لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل پر گورنر سندھ کے اعتراضات

image
فوٹو: آن لائن

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سندھ اسمبلی سے منظور کیے گئے لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل پر دس اعتراضات لگا کر صوبائی اسمبلی واپس بھیج دیا۔

گورنر سندھ نے اعتراض کيا کہ ترمیمی بل آئین کے آرٹیکل 140 اے کے خلاف ہے، ڈی ایم سیز ختم کرنے اور ٹاؤنز بنانے سے انتظامی مسائل پيدا ہوں گے۔

اعتراضات لگایا کہ خفیہ رائے شماری بلدیاتی سطح پر ہارس ٹریڈنگ کا سبب ہوگی جبکہ غیرمنقولہ املاک پر ٹیکس نہ ملنے سے بلدیاتی کونسلز مالی بحران کا شکار ہوں گی۔

واضح رہے کہ 3 دسمبر کو پاکستان تحریک انصاف نے لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جبکہ جماعت اسلامی، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ن بھی ترمیمی بل کی مخالفت کی ہے۔

لوکل گورنمنٹ ایکٹ

سندھ حکومت نے 26نومبر کو لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء میں ترامیم منظور کی تھیں، جس کے تحت بلدیاتی نظام کا موجودہ ڈھانچہ تبدیل ہونے جا رہا ہے۔

ضلع میونسپل کارپوریشنز ڈی ایم سی کو ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز ٹی ایم سی میں تبدیل کیا جائے گا۔

ترمیم شدہ ایس ایل جی اے میں محکمہ تعلیم اور محکمہ لوکل ٹیکس (اشتہار) میٹروپولیٹن کارپوریشن کے تحت کام کریں گے۔

ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز ایس ایل جی او 2001 کی طرز پر کے ایم سی کے تحت کام کریں گی جہاں ٹاؤن انتظامیہ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی (سی ڈی جی کے) کے تحت کام کررہی تھی۔

بلدیاتی نظام میں ترامیم کے تحت ٹی ایم سی کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا، اور وہ آبادی کی مخصوص تعداد پر بنائی جائیں گی۔

ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کے ایم سی کے میئر کی اجازت سے ٹیکس اور فیسیں وصول کریں گی۔

ترامیم کے مطابق ٹیکس جمع کرنے کا اختیار میئر کے ہاتھ میں ہوگا، جو ٹی ایم سی کو ٹیکس اور فیس جمع کرنے یا نہ کرنے کی اجازت دیں گے جبکہ سندھ حکومت کے ایم سی پر کوئی بھی نیا ٹیکس لگانے کی مجاز ہوگی۔

شہری سندھ میں یونین کمیٹیاں جبکہ دیہی سندھ میں یونین کونسلز موجود رہیں گی۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.