"آپ سب کو وسیم عباس یاد ہے نا؟ وہ بچہ جسے بے دردی سے کچل دیا گیا تھا، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ حقیقت میں یتیم نہیں تھا، اس کی ماں زندہ تھی۔ ہمارے معاشرے میں جب کوئی عورت طلاق کے بعد دوسری شادی کرنا چاہتی ہے تو اکثر نئے شوہر اور اس کے گھر والوں کی شرط ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچے ساتھ نہیں لاسکتی۔ آخر پاکستان میں کیسے مرد پیدا ہو رہے ہیں؟ بچے کی ذمہ داری صرف ماں کی نہیں، باپ، نانا، ماموں اور چچا کی بھی ہے۔ جب والدین اور رشتے دار زندہ ہیں تو یہ معصوم بچے یتیم خانوں میں کیوں پل رہے ہیں؟ ایسے بچوں کے ساتھ زیادتی، تشدد اور قتل جیسے واقعات بھی پیش آسکتے ہیں۔ پاکستانی خاندانوں! خدا کا خوف کرو، یہ معصوم بچے ہیں، انہیں بے سہارا مت چھوڑو۔"
پاکستان کی معروف فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے دوسری شادی کی خاطر بچوں کو یتیم خانوں میں چھوڑنے والے والدین اور ذمہ داری سے منہ موڑنے والے رشتے داروں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں کئی بچوں نے بتایا کہ والدین کی علیحدگی کے بعد ان کی ماؤں نے دوسری شادی کرلی اور انہیں یتیم خانے میں چھوڑ دیا، جبکہ بعد میں والد یا والدہ میں سے کسی نے بھی ان کی خبر نہیں لی۔
ماریہ بی نے کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ طلاق یافتہ خواتین، خصوصاً اکیلی ماؤں کے لیے زندگی گزارنا اور بچوں کے اخراجات اٹھانا آسان نہیں، لیکن ایسے شخص سے شادی کرنے کا کیا فائدہ جو ان کے بچوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو؟ انہوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ اللہ پر بھروسہ رکھیں، ہنر سیکھیں اور محنت کرکے اپنے پیروں پر کھڑی ہوں، کیونکہ یہی بچے بڑھاپے میں ان کا سہارا بن سکتے ہیں۔
فیشن ڈیزائنر نے بچوں کی کفالت سے فرار اختیار کرنے والے مردوں اور ان کے خاندانوں کو بھی ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ معاشرے کو سوچنا ہوگا کہ زندہ والدین کے ہوتے ہوئے بچے بے سہارا کیوں ہو رہے ہیں۔
ماریہ بی کی ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے ان کے مؤقف کی حمایت کی اور بچوں کو نظرانداز کرنے والے والدین کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا۔ بعض طلاق یافتہ خواتین نے اپنے تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بچوں کی خاطر دوسری شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔