مصر میں اتنے لوگ تھے تو بھارتی لڑکی سے شادی کیوں کی؟ امریکی سیاستدان عبدالرحمان السید کا دلچسپ جواب وائرل

image

امریکی سیاستدان عبدالرحمان محمد السید کی اپنی بھارتی نژاد اہلیہ سے شادی کے حوالے سے ایک پرانی گفتگو سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

مصری خاندان سے تعلق رکھنے والے السید نے ایک پوڈکاسٹ میں اپنی ازدواجی زندگی کا دلچسپ واقعہ سنایا تھا، جس میں انہوں نے بتایا کہ ان کی شادی پر مصر سے آنے والے ایک قریبی رشتے دار نے ایسا سوال کیا جس کا جواب انہوں نے نہایت حاضر دماغی سے دیا۔

عبدالرحمان السید کے مطابق جب انہوں نے بھارتی نژاد امریکی ڈاکٹر سارہ جوکاکو سے شادی کی تو ان کے چچا اس فیصلے پر خاصے حیران ہوئے۔ انہوں نے بھتیجے سے پوچھا کہ مصر میں تقریباً آٹھ کروڑ لوگ موجود ہیں، پھر شادی کے لیے انہیں ایک بھارتی خاتون ہی کیوں پسند آئیں؟ اس سوال پر السید نے سنجیدہ ہونے کے بجائے ہلکے پھلکے انداز میں جواب دیا کہ بھارت کی آبادی ایک ارب سے زیادہ ہے، اس لیے حساب کے اعتبار سے ان کی شادی کسی بھارتی خاتون سے ہونے کا امکان زیادہ تھا۔ ان کا یہ جواب سننے والوں کے لیے دلچسپی کا باعث بن گیا۔

یہ واقعہ انہوں نے ’میٹ دی ریئل عبدالسید‘ نامی پوڈکاسٹ میں بیان کیا تھا، جس کی ویڈیو رواں سال اگست میں یوٹیوب پر جاری ہوئی تھی۔ تاہم امریکی انتخابات کے بعد اس گفتگو کا ایک مختصر حصہ دوبارہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گردش کرنے لگا۔ ویڈیو میں السید کا اندازِ گفتگو اور دو مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے درمیان پیش آنے والا یہ واقعہ صارفین کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔

عبدالرحمان السید اور ڈاکٹر سارہ جوکاکو مئی 2006 میں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے اور ان کی دو بیٹیاں ہیں۔ سارہ کا تعلق ایک بھارتی نژاد امریکی خاندان سے ہے، جس کی جڑیں ریاست کرناٹک کے ساحلی شہر بھٹکل سے ملتی ہیں۔ السید اس سے قبل بھی اپنی اہلیہ کے خاندان اور جنوبی بھارتی روایات سے اپنے تعلق کا ذکر کر چکے ہیں۔ ایک موقع پر انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا تھا کہ شادی کے تقریباً بیس برس بعد انہیں کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ عرب سے زیادہ بھارتی ہو چکے ہیں۔

یہ پرانی گفتگو ایک ایسے وقت میں دوبارہ سامنے آئی ہے جب عبدالرحمان السید امریکی سیاست میں اپنی انتخابی کامیابی کے باعث خبروں میں ہیں۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق انہوں نے ریاست مشی گن میں ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کے خلاف کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کی سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ اب ان کی ذاتی زندگی اور مختلف ثقافتی پس منظر رکھنے والے خاندان کی کہانی بھی لوگوں کی دلچسپی کا موضوع بن رہی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US