میری ماں نے ہماری خاطر اپنے سر کے بال اور بھنویں تک منڈوا دی تھیں، گووندا

image

ہماری زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب گھر کے حالات بہت خراب ہوگئے تھے اور شدید غربت کا سامنا کرنا پڑا۔ میری والدہ جب روزگار کی تلاش میں گھر سے نکلنے لگیں تو میرے والد نے انہیں خبردار کیا کہ ان کی خوبصورتی کی وجہ سے انہیں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ اس کے بعد میری ماں نے اپنے سر کے بال ہی نہیں بلکہ بھنویں تک منڈوا دیں اور درویشوں جیسا لباس پہن کر کام کی تلاش میں نکلنے لگیں۔ جس ماں نے اپنے بچوں اور خاندان کے لیے اتنی بڑی قربانیاں دی ہوں اس کا بیٹا آج لوگوں کی باتوں اور تنقید سے کیسے متاثر ہوسکتا ہے؟‘

بالی ووڈ کے معروف اداکار گووندا نے اپنی زندگی کے مشکل ترین دنوں کو یاد کرتے ہوئے والدہ نرملا دیوی کی ایسی قربانی کا ذکر کیا ہے جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے تھے۔

اپنی مزاحیہ اداکاری، رقص اور کامیاب فلموں سے لاکھوں دل جیتنے والے گووندا کی زندگی ہمیشہ آسائشوں سے بھرپور نہیں رہی۔ اداکار نے بتایا کہ شہرت اور کامیابی حاصل کرنے سے پہلے ان کے خاندان کو شدید مالی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا یہاں تک کہ گھر کے اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہوگیا تھا۔

ان حالات میں ان کی والدہ جو خود ایک باصلاحیت کلاسیکی گلوکارہ اور اداکارہ تھیں نے خاندان کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے کام تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم شوہر کی جانب سے ممکنہ خطرات کے بارے میں خبردار کیے جانے کے بعد انہوں نے اپنی ظاہری شخصیت ہی بدل ڈالی تاکہ غیر ضروری توجہ سے محفوظ رہ سکیں۔

گووندا کے مطابق والدہ کی جدوجہد اور قربانیوں نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر چھوڑا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب لوگ ان کی ذاتی زندگی یا پیشہ ورانہ معاملات پر تنقید کرتے ہیں تو وہ ان باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے کیونکہ انہوں نے اپنے گھر میں اس سے کہیں زیادہ سخت حالات دیکھے ہیں۔

واضح رہے کہ گووندا کی والدہ نرملا دیوی بھارتی فلمی دنیا اور کلاسیکی موسیقی سے وابستہ معروف شخصیت تھیں۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کئی مشکلات کا سامنا کیا اور 1996 میں انتقال کرگئیں۔

گووندا کے اس انکشاف نے ان کی کامیابی کے پیچھے موجود خاندانی جدوجہد اور ایک ماں کی قربانیوں کا ایک ایسا پہلو سامنے لایا ہے جو ان کی فلمی شہرت سے بالکل مختلف ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US