بھارت متنازع علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیاں روک دے،نیپال

image

نیپال کے وزیراطلاعات گیانیندر بہادر کارکی کا کہنا ہے کہ بھارت دونوں ممالک کے درمیان متنازعہ علاقوں میں اپنی تمام تعمیراتی سرگرمیاں فوری طور پر روک دے۔

اتوار16 جنوری کو نیپالی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گیا نیندر بہادر کارکی کا کہنا تھا کہ لمپیادھورا، لیپولیکھ اور کالا پانی جیسے علاقے نیپال کا اٹوٹ حصہ ہیں اور بھارت پر زور دیا کہ وہ ان متنازعہ علاقوں میں اپنی تمام تعمیراتی سرگرمیاں روک دے۔

جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق نیپال کے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ دریائے کالی کے مشرق میں لمپیادھورا، لیپولیکھ اور کالاپانی جیسے علاقوں میں بھارت کی جانب سے سڑکوں کی تعمیر اور توسیع کا کام یکطرفہ طور پر ہو رہا ہے، جسے سفارتی سطح پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

بہادر کارکی کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نیپال بھارت پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ ان تمام یکطرفہ اقدامات، جیسے کہ نیپالی سرزمین سے گزرنے والی کسی بھی سڑک کی تعمیر اور توسیع کو روکے دے۔

انہوں نے کہا کہ نیپال کی حکومت دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعہ کو تاریخی معاہدوں، دستاویزات اور نقشوں کی بنیاد پر مطابق حل کرنے کے لیے پر عزم ہے۔

وزیراطلاعات گیانیندر بہادر بھارت پر زور دیا کہ وہ ان علاقوں میں تعینات اپنے فوجیوں کو فوری طور پر واپس بلا لے اور تاریخی حقائق اور شواہد کی بنیاد پر اعلیٰ سطحی بات چیت کے ذریعے سرحدی تنازعے کو خوش اسلوبی سے حل کرے۔

خیال رہے کہ اس وقت نیپال کے کئی علاقوں میں بھارت کی طرف سے سرحد پر ہونے والی سڑک کی تعمیر کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ جمعے کے روز حکمراں نیپالی کانگریس نے ایک بیان جاری کر کے لیپولیکھ کے راستے میں سڑک کی تعمیر کی مخالفت کی تھی۔

واضح رہے کہ بھارتی ریاست اترا کھنڈ میں سرحد سے ملحقہ لیپو لیکھ، کالا پانی اور لمپیا دھورا کے علاقوں کے حوالے سے بھارت اور نیپال کے درمیان تنازعہ کافی پرانا ہے۔

سن 2020 کے وسط میں نیپال نے اس حوالے سے اپنا ایک نیا نقشہ بھی منظور کیا تھا جس میں ان تمام علاقوں کو نیپال کا حصہ دکھایا گیا تاہم بھارت ان علاقوں پر اپنا دعوی کرتا ہے اور اس نے اس پر سخت اعتراض بھی کیا تھا۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.