کسانوں، کاروباری افراد اور ہاؤسنگ قرضوں میں تاخیر، وزیراعظم بینکوں پر برہم

image

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ زراعت، ہاؤسنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی میں سست روی کا مظاہرہ کرنے والے بینکوں کے ساتھ اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کسی قسم کی رعایت نہ برتیں۔ حکومت کی اولین ترجیح ترجیحی شعبوں کی ترقی، معیشت کی بہتری اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولت سے متعلق جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نجی شعبے کی ترقی میں بینکوں کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے، حکومت اور سرکاری ادارے جس طرح بینکوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اسی طرح بینکوں سے بھی ترجیحی شعبوں کے لیے قرضوں کی فراہمی میں بھرپور تعاون کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت کی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ حکومت زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدات بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔ وزیراعظم اپنا گھر اسکیم سے ہاؤسنگ اور تعمیرات کے شعبے سمیت متعدد متعلقہ صنعتوں کو فروغ ملے گا۔

وزیراعظم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بینکوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کسانوں، ایس ایم ایز اور وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے تحت قرضوں کی فراہمی میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے بینک قابل تحسین ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ 23 اکتوبر 2026 تک وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت 511 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ 86 ہزار 899 قرضوں کی منظوری کے علاوہ 15 ہزار 584 درخواست گزاروں کو 91 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔ ہاؤسنگ فنانس کے شعبے میں قرضوں کا مجموعی حجم 455 ارب روپے جبکہ مستفید ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 87 ہزار 317 ہو گئی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں قرضوں کا حجم ایک ہزار 329 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اور تقریباً 35 لاکھ افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ اسی طرح ایس ایم ایز کے شعبے میں قرضوں کا حجم ایک ہزار 148 ارب روپے جبکہ قرض حاصل کرنے والے کاروباری افراد کی تعداد 3 لاکھ 42 ہزار 458 ہو گئی ہے۔ مالی سال 2027 کے اختتام تک زراعت اور ایس ایم ایز کے شعبوں میں قرضوں کا حجم 1,500 ارب روپے تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے کے لیے ضوابط میں بہتری، حکومت اور بینکوں کے درمیان رسک اور اخراجات میں شراکت داری اور ڈیجیٹل سہولیات کے فروغ سمیت تین بنیادی ستونوں پر کام کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایس ایم ایز کے لیے ایس ایم ای کنیکٹ ڈیجیٹل پورٹل بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے کاروباری افراد قرضوں کے لیے درخواستیں جمع کرانے اور ان کی پیش رفت معلوم کرنے کے قابل ہوں گے۔

وزیراعظم نے وزیر خزانہ کو ایس ایم ایز، زراعت اور ہاؤسنگ کے شعبوں سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کے مالیاتی مسائل حل کرنے اور جامع لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کو بھی باہمی تعاون سے چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں اور برآمد کنندگان کے ٹیکس مسائل حل کرنے جبکہ ایس ایم ایز کو آسان قرضوں کی فراہمی کے لیے رسک کوریج کی جامع حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US