کملہ ہیرس امریکہ کی صدارتی نامزدگی کی دوڑ سے دستبردار

واشنگٹن — 

ڈیموکریٹک پارٹی کی سینیٹر کملہ ہیرس نے 2020ء کے صدارتی انتخاب کے لیے نامزدگی حاصل کرنے کی مہم ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

اپنے حامیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کملہ ہیرس نے ایک تحریری نوٹ میں کہا، ’’گزشتہ چند روز سے میں نے صورت حال پر ہر زاویے سے غور کیا ہے اور اپنی زندگی کے مشکل ترین فیصلے پر پہنچی ہوں۔ میری صدارتی انتخابی مہم کے لیے اس قدر مالی وسائل دستیاب نہیں ہیں اس لیے میں یہ مہم جاری نہیں رکھ سکتی۔‘‘

ہیرس نے اس سال جنوری کے سخت سرد دن 20 ہزار حامیوں کی موجودگی میں انتخابی مہم کا آغاز کیا تھا۔

وہ کیلی فورنیا کی تاریخ کی پہلی سیاہ فام خاتون اٹارنی جنرل اور امریکی سینیٹر ہیں۔

انھیں عوام کی جانب سے خاصی پذیرائی ملی، خاص طور پر ان ووٹروں کی طرف سے جنھوں نے براک اوباما کو وائٹ ہاؤس پہنچنے میں مدد کی تھی۔

کملہ ہیرس نے پہلے تین ماہ کے دوران انتخابی مہم کے لیے ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا فنڈ اکٹھا کیا۔ عطیہ دہندگان نے انھیں اپنی ریاست میں رقوم فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے پرائمری مقابلے میں کیلی فورنیا کی ریاست کے سب سے زیادہ ڈیلیگیٹ ہوتے ہیں۔

تاہم جوں جوں زیادہ امیدوار میدان میں آتے گئے، ہیرس کی فنڈ ریزنگ آگے نہ بڑھ سکی۔

روایتی عطیہ دہندگان کی جانب سے ان پر اتنا دھیان نہیں دیا گیا جتنی عنایت پیٹ بٹگیگ کے معاملے میں سامنے آئی، یا پھر شعلہ بیان الزبیتھ وارن اور برنی سینڈرز کی حمایت میں رقوم فراہم کی جاتی رہیں۔

کملہ ہیرس کے اتحادیوں اور ناقدین کا الزام تھا کہ ان کا پیغام متضاد ہے۔

ان کا نعرہ ’فور دی پیپل‘ ان کے وکالت کے پیشے سے مطابقت رکھتا تھا لیکن کشش سے خالی گردانا گیا جس سے پارٹی کے ترقی پسند ووٹروں کی جدوجہد نہیں جھلکتی تھی۔

موسم گرما کے دوران انھوں نے اپنے ایجنڈے اور پیغام میں تبدیلی کی بات کی۔

لیکن نئے نعرے نے ووٹروں میں پذیرائی حاصل نہیں کی۔ موسم خزاں آتے ہی انھوں نے اپنے دائرہ کار کو وکالت کے شعبے کے اپنے حامیوں تک محدود کردیا۔

انھوں نے ’بیلٹ پیپر میں انصاف‘ برتنے کا نعرہ بھی لگایا جس کی اساس معاشی اور سماجی انصاف کے پہلو تھے؛ یا پھر یہ کہ وہ مبینہ ’مجرمانہ‘ نوعیت کے حامل اقدامات میں ملوث صدر کو انصاف کے کٹہرے تک لانے میں کامیاب ہوجائیں گی۔ لیکن ان کی مہم میں جان نہ پڑسکی اور آخر آج انھوں نے نامزدگی حاصل کرنے کی دوڑ سے دست بردار ہونے کا اعلان کردیا۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.