انڈیا اور نیپال میں تباہ کن بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے 116 افراد ہلاک

image
انڈیا اور نیپال میں تباہ کن بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 116 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ جبکہ متعداد افراد لاپتہ بھی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ریاست اترکھنڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں 46 افراد ہلاک اور 11 لاپتہ ہوئے ہیں۔

اترکھنڈ میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے 30 کی ہلاکت منگل کو نینتال کے علاقے میں ہوئی جب کراؤڈ برسٹ کی وجہ سے شدید بارش ہوئی اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کئی عمارتیں گر گئیں۔

مقامی افسر پرادیپ جیئن نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے پانچ افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔

اترکھنڈ کے ضلع المورہ میں پانچ افراد اس وقت ہلاک ہوئے جب لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پتھر اور مٹی کے تودے ان کے گھر پر آن گرے۔

پیر کو اس ہمالین ریاست کے دو دوردراز علاقوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جنوبی ریاسٹ کیرالا میں وزیر اعلیٰ پنارائی وجین کا کہنا تھا کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد 39 تک پہنچ گئی ہے۔

انڈیا کے محکمہ موسمیات نے منگل کو انتباہ جاری کیا تھا جس میں موسلادھار بارش کی پیشن گوئی کی گئی تھی۔

انڈیا کے محکمہ موسمیات نے منگل کو انتباہ جاری کیا تھا جس میں موسلادھار بارش کی پیشن گوئی کی گئی تھی۔ (فوٹو: اے ایف پی)

محمکہ موسمیات کا کہنا ہے کہ پیر کو کچھ علاقوں میں تقریباً 16 انچ بارش ہوئی جس کے نتیجے میں طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ ہوئی۔

حکام نے بارشسوں کے باعث سکولوں اور مذہبی سرگرمیوں کو بند کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

ٹیلی ویژن فوٹیج اور سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ویڈیوز میں لوگوں کو جھیل کے قریب گھٹنوں تک گہرے پانی سے گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ دریائے گنگا میں رشیکیش کے مقام پر پانی کنارے سے باہر آتا نظر آ رہا ہے۔

نیپال میں تین دن کی بارش کے نتیجے میں31 اموات ہوئی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

رام گڑھ میں دریائے کوسی کا پانی رہائشی علاقوں تک پہنچنے سے ایک ہوٹل میں ایک سو سے زائد سیاح پھنس گئے تھے۔

نیپال میں ڈیزاسٹر مینیجمنٹ ڈویژن کے اہلکار ہمکلا پانڈے کا کہنا ہے ’ملک بھر میں گذشتہ تین دنوں میں موسلادھار بارش کے نتیجے میں آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 31 اموات ہوئی ہیں جبکہ 43 افراد لاپتہ ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب بھی بہت ساری مقامات پر بارش ہورہی ہے۔ ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، اور ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔‘


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.