سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ریاست اوہائیو میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی پالیسیوں کو نااہلی قرار دیا۔ انہوں نے ٹرمپ کے اس بیانیے کو مسترد کر دیا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود تھے اور اسی کو جنگ کی اصل وجہ بتایا گیا۔
اوباما کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہیں تھے اور ٹرمپ نے ایک ایسی غیر ضروری جنگ شروع کی جس کا کسی نے مطالبہ نہیں کیا تھا، جبکہ یہ فیصلے بالکل غلط تھے۔ انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ ایران پر فتح کے اعلان کے 7 ماہ بعد امریکی فوجی اڈوں اور اتحادیوں پر حملے ہوئے، جس میں امریکی ہلاک و زخمی ہوئے اور ملک کے میزائلوں کے ذخائر ختم ہو کر رہ گئے۔
سابق صدر نے کہا کہ اس جنگ کی وجہ سے اب ایران کو آبنائے ہرمز پر ویٹو پاور حاصل ہو چکی ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے اور یہی جنگ موجودہ وقت میں اشیائے خور و نوش اور دیگر سامان کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔