خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں دہشت گردی کے مقدمات کی تیز ترین اور محفوظ سماعت کے لیے فیس لیس عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان عدالتوں کے قائم کرنے کا مقصد ججوں، گواہوں، پولیس اہلکاروں اور مقدمات سے وابستہ دیگر افراد کی شناخت کو مکمل طور پر خفیہ رکھنا ہے تاکہ انہیں دہشت گردوں اور ان کی کارروائیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
اس اقدام کے ساتھ ساتھ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 70 ارب روپے کی لاگت سے ایک جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت پولیس میں موجود 17 ہزار خالی اسامیوں کو پُر کیا جائے گا، جبکہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی عملی صلاحیت کو 12 فیصد سے بڑھا کر 37 فیصد تک پہنچایا جائے گا۔
اس منصوبے کی مکمل فراہمی کے بعد خیبرپختونخوا پولیس کی مجموعی استعداد 75 فیصد تک پہنچ جائے گی، جس سے افرادی قوت، فنڈز اور جدید ٹیکنالوجی کی کمی کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔