جس عمر میں بیشتر افراد کے لیے روزمرہ کے کام انجام دینا بھی مشکل ہونے لگتا ہے، اسی عمر میں جاپان کے 90 سالہ باڈی بلڈر توشی سوکے کانازاوا نے ایک مرتبہ پھر اپنی جسمانی طاقت اور محنت کا ثبوت دے دیا۔ انہوں نے جاپان ماسٹرز باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ میں 85 سال سے زائد عمر کے مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے ایک اور اعزاز اپنے نام کرلیا۔
1936 میں جاپان کے صوبے شیمانے میں پیدا ہونے والے کانازاوا بچپن سے کھیلوں میں دلچسپی رکھتے تھے۔ ابتدا میں ان کی خواہش اولمپکس میں تیراک کی حیثیت سے حصہ لینے کی تھی اور وہ اسکول کے زمانے میں 1500 میٹر فری اسٹائل تیراکی میں مہارت رکھتے تھے۔ تاہم پٹھوں کی ایک تکلیف نے ان کا یہ خواب ادھورا چھوڑ دیا۔
تیراکی سے دور ہونے کے بعد انہوں نے باڈی بلڈنگ کا انتخاب کیا۔ اگرچہ ان کے والد چاہتے تھے کہ وہ ملازمت پر توجہ دیں، لیکن والدہ کی حوصلہ افزائی نے انہیں اپنے شوق کو جاری رکھنے کا موقع دیا۔ کانازاوا نے مسلسل پانچ سال سخت تربیت حاصل کی اور بعض اوقات روزانہ چھ گھنٹے تک ورزش کرتے رہے۔
ان کی محنت اس وقت رنگ لائی جب انہوں نے صرف 24 سال کی عمر میں مسٹر جاپان کا خطاب جیت لیا۔ تین سال بعد وہ دوبارہ اس اعزاز کے حقدار بنے۔ 1967 میں کینیڈا کے شہر مونٹریال میں منعقد ہونے والے مسٹر یونیورس مقابلے میں بھی شریک ہوئے اور چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ اس مقابلے میں آرنلڈ شوارزنیگر اور سرجیو اولیوا جیسے مشہور باڈی بلڈرز بھی موجود تھے۔
وقت گزرنے کے باوجود کانازاوا نے کھیل سے تعلق ختم نہیں کیا۔ انہوں نے بڑی عمر کے کھلاڑیوں کے مقابلوں میں حصہ لینا جاری رکھا اور 80 سال کی عمر کے بعد چھ مرتبہ ورلڈ ماسٹرز چیمپئن شپ جیتی۔ اب 90 سال کی عمر میں حاصل ہونے والی کامیابی ان کے طویل کیریئر کا ایک اور اہم سنگِ میل ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق کانازاوا اپنی فٹنس کے لیے باقاعدہ ورزش کے ساتھ سادہ خوراک کو بھی اہم سمجھتے ہیں۔ ان کی روزانہ کی غذا میں براؤن رائس، جاپانی روایتی خوراک نیٹو، مسو سوپ اور انڈے شامل ہیں۔ انہوں نے کئی دہائیاں پہلے گوشت اور مچھلی کھانا چھوڑ دیا تھا اور ان کے مطابق انہوں نے کبھی سگریٹ نوشی یا شراب نوشی نہیں کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کانازاوا نے بڑھتی عمر کے ساتھ اپنی ورزش کا طریقہ بھی بدل لیا ہے۔ جوانی میں بھاری وزن اٹھانے والے اس باڈی بلڈر نے اب بینچ پریس اور بھاری اسکواٹس جیسی ورزشیں چھوڑ دی ہیں۔ وہ زیادہ تر جم کی مشینوں، پل اپس اور ٹانگوں کو مضبوط بنانے والی ورزشوں کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ جسم پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔
انہوں نے اپنی خوراک میں بھی تبدیلی کی ہے۔ پہلے وہ روزانہ چھ پروٹین شیک استعمال کرتے تھے، لیکن اب ان کی تعداد کم کرکے تین کردی ہے۔ ان کے مطابق بڑھتی عمر میں جسم کی ضروریات اور برداشت پہلے جیسی نہیں رہتیں، اس لیے معمول میں تبدیلی ضروری ہوجاتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں کی طاقت اور مقدار میں کمی آنا ایک قدرتی عمل ہے، جسے سارکوپینیا کہا جاتا ہے۔ تاہم باقاعدہ جسمانی سرگرمی، مناسب غذا اور طاقت بڑھانے والی ہلکی ورزشیں اس کمی کے اثرات محدود کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت بھی 65 سال سے زائد عمر کے افراد کو اپنی صلاحیت کے مطابق ہفتے میں 150 سے 300 منٹ درمیانی شدت کی جسمانی سرگرمی کا مشورہ دیتا ہے۔ اس کے ساتھ پٹھوں کو مضبوط بنانے اور جسمانی توازن بہتر رکھنے والی ورزشیں بھی اہم سمجھی جاتی ہیں۔ البتہ زیادہ عمر یا کسی بیماری کی صورت میں سخت ورزش شروع کرنے سے پہلے طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔
کانازاوا کی زندگی کا سب سے اہم پہلو صرف چیمپئن شپ جیتنا نہیں بلکہ کئی دہائیوں تک خود کو متحرک رکھنا ہے۔ ان کی مثال بتاتی ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے صرف جوانی میں محنت کرنا کافی نہیں، بلکہ عمر کے ہر مرحلے میں اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق اچھی عادات برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔