سیف علی خان کا 800 کروڑ کا محل، جس کی بنیاد میں چھپی ہے محبت کی کہانی

image

بالی ووڈ اداکار سیف علی خان کا پٹودی محل اپنی شان و شوکت، تاریخی اہمیت اور شاہی روایات کے باعث خاص شہرت رکھتا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس محل کی مالیت تقریباً 800 کروڑ بھارتی روپے بتائی جاتی ہے تاہم اس کی اصل پہچان اس سے وابستہ خاندانی تاریخ اور محبت کی داستان ہے۔

ہریانہ کے علاقے پٹودی میں واقع اس تاریخی عمارت کو ’ابراہیم کوٹھی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ محل کی تعمیر سیف علی خان کے دادا، نواب محمد افتخار علی خان پٹودی نے کروائی تھی جو ایک معروف کرکٹر بھی تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ بھوپال کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی بیگم ساجدہ سلطان سے شادی طے ہونے کے بعد انہوں نے اپنی ہونے والی اہلیہ کے شاہی پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نئی اور شاندار رہائش گاہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔

محل کا نقشہ برطانوی ماہرِ تعمیرات رابرٹ ٹور رسل نے تیار کیا، جبکہ کارل مالٹے وان ہائنز نے بھی اس منصوبے میں حصہ لیا۔ اس عمارت میں یورپی طرزِ تعمیر کے ساتھ مقامی روایات کی جھلک بھی نمایاں ہے۔

تقریباً 10 ایکڑ پر پھیلے اس محل میں لگ بھگ 150 کمرے ہیں جن میں سات بیڈ رومز، سات ڈریسنگ رومز، کھیلوں کے لیے مخصوص کمرے اور ایک وسیع ڈائننگ ہال شامل ہیں۔ سرسبز باغات، کشادہ لان، سوئمنگ پول، بلند چھتیں اور دیدہ زیب فانوس اس کی شاہانہ خوبصورتی کو مزید بڑھاتے ہیں۔ یہ محل گروگرام سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

سیف علی خان کے والد اور سابق بھارتی کرکٹ کپتان منصور علی خان پٹودی کی وفات کے بعد یہ محل نیم رانا ہوٹلز گروپ کو لیز پر دے دیا گیا تھا۔ بعد ازاں سیف علی خان نے 2014 میں لیز ختم کروا کر اس تاریخی جائیداد کا انتظام دوبارہ اپنے خاندان کے حوالے کر دیا۔

اداکار کے مطابق، فلموں سے حاصل ہونے والی آمدنی نے انہیں اپنا خاندانی گھر واپس حاصل کرنے میں مدد دی۔ اس طرح یہ محل ایک مرتبہ پھر پٹودی خاندان کے زیرِ انتظام آگیا۔

پٹودی محل صرف شاہی رہائش گاہ ہی نہیں بلکہ بھارتی فلم انڈسٹری کے لیے بھی ایک اہم مقام ہے۔ یہاں ویر زارا، رنگ دے بسنتی، منگل پانڈے، میرے برادر کی دلہن جیسی فلموں اور ویب سیریز تانڈو کی شوٹنگ بھی کی جا چکی ہے۔

آج یہ محل اپنی تاریخی وراثت، منفرد تعمیراتی انداز اور فلمی دنیا سے تعلق کے باعث توجہ کا مرکز ہے۔ اس کی داستان میں شاہی روایات کے ساتھ ایک خاندان کی تاریخ اور اپنے ورثے کو دوبارہ حاصل کرنے کی کہانی بھی شامل ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US