‘ کیا تو اس میں دیکھیں تو اس میں آدھے سے زیادہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سمیت وہی لوگ ہیں جو جون 2022 میں جرگہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے لیے افغانستان گیا تھا تو کونسل کے اکثریتی ارکان اس جرگہ میں پیش پیش تھے۔ ‘
علی اکبر کے مطابق ’ابھی اس انتظام کو قائم ہوئے چند ہی دن ہوئے ہیں، لیکن لوگ توقع کر رہے تھے کہ فاٹا اور سیٹل اضلاع کے انتظامی امور گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد صورتِ حال میں واضح تبدیلی آئے گی۔ پالیسی بھی یہی بتائی گئی تھی کہ انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائیوں پر اکتفا کیا جائے گا اور بڑے پیمانے کے آپریشن نہیں کیے جائیں گے۔‘
’تاہم اس نوعیت کی کارروائیاں تو سہیل آفریدی کے دور میں بھی معمول کا حصہ تھیں۔ اب اگر وہی بات دہرائی جا رہی ہے تو فی الحال یہ سمجھنا مشکل ہے کہ حکام دراصل کیا کرنا چاہتے ہیں اور ان کی پالیسی کیا ہے۔‘
ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد توقعات پر بات کرتے ہوئے وہ مزید کہتے ہیں کہ ’میری نظر میں آپ نے یہ سب اس لیے کیا کہ ہم دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں بلکہ ان کے خلاف موثر بیانیہ بنائیں اور میری نظر میں وہ تب ہوتا کہ کونسل میں شامل لوگ ان کو ’فتنہ الخوارج‘ بھی کہیں گے اور ایسا بیانیہ بھی بنائیں گے جو ریاست کا بیانیہ مضبوط کریں اور ریاست کا بیانیہ ابھی تک وہی ہے کہ ہم ان سے بات یا مذاکرات نہیں کریں گے کیونکہ وہ ’فتنہ الخوارج‘ ہیں۔
یاد رہے کہ 2024 سے تاحال ریاستی سطح پر کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے 'فتنہ الخوارج' جیسے الفاظ کا استعمال کیا گیا تھا۔
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دو سال قبل پریس کانفرنس میں باقاعدہ واضح اعلان کیا تھا کہ ’حکومت نے حال ہی میں ایک اہم مراسلے کے ذریعے ٹی ٹی پی کو 'فتنہ الخوارج' کے نام سے نوٹیفائی کیا ہے جس کے بعد اس دہشتگرد تنظیم کو اسی نام سے لکھا اور پکارا جائے گا کیونکہ 'یہ ایک فتنہ ہے اور اس کا دین اسلام اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
’خان مرجان کے پاس یہ مینڈیٹ نہیں‘
فائل فوٹو ملک خان مرجان سے ان کے بیان پر مؤقف اور اس کا پس منظر جاننے کے لیے بی بی سی نے رابطہ کیا، تاہم انھوں نے ’مصروفیت‘ کے باعث فوری طور پر اس پر تبصرہ کرنے سے معذرت کی۔ لہذا وہ جب وضاحت دیں گے تو ان کا بیان اس حصے میں شامل کر دیا جائے گا۔
اس پر مؤقف لینے کے لیے بی بی سی اردو نے خیبرپختون خوا کے مشیر اطلاعات برائے ایریا ڈویلمپمنٹ سیکریٹریٹ محمود جان بابر سے سوال کیا کہ ملک خان مرجان کے طالبان سے مذاکرات سے متعلق بیان نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے مذاکرات مؤثر راستہ ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ اس سے قبل سہیل آفریدی بھی طالبان کے ساتھ بات چیت کی حمایت کر چکے ہیں تو فرق کیا ہے؟
اس کے جواب میں محمود جان بابر نے کہا کہ ’سہیل آفریدی ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ تھے اور اگر وہ مذاکرات کے لیے افغانستان جاتے تو وہ ایک اہم پوزیشن کے تحت جاتے، وہ ایک آفیشل کے طور پر فیڈریشن کے ایک یونٹ کے سربراہ کے طور پر جاتے تو اگر وہ وہاں اپنی امن کے لیے ڈیمانڈ لے کر جاتے تو ان کی بھی باتیں ماننی لازمی ہوتی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اگر وہاں پانچ باتیں سہیل آفریدی کی مانی جاتیں تو کم از کم دو باتیں تو ٹی ٹی پی کی بھی مانی جاتیں۔ تو وہ دوسری قسم کے مذاکرات ہوتے یعنی اگر سہیل آفریدی جاتے تو وہ مذاکرات میں کسی مرحلے پر ریاست بھی شامل ہوتی کیونکہ اس کا ایک یونٹ شامل ہوتا ان مزاکرات میں۔‘
’جبکہ خان مرجان ایک ایسی کونسل کے ممبر ہیں جو اپنے علاقے کے ترقیاتی کاموں کے نمائندہ ہیں، ان کے پاس یہ آپشن نہیں کہ وہ کسی کو کہیں کہ آپ مزید یہ کارروائیاں بند کریں تو بدلے میں ہم آپ کو یہ دیں گے ان کے پاس یہ مینڈیٹ بھی نہیں۔‘
’خان مرجان کی بات کو غلط انداز میں پیش کیا گیا‘
محمود جان بابر کے مطابق ’جب وزیر اعظم کے ساتھ اجلاس ہوا تو ذیلی کونسل کے افراد کو بتا دیا گیا تھا کہ آپ کو ترقیاتی کاموں کے علاوہ بھی ایک کام سونپا گیا تھا کہ یہاں جتنے بھی طالبان وغیرہ کہیں موجود ہیں تو ان کو اپنے علاقوں سے نکالیں۔ ان کے پاس جائیں اور نکلنے کو کہیں۔‘
محمود جان کے مطابق کونسل اراکین کو واضح کیا گیا تھا کہ ’آپ نے طالبان سے لڑنا نہیں کیونکہ لڑنے کا کام سکیورٹی فورسز اور امن و امان کے لیے قائم ایجنسی کا کام ہے۔ تاہمان کو واضح کریں کہ آپ اس علاقے سے چلے جائیں کیونکہ آپ ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔‘
’اگر آپ نے سرینڈر کرنا ہے تو ہم آپ کے لیے کوئی آسانی ڈھونڈدیں گے لیکن اگر آپ نے طالبانائزیشن نہیں چھوڑنی تو پھر آپ یہاں سے چلے جائیں کیونکہ آپ کے پاس تیسرا آپشن اور کوئی نہیں ہے۔‘
ان کے مطابق ’خان مرجان کی بات کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے اور انھوں نے اس کی وضاحت بھی کر دی ہے کہ ان کا مطلب یہ نہیں تھا۔‘