انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی اب پاکستانی فضائی حدود استعمال نہیں کریں گے

انڈین وزیراعظم نریندر مودی آئندہ ہفتے کرغستان کے شہر بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے ایران اور عمان کے رستے جائیں گے۔ انڈین وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے دونوں امکانات کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔ AFPانڈین وزیراعظم مودی آئندہ ہفتے کرغستان کے شہر بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے چین میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستانی فضائی حدود کے استعمال کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔

پاکستان نے بالاکوٹ کے واقع کے بعد اپنی فضائی حدود تجارتی طیاروں کے لیے بند کر دی تھی۔ خبروں کے مطابق مودی کی پرواز کے لیے انڈیا نے پاکستان کی فصائی حدود سے پرواز کی اجازت مانگی تھی لیکن اب وزیر اعظم مودی پاکستان کی حدود کے بجائے ایک لمبے راستے سے کرغزستان جائیں گے۔

انڈین وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے دونوں آپشنز کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔

البتہ اس سے پہلے پاکستان میں دفتر خارجہ کے ایک اہلکار نے انڈیا کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی کے لیے فضائی حدود کھولنے کی درخواست کی تصدیق کی تھی۔ اہلکار کے مطابق پاکستان میں یہ درخواست فی الحال ’زیرِ غور‘ ہے اور اس پر حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

https://twitter.com/suhasinih/status/1138725271153008641

یہ بھی پڑھیے

انڈیا پاکستان کشیدگی سے فضائی کمپنیاں اور مسافر پریشان

انڈین فضائیہ: کراچی سے اڑنے والا طیارہ جے پور اتار لیا گیا

پاکستان نے فضائی حدود کمرشل پروازوں کے لیے بند کر دی

واضح رہے کہ انڈین حکومت نے پاکستان سے درخواست کی تھی کہ وہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے جہاز کو 13 جون کو پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دے۔ اس ضمن میں ملک میں انڈین ہائی کمیشن نے باضابطہ درخواست بھیجی تھی۔

تاہم انڈین ہائی کمیشن کے ایک اہلکار نے اس سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ آپریشنل معلومات ہیں جو وہ شیئر نہیں کرسکتے۔‘

انڈین وزیراعظم مودی آئندہ ہفتے کرغستان کے شہر بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیر اعظم عمران خان بھی اس اہم اجلاس میں شریک ہوں گے تاہم دونوں سربراہان کے درمیان باضابطہ ملاقات تاحال طے نہیں ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان نے اس سے قبل رواں برس مئی میں انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج کے طیارے کے لیے اس وقت فضائی حدود کھولی تھی جب وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک جا رہی تھیں۔

پاکستان میں دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس وقت انڈیا کی جانب سے طویل مسافت سے بچنے کے لیے پاکستان سے اس کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ فروری میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پلوامہ میں انڈیا کے نیم فوجی دستے پر خودکش حملے، بالاکوٹ میں انڈین طیاروں کی بمباری اور پھر پاکستان کی جانب سے انڈین جنگی طیارہ گرائے جانے کے واقعات کے بعد دونوں ملکوں میں کشیدگی کے باعث پاکستان کی فضائی حدود تمام کمرشل اور نجی پروازوں کے لیے بند کر دی گئی تھی۔

اس کے کچھ عرصے بعد ملک کی دیگر فضائی حدود تو آپریشنل کر دی گئی تاہم انڈین سرحد کے ساتھ یعنی مشرقی فضائی حدود تاحال ایئر ٹریفک کے لیے بند ہے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ پاکستان کی مشرقی فضائی حدود 14 جون تک بند رہے گی۔

اسپابندی سے سب سے زیادہ متاثر یورپ سے جنوب مشرقی ایشیا کی جانب آنے والی وہ عالمی پروازیں ہوئی ہیں جو انڈین ایئر سپیس استعمال کرتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں جہاں فضائی کمپنیوں کے اخراجات بڑھ گئے ہیں وہیں پروازوں کا دورانیہ بھی بڑھا ہے اور کئی پروازیں جو نان سٹاپ تھیں اب انھیں ایندھن کے لیے رکنا پڑتا ہے جس کے مزید اخراجات ہیں۔

اس بندش سے سب سے زیادہ متاثر پاکستان کے ہمسایہ ممالک ہو رہے ہیں جن کی مختصر دورانیے کی پروازوں کو اب ایک طویل راستے سے گزر کر جانا ہوتا ہے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.