انڈین صحافی محمد زبیر ’مذہبی منافرت پھیلانے‘ کے الزام میں گرفتار

image
 انڈین پولیس نے فیکٹ چیکنک ویب سائٹ ’آلٹ نیوز‘ کے شریک بانی اور صحافی محمد زبیر کو دہلی میں گرفتار کر لیا ہے۔

انڈین میڈیا کے مطابق محمد زبیر کو پیر کو دہلی پولیس نے مذہبی جذبات کو ٹھیس کو پہنچانے اور منافرت پھیلانے کے الزام میں حراست میں لیا۔

فیکٹ چیکنگ ویب سائٹ کے شریک بانی پراتیک سنہا نے کہا ہے کہ ’زبیر کو آج سپیشل سیل نے 2020 کے ایک کیس میں طلب کیا تھا جس پر ہائی کورٹ پہلے ضمانت قبل از گرفتاری دے چکی ہے۔‘

Please note. pic.twitter.com/gMmassggbx

— Pratik Sinha (@free_thinker) June 27, 2022

’تاہم آج شام سات بجے کے قریب ہمیں بتایا گیا کہ انہیں ایک اور کیس میں گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس حوالے سے کوئی نوٹس بھی نہیں دیا گیا جو ضروری ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ بار بار درخواست کرنے کے باوجود ہمیں ایف آئی آر کی کاپی نہیں دی جا رہی۔‘

محمد زبیر پر انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 153 اور 295 اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کا مطلب لوگوں کو ہنگامے پر اکسانا اور جان بوجھ کر مذہبی منافرت پھیلانا ہے۔

آلٹ نیوز کی بنیاد 2017 میں رکھی گئی تھی اور اس کا شمار دنیا کی معروف ترین فیکٹ چیکنگ ویب سائٹس میں ہوتا ہے۔ اس کے بانی کئی برسوں سے دائیں بازو کے گروپس، آن لائن ٹرولنگ اور پولیس کیسز کا سامنا کرتے آ رہے ہیں۔

کانگریس رہنما ششی تھرور نے محمد زبیر کی گرفتاری کو ’سچ پر حملہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’آلٹ نیوز سمیت انڈیا کی فیکٹ چیکنگ سروسز  غلط معلومات سے بھرے اس ماحول میں میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ جو کوئی جھوٹ پھیلاتا ہے وہ اس کی حقیقت سامنے لاتے ہیں۔‘

India’s few fact-checking services, especially @AltNews, perform a vital service in our post-truth political environment, rife with disinformation. They debunk falsehoods whoever perpetrates them. To arrest @zoo_bear is an assault on truth. He should be released immediately.

— Shashi Tharoor (@ShashiTharoor) June 27, 2022

’محمد زبیر کو گرفتار کرنا سچ پر حملہ ہے۔ انہیں فوری طور پر رہا ہونا چاہیے۔‘

واضح رہے کہ محمد زبیر نے پیغمبراسلام کے بارے میں توہین آمیز تبصرہ کرنے والی بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کا ویڈیو کلپ ٹوئٹر پر شیئر کیا تھا اور نوپور شرما کی مذمت کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ نوپور شرما اور ٹی وی پروگرام کے میزبان نفرت پھیلا رہے تھے۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
عالمی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.