شہزاد بیمار نہیں تھے مجھے بس محسوس ہوا کہ ان کے جسم میں آکسیجن کی کمی ہے۔ جب ہم اسپتال پہنچے تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ انہیں ڈائیلاسز اور وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ یہ سب سن کر وہ گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ میں یہ سب نہیں کروانا چاہتا۔ ڈاکٹروں کی بات سننے کے صرف چار گھنٹے کے اندر ان کا دل کام کرنا چھوڑ گیا۔ میں انہیں بالکل ٹھیک حالت میں اسپتال لے کر گئی تھی، لیکن سب کچھ میری آنکھوں کے سامنے ختم ہوگیا۔
میرے بچوں کو لگتا تھا کہ میں ان کے بابا کو اسپتال لے کر گئی، اس لیے وہ واپس نہیں آئے۔ میری چھوٹی بیٹی حورین کو تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ مرنے والے کبھی واپس نہیں آتے۔ جب شہزاد کا آخری دیدار کروایا جا رہا تھا تو وہ رونے لگی اور کہنے لگی کہ میں دیکھوں گی میرے بابا کب واپس آئیں گے۔ وہ پوچھتی تھی کہ بابا کو قبر میں کتنے دن رہنا ہوگا؟ ذرا سوچیں، آپ کے بچے اپنے باپ کو آوازیں دے رہے ہوں، وائس میسج بھیج رہے ہوں، لیکن دوسری طرف سے مکمل خاموشی ہو۔
یہ دل دہلا دینے والے الفاظ معروف پاکستانی ٹی وی میزبان عبیل جاوید کے ہیں، جو حال ہی میں ندا یاسر کے پروگرام میں اپنے مرحوم شوہر کو یاد کرتے ہوئے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔
عبیل جاوید ماضی میں معروف شیف زبیدہ آپا کے ساتھ میزبانی کے فرائض انجام دیتی تھیں۔ مارچ 2014 میں شادی کے بعد انہوں نے شوبز سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ وہ دو بیٹیوں کی ماں ہیں، جبکہ مئی 2026 میں ان کے شوہر شہزاد دل کا دورہ پڑنے کے بجائے دل کی کارکردگی بند ہونے کے باعث انتقال کرگئے تھے۔
پروگرام کے دوران عبیل نے بتایا کہ شوہر کی اچانک موت کے بعد نہ صرف ان کی زندگی بدل گئی بلکہ کم عمر بیٹیوں کے لیے باپ کی جدائی کو سمجھنا بھی انتہائی تکلیف دہ تھا۔ اکیلے بچوں کی پرورش کا خیال انہیں خوفزدہ کرتا تھا، کیونکہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ زندگی میں ایسا وقت آئے گا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین نے ندا یاسر کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔بعض صارفین کا کہنا تھا کہ ایک ایسی خاتون کو پروگرام میں بلا کر ان کے شوہر کی موت اور بچوں کے صدمے سے متعلق سوالات کرنا مناسب نہیں تھا جو پہلے ہی ایک بڑے سانحے سے گزر رہی ہیں۔ صارفین نے اعتراض کیا کہ پہلے کسی کے دکھ کو ٹی وی پر موضوع بنایا جاتا ہے اور پھر اس کے رونے پر تسلی دی جاتی ہے۔