بھارت کی سیر کے لیے آنے والے برطانوی میاں بیوی کو ایک آٹو رکشہ اتنا پسند آگیا کہ انہوں نے سفر ختم ہونے کے بعد اسے وہیں چھوڑنے کے بجائے اپنے ساتھ برطانیہ لے جانے کا فیصلہ کرلیا۔ جوڑے کا یہ دلچسپ سفر اور رکشے سے لگاؤ سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کررہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی شہری ہیلن اور مک نے بھارت میں 75 دن گزارے اور اس دوران سرخ اور سیاہ رنگ کے ایک آٹو رکشے پر 4 ہزار 218 کلومیٹر کا طویل سفر کیا۔ دونوں نے اسی رکشے میں آگرہ، تاج محل اور دیگر مشہور سیاحتی مقامات کی سیر کی۔
جوڑے نے اپنے رکشے کو پیار سے 'ٹمی دی ٹن کین'کا نام دیا اور اسے منفرد شکل دینے کے لیے سامنے کارٹون جیسی آنکھیں اور مسکراتا ہوا چہرہ بھی بنوایا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ رکشہ ان کے لیے صرف سفر کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ بھارت میں گزارے گئے یادگار دنوں کی ایک خاص نشانی بن گیا۔
جب بھارت سے واپسی کا وقت آیا تو ہیلن اور مک اپنے پسندیدہ رکشے کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ انہوں نے اسے برطانیہ منتقل کرنے کے لیے بحری جہاز کے ذریعے بھجوانے کا انتظام کیا۔
رکشے کو برطانیہ پہنچنے میں تقریباً 6 ماہ لگے اور بالآخر 23 اکتوبر کو یہ لندن کی بندرگاہ پہنچ گیا۔ یوں بھارت کی سڑکوں پر ہزاروں کلومیٹر چلنے والا رکشہ اب برطانوی جوڑے کے اپنے ملک پہنچ چکا ہے۔
ہیلن اور مک کا یہ سفر اس بات کی دلچسپ مثال ہے کہ بعض اوقات سیاحت کے دوران استعمال ہونے والی عام سی چیز بھی انسان کے لیے قیمتی یادگار بن جاتی ہے، جسے وہ برسوں اپنے پاس محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔