پاکستان کرکٹ کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مالی سال 27-2026 کے لیے ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں کی فہرست کو نئے سینٹرل کانٹریکٹس دینے کا مشورہ دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مائیک ہیسن کی جانب سے تینوں فارمیٹس میں شامل کیے گئے نئے کھلاڑیوں کی فہرست میں سے متعدد ناموں کو یا تو پہلی بار مرکزی معاہدے ملنے کا امکان ہے یا پھر بہتر معاوضے والی کیٹیگریز میں ترقی دی جائے گی۔
نوجوان کھلاڑیوں میں عرفات منہاس، سعد بیگ، حسن نواز، عاکف جاوید، علی رضا، احسن دانیال، سفیان مقیم، معاذ صداقت، رضا اللہ، اذان اویس، عمران رندھاوا، عبداللہ فضل اور غازی غوری شامل ہیں، جنہیں نئے مرکزی معاہدے حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔
ان نوجوان کھلاڑیوں کے علاوہ، بورڈ ابھی اس بات کا فیصلہ کر رہا ہے کہ کن سینئر اور تجربہ کار کھلاڑیوں کو مرکزی معاہدوں میں برقرار رکھا جائے۔
ذرائع نے بتایا، "اس بات کی توقع ہے کہ اس سال چند تجربہ کار سینئرز کو مرکزی معاہدوں کی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔"
ان کا کہنا تھا کہ مائیک ہیسن تمام فارمیٹس کے لیے قومی ٹیمیں تشکیل دینے اور کھلاڑیوں کا جائزہ لینے کے دوران فٹنس پر عملدرآمد، کوچز کے منصوبوں پر تندہی سے عمل کرنے کی صلاحیت، انفرادی سطح پر اپنی مہارتوں کو بہتر بنانے کی خواہش اور ڈریسنگ روم میں رویے پر شدید زور دے رہے ہیں۔
ذرائع نے مزید کہا، "ہیسن اس بات کے خواہاں ہیں کہ جن نوجوانوں نے بہترین صلاحیت اور ڈریسنگ روم و ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہونے کا مظاہرہ کیا ہے، انہیں اچھے مرکزی معاہدوں کے ذریعے انعام اور حوصلہ افزائی دی جائے۔"
تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی قیادت کرنے والے بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، صاحبزادہ فرحان، نیز سلمان علی آغا، سعود شکیل، حارث رؤف، نسیم شاہ، فخر زمان اور صائم ایوب کو بھی معاہدوں میں برقرار رکھے جانے کا امکان ہے، تاہم ان میں سے کچھ کھلاڑیوں کو صرف ریڈ بال یا وائٹ بال فارمیٹس تک محدود کیا جا سکتا ہے۔
پی سی بی نے اگست کے اوائل سے نئے مرکزی معاہدوں کے اعلان میں تاخیر کی ہے کیونکہ پرانے معاہدے 31 جولائی کو ختم ہو چکے تھے۔تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ تاخیر کا مقصد پہلے جاری بین الاقوامی اور ملکی میچز میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینا اور پھر یہ فیصلہ کرنا تھا کہ کون سے کھلاڑی معاہدوں کے مستحق ہیں۔انہوں نے بتایا کہ محمد رضوان اور امام الحق کو کچھ دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ مرکزی معاہدے نہیں دیے جائیں گے۔