صحت مند رہنے کے لیے اکثر لوگ مہنگے پھلوں اور خاص غذاؤں کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان میں بلیو بیری بھی شامل ہے، جسے اینٹی آکسیڈنٹس کی وجہ سے بہت فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ جامنی رنگ کی شکر قندی میں بھی کچھ ایسے ہی قدرتی مرکبات موجود ہوتے ہیں جو بلیو بیری کو خاص بناتے ہیں؟
پاکستان میں عام سفید شکر قندی تو سردیوں میں خوب کھائی جاتی ہے، لیکن جامنی شکر قندی کے فوائد سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ اس کا گہرا جامنی رنگ صرف خوبصورتی کے لیے نہیں بلکہ اس کے اندر موجود خاص غذائی اجزا کی نشانی ہے۔
بلیو بیری کی سب سے نمایاں خوبی اس میں موجود اینتھوسیاننز نامی اینٹی آکسیڈنٹس ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جامنی شکر قندی میں بھی یہی قسم کے قدرتی مرکبات پائے جاتے ہیں۔ یہ مرکبات جسم کے خلیوں کو نقصان پہنچانے والے فری ریڈیکلز کے اثرات کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دان جامنی شکر قندی کے ممکنہ صحت بخش اثرات پر تحقیق کر رہے ہیں۔ تاہم دونوں غذاؤں میں ان مرکبات کی مقدار اور اقسام مختلف ہو سکتی ہیں۔ اس لیے جامنی شکر قندی کو بلیو بیری کا مکمل متبادل سمجھنا درست نہیں، لیکن یہ اینٹی آکسیڈنٹس حاصل کرنے کا ایک اچھا ذریعہ ضرور بن سکتی ہے۔
عام سفید شکر قندی بھی غذائیت سے بھرپور ہوتی ہے، لیکن جامنی شکر قندی میں اینتھوسیاننز کی مقدار عموماً کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ یہی قدرتی اجزا اسے گہرا جامنی رنگ دیتے ہیں اور اس کی اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کو نمایاں بناتے ہیں۔ سفید شکر قندی میں بھی فائدہ مند مرکبات ہوتے ہیں، مگر جامنی قسم ان مخصوص رنگ دار اینٹی آکسیڈنٹس کے حوالے سے منفرد ہے۔
جامنی شکر قندی میں موجود اینتھوسیاننز کے بارے میں ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جسم میں سوزش اور آکسیڈیٹو تناؤ کم کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ تجرباتی مطالعات میں ان مرکبات کے آنتوں میں موجود فائدہ مند بیکٹیریا پر مثبت اثرات بھی دیکھے گئے ہیں۔ یہ بیکٹیریا نظامِ ہاضمہ کی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سفید شکر قندی فائبر، توانائی اور مختلف معدنیات فراہم کرتی ہے، جبکہ جامنی شکر قندی میں مخصوص اینٹی آکسیڈنٹس زیادہ ہوتے ہیں۔
اگر آپ اپنی خوراک میں مختلف قسم کے فائدہ مند غذائی اجزا شامل کرنا چاہتے ہیں تو جامنی شکر قندی ایک اچھا انتخاب ہو سکتی ہے۔ اسے عام شکر قندی کی طرح ابال کر، بھون کر یا بھاپ میں پکا کر کھایا جا سکتا ہے۔ اضافی چینی یا زیادہ گھی شامل کرنے کے بجائے سادہ طریقے سے تیار کرنا بہتر ہے۔ اگرچہ اس میں قدرتی مٹھاس ہوتی ہے، لیکن اس میں نشاستہ بھی موجود ہوتا ہے، اس لیے ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی خوراک کے مطابق اس کی مقدار کا خیال رکھنا چاہیے۔
اگر آپ مہنگی بلیو بیری نہیں خرید سکتے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ جامنی شکر قندی بھی ایسے قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتی ہے جو بلیو بیری میں پائے جاتے ہیں۔ البتہ جامنی شکر قندی خریدتے وقت یہ یاد رکھیں کہ ہر قسم کی شکر قندی کے اپنے فوائد ہیں۔ اصل فائدہ کسی ایک مہنگی غذا میں نہیں بلکہ مختلف غذائیت بخش چیزوں کو متوازن انداز میں کھانے میں ہے۔