پاکستانی خواتین بلیوں سے بھی زیادہ آسانی سے دستیاب ہیں، ساحل عدیم کے متنازع بیان پر نئی بحث چھڑ گئی

image

’’پاکستانی خواتین تک رسائی حاصل کرنا آوارہ بلیوں سے بھی زیادہ آسان ہوگیا ہے۔ بدترین قسم کے مرد بھی آسانی سے ان کی زندگی میں جگہ بنا لیتے ہیں اور خواتین اسے قبول کرلیتی ہیں۔ کسی مرد کے لیے کسی عورت کی پسند حاصل کرنا ایک مشکل کام ہونا چاہیے، لیکن اب ایسا نہیں رہا۔‘‘

معروف مذہبی اسکالر اور سوشل میڈیا شخصیت ساحل عدیم ایک بار پھر اپنے متنازع بیان کے باعث خبروں میں آگئے ہیں۔ اس مرتبہ انہوں نے پاکستانی خواتین کی خود اعتمادی اور مردوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ایسی بات کہی ہے جس پر سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ کے دوران ساحل عدیم نے پاکستانی لڑکیوں میں خود اعتمادی کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے ان کا موازنہ بلیوں سے کردیا۔ ان کے مطابق بعض خواتین اپنی قدر اور اہمیت کو نہیں پہچانتیں، جس کے باعث ایسے مرد بھی ان کی زندگی میں جگہ بنا لیتے ہیں جو ان کے لیے مناسب نہیں ہوتے۔

ساحل عدیم کا کہنا تھا کہ کسی خاتون کی پسند اور اعتماد حاصل کرنے کے لیے مرد کو اپنی شخصیت اور کردار سے خود کو ثابت کرنا چاہیے، لیکن ان کے خیال میں موجودہ معاشرے میں ایسا کم دیکھنے کو ملتا ہے۔

ان کے اس بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین کی مختلف آرا سامنے آرہی ہیں۔ کچھ لوگوں نے ان کی بات کو خواتین میں خود اعتمادی کی اہمیت سے جوڑا، جبکہ دیگر کے نزدیک اس طرح کا موازنہ خواتین کے لیے نامناسب اور توہین آمیز ہے۔

پاکستانی اداکارہ کومل عزیز نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو اپنی خود اعتمادی بہتر بنانے پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے اس مسئلے کی وجہ لڑکیوں کی کم عمری سے شادی کو غیر معمولی اہمیت دینے کی معاشرتی سوچ کو قرار دیا، جبکہ بعض صارفین نے ساحل عدیم کے مؤقف کی حمایت بھی کی۔

دوسری جانب یہ بحث بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں بہت سی خواتین کو تعلیم، روزگار اور اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں پہلے ہی مختلف سماجی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں ان کی شخصیت اور تعلقات کے بارے میں عمومی تبصرے کرنا کس حد تک مناسب ہے؟

ساحل عدیم کے بیان نے ایک بار پھر خواتین کی عزتِ نفس، معاشرتی توقعات اور تعلقات میں باہمی احترام جیسے اہم موضوعات کو بحث کا حصہ بنا دیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US